مشرق وسطی

امام بارگاہیں کویت کی تاریخ کا حصہ ہیں

wahadat

 

اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "فوزیة سالم الصباح” نے کویتی روزنامے "الرأی” میں چھپنے والے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ گذشتہ دو صدیوں سے محرم اور صفر کے مہینوں میں حسینیات اور امام بارگاہوں کو سیاہ کپڑوں اور پرچموں سمیت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی نشانیوں سے سجایا جاتا ہے اور نیک افراد ان ایام کی تکریم و تعظیم کی خاطر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

 

فوزیة سالم الصباح نے کویت میں سیدالشہداء علیہ السلام کی عزاداری کی تاریخ کے بارے میں لکھا ہے: سید علی خباز نے سنہ 1815 میں الشرق کے علاقے میں عزاداری کی پہلی مجلس کا اہتمام کیا اور سنہ 1905 میں محمد حسین نصر اللہ نے باضابطہ طور پر پہلی امام بارگاہ کی بنیاد رکھی اور اس حسینیہ کی سرگرمیاں ہر سال محرم و صفر میں جاری ہیں۔

فوزیہ الصباح نے مزید لکھا ہے: سنہ 1916 میں شيخ «مبارك الصباح»، «ابراہيم محمدعلي معرفي»، «عبدالكريم معرفي»، «علي أسطى بہبہاني» اور «عبدالكريم أبل» کے سرمائے سے "حسینیہ الخزعلیة” کی بنیاد رکھی گئی.

انھوں نے کویت کی تاریخ میں ان حسینیات کے تہذیبی و ثقافتی کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: امامبارگاہیں بننے کے بعد مجالس عزاداری کے انعقاد اور حکومت اور عوام کی بے دریغ مالی اور اخلاقی حمایت سے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کویت کی تہذیبی ورثے میں تبدیل ہوگئی.

کویت کی اس مشہور محققہ اورمؤلفہ نے اپنے مضمون میں مجالس عزاداری میں مختلف اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کی وسیع شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزاداری کو کویتی مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد اور اختلافات کے حل کا موجب قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close