متفرقہ

امام حسین (ع) پرگریہ

2

 

حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ محرم وہ مہینہ ہے جس میں زمانۂ جاہلیت میں بھی جنگ روا نہ تھی لیکن اس مہینے میں دشمنوں نے ناحق ہمارا خون بہایا ہماری حرمت کو پامال کیا ہماری عورتوں اور بچوں کو اسیر کیا اور ہمارے خیموں کو آگ لگا کر انھیں لوٹ لیا اور اس کام میں انھوں نے رسول خدا(ص) کی حرمت کا بھی پاس نہ رکھا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ محرم وہ مہینہ ہے جس میں زمانۂ جاہلیت میں بھی جنگ روا نہ تھی لیکن اس مہینے میں دشمنوں نے ناحق ہمارا خون بہایا ہماری حرمت کو پامال کیا ہماری عورتوں اور بچوں کو اسیر کیا اور ہمارے خیموں کو آگ لگا کر انھیں لوٹ لیا اور اس کام میں انھوں نے رسول خدا(ص) کی حرمت کا بھی

 پاس نہ رکھا۔عاشورا نے ہماری پلکوں کو زخمی کر دیا اور ہماری آنکھوں سے آنسو جاری کر دئے ۔ہمیں سر زمین کرب و بلا سے وراثت میں مصائب و آلام کے سوا اور کچھ نہ ملا اس لئے رونے والوں کو حسیبن بن علی علیہ السلام جیسے شہید پر رونا چاہئے ۔

 

امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :ہر طرح کی گریہ و زاری ناپسندیدہ اور مکروہ ہے سوائے امام حسین پر گریہ کرنے کے ،اور شہید مطہری کے بقول شہید پر گریہ کرنا اس کی نہضت میں شامل ہونا اور اس کی تحریک میں اس کی ہمراہی کے مترادف ہے ۔

امام حسین(ع) اپنی رأفت و رحمت ،حلم و عفو اور علم و ادب کی بنا پر مسلمانوں کے محبوب تھے اور اپنی شہادت کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے انسانوں کے دل کے مالک بن گئے اور اگر امام حسین (ع) مجبور و لاچار کی طرح خود کو یزید کے حوالے کر دیتے تو آج کوئی ان کا نام لینے والا نہ ہوتا۔

۔تاریخ شاہد ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے سب سے پہلے عزادار وہ لوگ تھے جو کاروان کربلا میں آپ کے ہمراہ تھے اور اسیر ہو کر شام تک گئے ،امام حسین علیہ السلام پر سب سے پہلا مرثیہ زوجہ رسول(ص) جناب ام سلمہ (رض) نے پڑھا ان کا شمار اپنے زمانے کی عظیم خواتین میں ہوتا تھا۔ان کے شوہر ابوسلمہ جنگ احد میں زخمی ہوئے اور شہید ہو گئے اور جنگ احزاب سے پہلے پیغمبر (ص) کی زوجیت میں آ گئیں اور حضرت فاطمہ زہرا(س) کی سرپرستی اپنے ذمہ لی اور پھر امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے بعد اس بچہ کی تربیت کی ذمہ داری بھی آپ پر تھی۔ وہ معاویہ کی سرسخت مخالف تھیں اور انھوں نے ایک خط لکھ کر امیرالمومنین(ع) پر ہونے والے سب و شتم پر معاویہ کی سخت ملامت اور سرزنش کی ۔

امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے نکلتے وقت امامت کی نشانیوں کو حضرت ام سلمہ کے حوالے کیا تاکہ جب امام زین العابدین(ع) اسے طلب کریں تو اس سے امام چہارم کی امامت واضح ہو جائے،پیغمبر(ص) کا علم ،اسلحہ اور امامت کی امانتیں ان نشانیوں میں سے تھیں جن کو امام سجاد (ع) کی واپسی پر ام سلمہ(س) نے ان کے حوالے کیا ۔

واقعہ عاشورا سے قبل پیغمبر اکرم (ص) نے ام سلمہ سے اس واقعے کی روداد بیان فرمائی اور ایک شیشہ میں کربلا کی خاک ام سلمہ کو یہ کہہ کر دی تھی کہ جس وقت یہ خاک خون میں تبدیل ہو جائے سمجھ لینا میرا فرزند حسین (ع)کربلا میں شہید کر دیا گیا ۔

جس وقت ام سلمہ نے دیکھا کی وہ خاک خون میں تبدیل ہو گئی تو نالہ و شیون کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ پڑوسیوں نے آکر سبب دریافت کیا تو آپ نے ان سے کربلا کے واقعہ کو بیان فرمایا ۔واقعہ کربلا کے بعد آپ نے شہداء پر عزاداری کا سلسلہ جاری رکھا اور بنی ہاشم پیغمبر(ص) کی اس تنہا ہمسر کو تسلیت دینے کے لئے ان کے گھر آتے تھے ،اور اس کے بعد آئمہ اطہار (ع) نے اس عزاداری کو برقرار رکھا ۔

آج امام حسین (ع) کی عزاداری کا سلسلہ پوری دنیا میں بڑی عزت و احترام کے ساتھ جاری ہے اور یہ سلسلہ صبح قیامت تک جاری رہےگا۔

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close