یمن

سعودی یمنی افواج اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام :یمنی مجاہدین

"محمد عبدالسلام” نے جمعہ کے روز العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: جنگ ملاحیط کے علاقے میں "جبل الدخان”، "جبل الرميح” و "جبل مدود” کے ارد گرد جاری ہے اور "الحصامہ”، "بني صياح”، الملاحيط اور الملاحیط کے پہاڑی علاقے میزائلوں اور فضائیہ کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور یمن کے ہوائی جہازوں نے "المقاش”، "العند” اور "القملہ” سمیت شہر "ضحيان” پر حملے کئے ہیں. 

انھوں نے کہا کہ سعودی فوج اب تک اپنا ایک ہدف بھی حاصل نہیں کرسکی ہے اور اس وقت یمن کی آبادی کی ایک بڑے حصے پر جنگ مسلط کی گئی ہے جبکہ یہ لوگ صرف اپنے حقوق کا دفاع کررہے ہیں.


 

 

عبدالسلام نے کہا: ہمارے مطالبات منصفانہ ہیں اور ظلم، تکبر اور تسلط پسندی مسئلے کا حل نہیں ہے. 

انھوں نے کہا: سعودی عرب کو اپنی سرزمین سے یمنی افواج کو حوثیوں پر حملوں کی اجازت نہیں دینی چاہئے.

عبدالسلام نے مزید کہا: سعودی افواج کی اکثریت یمن کی سرزمین سے پسپا ہوگئی ہے اور جھڑپیں جبل الرمیح کے آس پاس تک محدود ہوگئی ہیں اور باقی پہاڑیاں کلیئر کی گئی ہیں.

انھوں نے کہا: سعودی عرب نے کہا ہ کہ وہ یمن کی شمال میں ایک بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے اور حوثیوں کو دسیوں کلومیٹر یمن کی اندر تک دھکیلنا چاہتا ہے لیکن یہ منصوبہ ناکام ہوگیا ہے.

شیعہ مجاہدین کے ترجمان نے سعودی عرب کا یہ دعوی مسترد کیا کہ مجاہدین نے سعودی سرزمین میں دراندازی کی ہے اور کہا کہ دراندازی کرنے والے کسی ملک کے فوجیوں کو گرفتار نہیں کرسکتے جبکہ یمنی مجاہدین کے ہاتھوں سعودی فوجیوں کی گرفتاری سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی فوجی یمن کی سرزمین میں دراندازی اور جارحیت کے مرتکب ہوئے ہیں.

انھوں نے کہا: ہمارے پاس موجودہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی جارحیت کے لئے "الملاحيط، سيدا اور الحصامہ” کے نقشے اپنی فوج کے حوالے کردیئے ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان علاقوں پر جارحیت کرنا چاہتا ہے اوراس جارحیت کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا جبکہ حوثی مجاہدین سعودی عرب میں داخل نہیں ہوتے سوائے اس کے کہ انہیں اپنے دفاع کے لئے ایسا کرنا پڑے.

عبدالسلام نے کہا: جنگ صرف مذاکرات کے ذریعے بند ہوا کرتی ہے اور گھِسم گھِسا کی جنگ (WAR OF ATTRITION) بہت طویل ہوگی چنانچہ سعودی فوج کے بھاری جانی اور مالی نقصانات اور ان کے بہت سے فوجیوں کی حوثی مجاہدین کی ہاتھوں گرفتاری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ سعودی فوجی قوت کے باوجود قلیل المدت نہ ہوگی.

انھوں نے کہا: سعودی افواج نے اپنی تمامتر توانائی، افواج، فوجی سازوسامان اور سپیشل فورسز کو اس جنگ میں جھونک دیا ہے۔

شیعیان یمن کے ترجمان نے کہا: علاقے میں امن و استحکام صرف اسی صورت میں عملی جامہ پہن سکتا ہے کہ

1. گفتگو اور مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close