کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
یمن

حوثی قبائل کے ساتھ جنگ! یمن کی تقسیم کا پیش خیمہ


yement1

03.12.2009 اس وقت نہ صرف اہل تشیع کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ یمن کا اقتدار اعلی بھی محفوظ نہیں رکھا جا سکے گا سعودی عرب اور یمن کے زمینی تنازعات اور اس کے نتیجے میں سیاسی کچھاؤ! اس خطے کے مسائل سے آگاہ لوگوں پر عیاں تھا اور ریاض و صنعا نے کبھی اس کو چھپایا بھی نہیں لیکن صوبہ صعدہ کے حوثی قبائل کے خلاف جنگ میں سعودی عرب جتنی دلچسپی دکھا رہا ہے وہ بلاشبہ خاص معنی اور مفاہیم رکھتی ہے۔ بادی النظر میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ جیسے سعودی عرب صعدہ صوبے کے باشندوں کے خلاف یمن کی حکومت کا ساتھ صرف اس لئے دے رہا ہے کہ صعدہ کے رہنے والے شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ لیکن اگر اس مسئلے میں تھوڑا سے غور کیا جائے تو جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی شیعہ دشمنی اپنی جگہ مسلم ہے لیکن وہ اس جنگ میں یمن کا ساتھ دے کر در اصل خانہ جنگی کی اس آگ کو بھڑکائے رکھنا چاہتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ خانہ جنگي کا یہ عمل یمن کے وفاق اور قومی اتحاد کو متاثر کرے گا اور اس صورت میں صنعا کی کمزور حکومت پر حاوی ہونا ریاض کے لئے زيادہ آسان ہوگا۔ حقیقت امر یہ ہے کہ صعدہ صوبے کے مقامی باشندے سیاسی و سماجی لحاظ سے بہت زيادہ پسماندہ رکھے گئے ہیں اور ان کی تحریک مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ اپنے ان جائز حقوق کے لئے ہے جو بحیثیت ایک شہری کے انہیں حاصل ہونے چاہئے ؛ اسی لئے وہ مسئلے حل کے لئے بارہا مذاکرات اور بات چیت کے لئے اپنی آمادگي کا اعلان کرچکے ہیں ۔ سعودی عرب کے علاوہ ایک اور عنصر جو یمن کی خانہ جنگی میں دلچسپی رکھتا ہے وہ امریکہ ہے۔ چنانچہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ کے آپریشنل کمانڈر ویلیم میک راون کے یمن کے دورے کے بعد حوثی قبائل کے ٹھکانوں پر حملوں میں شدت آگئی ہے ۔ اگرچہ یمن کی فوج کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے اور یمن کے فوجی اپنے حملوں میں سعودی عرب کی سرزمین بھی استعمال کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود حوثی قبائل نہایت بے جگری کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور تازہ جھڑپوں میں یمنی فوج کو کافی زيادہ جانی اور مالی نقصان پہنچاہے۔ بہرحال یمن کی خانہ جنگی ایک المیے میں بدل چکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کی خانہ جنگی کے متاثرین کے لئے امداد فراہم کرے ۔اقوام متحدہ نے تئیس ملین سات لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا جس میں سے اب تک صرف تین ملین پانچ لاکھ ڈالروں کی فراہمی کا وعدہ کیا گيا ہے ۔ بہرحال یمن میں خانہ جنگی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال جاری رہنے سے یمن کا استحکام اور اس کی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی اور یہ وہی چیز ہے جوامریکہ اور سعودی عرب کے پیش نظر ہے لیکن حکومت صنعا حوثی قبائل کی مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دے رہی اور یوں نہ صرف اہل تشیع کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ یمن کا اقتدار اعلی بھی محفوظ نہیں رکھا جا سکے گا۔ بشکریہ از: ریڈیو تہران

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close