یمن

یمن کی خانہ جنگی اور سامراجی مقاصد


saudia

05.12.2009 الحوثی قبائل کے خلاف جاری جنگ میں سعودی عرب کے مفادات سے زیادہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی تکمیل ہو رہی ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو ملک قدس کے غاصبوں کے خلاف منہ سے ایک کلمہ بولنے کو تیار نہیں وہ ملک ایک ایک دن درجنوں بار اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے صعدہ کے بے گناہ شہریوں پر بمباری کر رہا ہے غزہ کے بے گناہ شہریوں پر قدس کے غاصب فوجیوں کے حملوں کو فلسطینیوں کا داخلی معاملہ قرار دینے والے کس منہ سے یمن کے داخلی امور میں فوجی مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ اس کا جواب شاید حکومت ریاض نہ دے سکے لیکن آل سعود کا ماضی اگر سامنے رکھا جائے تو یہ بات زیادہ تعجب خیز نظر نہیں آتی اس لئے کہ حجاز مقدس پر ایک خاندان کی حکومت کے قیام کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا کہ یہاں سامراجی اہداف اور مفادات کو کوئی ضرب نہ پہنچے اور یہ مشن آل سعود نے جس خوبصورتی سے نبھایا ہے اس پر امریکہ اور دیگر سامراجی ملکوں کی جانب سے ہمیشہ ہی ریاض حکومت کی پٹھ ٹھونکی جاتی رہی ہے ۔یہ بالکل سامنے کی سی بات ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک،جمہوریت،ڈیموکریسی اور آزادی بیان کا کتنا زیادہ پرچار کرتے ہیں اور اس کے بہانے دوسرے ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت اور حتی فوجی حملوں کو اپنا حق گردانتے ہیں لیکن سرزمین مقدس حجاز پر قابض ایک خاندان کی حکومت کے معاملے میں وہ ایسے چپ سادھ ہوئے ہیں جیسے وہاں کوئی بڑی جمہوری حکومت ہو۔ البتہ بادشاہت کئی ایک ملکوں میں اپنی پوسیدہ اور روایتی حالت میں آج بھی قائم ہے اور ایک ہی خاندان نسل در نسل حکومت کرتا چلا آرہا ہے، لیکن آل سعود کامعاملہ ان سب سے مختلف ہے ۔ اس خاندان نے سرزمین حجاز پر اپنی مالکیت جتانے کے لئے اس کا نام تک اپنے نام پر کر ڈالا لیکن مغرب میں کسی کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہوا ۔ البتہ مغرب کی بھی اپنی نرالی منطق ہے۔ ان کے آزادی، ڈیموکریسی اور جمہوریت کے نعرے اس وقت تک سنائي دیتے ہیں جب تک ان کے مفادات سے ہماہنگ ہوں اور جہاں ان کے مفادات خطرے میں پڑے وہاں وہ اپنے ہی ہاتھوں سے جمہوریت، آزادی بیان اور ڈیموکریسی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔چنانچہ الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی حکومت کا خاتمہ اور فلسطین میں تحریک حماس کی حکومت کے خلاف مغرب والوں کی محاذ آرائی اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ بہرحال اس وقت ایک پوری قوم کی نسل کشی کی جا رہی ہے بالکل اسی طرح جس طرح بوسنیا ہرزہ گوینا میں کی گئی، یہاں بھی چونکہ مغرب کے مفادات کو کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا سعودی عرب کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے کہ وہ اپنے سلفی اور تکفیری نظریات کے مخالفین کو تہس نہس کر دے۔ صعدہ یمن کا وہ صوبہ ہے جہاں غربت اور افلاس برسہا برس سےاپنے ڈیرے جمائے ہوئے ہے، یوں تو خود یمن، عرب دنیا کا انتہائي غریب ترین ملک ہے لیکن صعدہ وہ صوبہ ہے جو یمن کا انتہائي محروم اور غریب صوبہ شمار ہوتا ہے،صوبہ صعدہ کے لوگ اپنی غربت ناداری اور محرومی کی وجہ حکومت کی پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں اور برسہا برس سے حکومت سے اپنے حقوق کی بحالی اور معاشی حالت کی بہتری کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ چنانچہ تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت جب وہ سڑکوں پر نکلے تو یمن کی مرکزی حکومت  نے ان کے مطالبات پر توجہ دینے کی بجائے طاقت کے استعمال پر اپنی توجہ مرکوز کی،انہیں خاک و خوں میں غلطاں کئے جانے کا عمل، علی عبداللہ صالح کی حکومت کے معمولات میں شامل ہو گیا۔ جوابا” الحوثی قبائل نے بھی اپنے دفاع میں ہتھیار بند ہونے کا فیصلہ کیا۔ یوں یمن کا جنوبی علاقہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب اس جنگ میں کیوں کود پڑا ؟ اس کے کیا مفادات ہیں ؟ امر واقع یہ ہے کہ جب سے جنوبی اور شمالی یمن ایک ہوئے ہیں سعودی عرب اس اتحاد سے ناخوش اور نالاں رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب ایک مضبوط اور متحدہ یمن کو اپنے مفادات کے ساتھ متصادم پاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک طاقتور یمن کے ساتھ اپنے زمینی تنازعے کو اپنے پیش نظر نتیجے کے ساتھ ہرگز حل نہیں کرسکتا، لہذا وہ ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہا ہے کہ جسطرح بھی ممکن ہو یمن کے اتحاد کو نقصان پہنچایا جائے ۔چنانچہ صعدہ صوبے کے الحوثی قبائل کی شورش کو اس نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے مناسب پایا اور اس بہانے کہ وہ یمن کی مرکزی حکومت کا حامی ہے اور الحوثی قبائل کی شورش ختم کرنا چاہتا ہے، میدان میں کود پڑا اور اس جنگ کا دائرہ پھیلا دیا جو ایک محدود علاقے میں الحوثی قبائل اور یمن کی سرکاری فوج کے درمیان جاری تھی، البتہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اس جنگ میں جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے سعودی عرب، بیک وقت دو مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اس کا پہلا مقصد تو یمن کو کمزور کرنا ہے اور دوسرا ہدف الحوثی قبائل کو جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اپنے نظریاتی مخالفین کی حیثیت سے نابود کرنا ہے ۔ البتہ ایک اور بڑا ہدف جو اس خانہ جنگي سے سعودی عرب حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امریکی مفادات کی تکمیل ہے۔ یوں تو اس خطے کے کئی ایک عرب اور اسلامی ملک امریکی مفادات کی نگرانی اور تحفظ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں لیکن ان سب میں سعودی عرب کا کردار انتہائی نمایاں اور اہم ہے، البتہ اپنے اس کردار کو سعودی شاہی خاندان نے کبھی پنہاں نہیں رکھا اور نہ امریکہ اور مغرب کے ساتھ آل سعود کی دوستی کو خفیہ رکھا جاتا ہے لیکن اب حالات کچھ بدل رہے ہیں اسلامی اور عرب دنیا کے عوامی اور خصوصا” دانشور طبقے نے حقائق کو برملا کرنا شروع کر دیا ہے اور بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اس وقت جو کچھ طالبان اور القاعدہ کے نام پر ہو رہا ہے،اور جس انداز میں یمن کی خانہ جنگي کو ایک بڑی جنگ میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا مقصد صرف صرف قدس کی غاصب صیہونی حکومت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب آل سعود کا خاندان اس طرح سامراج کی خدمت نہیں کر سکتا جس طرح ماضی میں کرتا رہا ہے۔آج کا دور میڈیا کا دور ہے اور اس پر سامراجی تسلط ہونے کے باوجود،حقائق کا کچھ نہ کچھ حصّہ لوگوں کے کانوں تک پہنچ ہی جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close