یمن

شیعیان یمن کا قتل عام استکباری فتنوں کا پیش خیمہ

yemen-victim

2009.12.13

ایرانی رکن پارلیمان نے کہا کہ وہابی مفتیوں نے غزہ کے مسلمانوں کی مدد کی حرمت اور اہل تشیع کے خون کی مُباحِیَت اور شیعیان یمن کے قتل عام کا فتوی دے کر صہیونی وہابیت کا چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔  

مجلس شورائے اسلامی میں فلاورجان شہر کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین سیدناصر موسوی لارگانی نے "آیندہ روشن” کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے صعدہ میں حالیہ سعودی جنگی جرائم اور اس علاقے کے نہتے شہریوں کے خلاف فاسفورس بموں، زہریلے ہتھیاروں اور ہر قسم کے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

 اب موقع ہے کہ بین الاقوامی ادارے جو کبھی تو انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے منشیات کے اسمگلر کو دہشت گرد قرار دینے پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں، یمن کی طرف بھی ایک نظر ڈالیں اور اور یمن کی خونی صورتحال کا بھی جائزہ لیں۔

 

انھوں نے کہا: ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ افغانستان، عراق، پاکستان اور یمن میں دہشت گردوں کا اصل نشانہ علاقے کے پیروان اہل بیت ہیں اور وہ اس علاقے میں مذہبی جنگ کا آغاز کرانا چاہتے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب بھی دہشت گرد وہابی مفتیوں کی طرف سے دہشت گردی کا کوئی فتوی جاری ہوتا ہے تو شیعہ علاقوں میں ہی ان فتؤوں پر علمدرآمد کیا جاتا ہے۔

انھوں نے گذشتہ کئی برسوں کے دوران علاقے میں بعض اہم واقعات پر وہابی مفتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہابی مفتیوں نے لبنان کی 33 روزہ جنگ میں فتوی دے کر مسلمانوں کی مدد کو حرام قرار دیا؛ غزہ پر صہیونی ریاست نے یلغار کردی تو وہابی مفتیوں نے فتوی دے کر مسلمانوں کی امداد کو حرام قرار دیا اور ساتھ ہی انھوں اہل تشیع کا خون اور ان کا قتل عام جائز قرار دیا اور حال ہی میں انھوں نے فتوی دے کر شیعیان یمن کا قتل عام جائز قرار دیا اور ہم جب ان سب فتؤوں کو ملا کر دیکھتے ہیں تو صہیونی وہابیت کا چہرہ مکمل طور پر بے نقاب ہوکر سامنے آتا ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ میں صوبہ اصفہان کے شہر فلاورجان کے نمائندے نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران اہل سنت کے علمائے کرام سے بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ علاقے میں وحدت مسلمین کو نشانہ بنانے والے فتنوں کا کیاست اور زیرکی کے ساتھ ان فتنوں کا مقابلہ کریں اور دشمنان اسلام کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے دوراندیشی کے ساتھ منصوبہ بندی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close