متفرقہ

قائد شیعیان نائیجیریا: نائیجیریا کے عوام کا اسلامی تحریک پر اعتماد ہے

sheikhzazky

شیعیان نانیجیریا کے قائد شیخ ابراھیم زکزکی نے اس انٹرویو میں ایک مخنصر مقدمہ بیان کیا ہی جس کی بعد انھوں نے کہا کہ اسلامی تحریک کا مقصد یہ ہی کہ امت اسلامی کو اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ کی سنت کی طرف لوٹادی؛ اتقاق سے شیعیان نائیجیریا کی تحریک کو اسلامی تحریک کا نام دینے کا مقصد ـ دیگر ممالک میں اس تحریک کے بارے میں مختلف قسم کے خیالات کے برعکس ـ محض اس گروہ کے اسلامی اعتقادات کا اظہار و اعلان کرنا ہے۔

 

سی۔این۔این کے نمائندے نے نائیجیریا کے زاریا شہر میں شیخ ابراھیم زکزکی کی رہائشگاہ میں حاضر ہوکر مختلف موضوعات پر ان سے گفتگو کی ہے۔ یہ انٹرویو دو جنوری 2010 کو انجام پایا ہے۔ شیعیان نائیجیریا کے قائد نے اس انٹرویو میں تحریک اسلامی کے مسائل، نائیجیریا کے معاشی مسائل، دہشت گردی سے متعلق مسائل اور حکومت کی طرف سے اہل تشیع کے خلاف فوج کے استعمال جیسے مسائل پر گفتگو کی ہے۔

انھوں نے کہا: آج کے زمانے میں اسلامی معاشروں میں مسلمان رسول اللہ (ص) کے توسط سے ملنے والا اسلامی پیغام سنتے اور پڑھتے ہیں مگر اس پیغام کو اپنی زندگی پر ہرگز لاگو نہیں کرتے”۔

زکزکی نے سی این این کے ایک سوال کے جواب میں نائجیریا کی معاشی صورت حال کے بارے میں کہا: معاشی مسائل و مشکلات کا ایک سبب یہ ہے کہ اس ملک کے راہنما اور قانون ساز ذمہ داری کا احساس نہیں کرتے اور وہ عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے خودپسندانہ اہداف و مقاصد اور ذاتی خواہشات تک پہنچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

شیعیان نائجیریا کے قائد نے اپنی مطلوبہ اصلاحات اور تبدیلیوں کی کیفیت کے بارے میں کہا: تبدیلی ایک تدریجی سلسلہ ہے جو افراد کی اندرونی تہذیب و تزکیہ اور باطنی اصلاح سے شروع ہوتی ہے جس کے نتیجے میں معاشرہ تبدیلیوں کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور جب امت میں یہ آمادگی معرض وجود میں آتی ہے تو مطلوبہ تبدیلیان رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

شیخ ابراھیم زکزکی نے کہا: اسلامی تحریک اپنے ابتدائی مرحلے میں چند ہی ارکان پر مشتمل تھی مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ارکان کی تعداد دسیوں، سینکڑوں اور ہزاروں تک پہنچی اور اس وقت کئی میلین افرد اس کے ارکان ہیں۔ اور وہ زمانہ ضرور آئے گا جب ہم اپنی مطلوبہ کامیابی تک پہنچیں گے۔

قائد شیعیان نائجیریا نے تحریک اسلامی کے ارکان کی تعداد میں مسلسل اضافے کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا: عوام کا ہماری تحریک پر اعتماد و اطمینان ہے کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ تحریک کے راہنماؤں اور ارکان کا موقف ان کی موقف کے عین مطابق ہے اور جب عوام کا اعتماد حاصل ہوتا ہے تو وہ تحریک میں رکنیت حاصل کرتے ہیں۔

افریقی ملک نائیجیریا کے اس شیعہ عالم دین نے شیعہ اجتماعات پر سرکاری فورسز کے حملوں کے بارے میں کہا: ہم ان اجتماعات کا انعقاد جاری رکھیں گے اور سرکاری فورسز کا یہ خیال ہے کہ ہمارے اجتماعات پر حملہ کرنا اور ہمارے ساتھیوں کو قتل اور زخمی کرنا ہی اس مسئلے کا علاج ہے تو ہم بھی اس بات کی حکومت کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنا پرتشدد رویہ جاری رکھے یہاں تک کہ حکومت خود ہی اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ روش کارساز نہیں ہے۔

شیخ زکزکی نے دشمنان اسلام کی طرف سے مسلمانوں کو دہشت گرد کا نام دینے کے رجحان کے سلسلے میں گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: دنیا کے انسانی معاشروں کے لئے اسلام کا پیغام علم و دانش، حکمت، مدنیت اور اقوام کو پسماندگی سے نکال کر پیشرفت اور کمال تک پہنچانے کا پیغام ہے، یہاں تک کہ اسلام کے پاس پوری دنیا اور انسانیت کے تمدن و تہذیب کے ارتقاء کا پروگرام ہے اور اس کا قانون بھی اسی پروگرام پر مبنی ہے؛ تو پھر ایک ایسا دین اتنی عظیم تعلیمات کے باوجود انسانوں کو انسان کُشی اور دہشت گردی کی تعلیم دے سکتا ہے؟ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ مغربی دنیا بھی وحشت و بربریت اور جہل و نادانی کا شکار تھی اور اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی برکت سے ہی مغربی انسان نے تمدن و تہذیب کی بنیاد رکھی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close