متفرقہ

لکھنو میں سلمان رشدی کا پتلہ نذر آتش ہوا

rushdidemo

ھندوستان کے مذھبی شہر لکھنوکی تاریخی مسجد آصفی میں نماز جمعہ کے بعد سلمان رشدی کی ہندوستان آمد پر ناراض مسلمانوں نے شدید مظاہرہ کیا اور سلمان رشدی کا پتلہ نظر آتش کیا اس مظاہرے میں شامل لوگوں نے  مرکزی حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے سلمان رشدی ، امریکہ اور اسرائیل مرداآباد کے نارے لگاتے ہوئے احتجاج کیا۔

 

کل ہند مجلس علاء و پاسداران حسین کے مشترکہ زیر اہتمام اس مظاہرے کی قیادت لکھنؤ کے امام جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی نے کی ۔

نماز جمعہ کے اختمام پر ہوئے اس مظاہرہ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے اور سلمان رشدی اور مرکزی حکومت ، امریکہ و اسرائیل مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے پتلہ نذر آتش کیا۔

پتلہ نذرآتش کرنے کے بعد مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مولانا سید کلب جواد نے کہا کہ سلمان رشدی اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پرمبنی ناول کا مصنف ہے وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا قصوروار ہے ایسے شخص کو ہندوستان آنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے تھی۔

کلب جواد نے ھندوستان کے حکومت کی اجازت دینے پر سوال کرتے ہوئے کہا : بغیر کانگریسی حکومت کی اجازت کے رشدی ہندوستان کیسے آسکتا ہے۔

خطیب جمعہ نے کہا : آنجہانی راجیوگاندھی کے دور میں سلمان رشدی کے ہندوستان آمد پر پابندی عائد تھی لیکن ان کی بیوہ سونیا گاندھی نے سلمان رشدی کو ہندوستان آنے کی اجازت دے کر ملک کے کروڑوں مسلمان کے جذبات کو ٹھیس پہونچائی ہے۔

انہوں نے کہا : مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک ہی نہ سمجھا جائے بلکہ ان کے مذہبی عقائد و جذبات کا احترام کر تے ہوئے کسی بھی ایسے شخص کو ہندوستان آنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔

مولانا کلب جواد نے ایک انگریزی اخبار میں مذہبی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں قابل اعتراض شائع خبروں پر احتجاج کرتے ہوئے کہا : اس انگریزی اخبار کے سربراہ اپنے کئے ہوئے غیر اخلاقی حرکت پر نادم ہوں اور آیت اللہ خامنہ ای سمیت تمام مسلمانوں سے معافی مانگیں ۔

طالبان اور القاعدہ کو امریکہ و اسرائیل کا ایجنٹ بتاتے ہوئے مولاناکلب جواد نے کہا : طالبان اور القاعدہ کی گھناؤنی سازشوں کے تحت دنیا کے مختلف ممالک میں دھماکے ہوتے ہیں جہاں بھی دھماکے ہوتے ہیں وہاں بڑی تعداد میں بے گناہ مسلمان مارے جاتے ہیںچاہے وہ پاکستان ہو،عراق یا کوئی اورملک ۔

خطیب امام جمعہ لکھنؤ نے کہا : القاعدہ اور لشکرے طیبہ کے تعلقات اگرمسلم مخالف طاقتوں سے نہ ہوتے تو یہ صرف مسلمانوں پر ہی حملہ نہ کرتے مسجد و امام باڑوں پر حملہ کر کے بے گناہوں کا خون بہانہ مسلم مخالف طاقتوں کا ہی کام ہے۔

مولانا نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا : سلمان رشدی کی ہندوستان آمد پر پابندی عائد کی جائے اور انگریزی اخبار غلط خبر شائع کرنے کے لئے معافی مانگے۔

انہوں نے کانگریس پارٹی کو آئیدی ہونے والے انتحابات میں سبق سکھانے کی فرس اشارہ کرتے ہوئے کہا : کانگریس کو مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کیلئے الیکشن میں جواب دیا جائے گا ۔

قابل ذکر ہے کہ اس موقع پر بڑی تعداد میں نمازیوں کے ساتھ علماء و مختلف تنظیموں کے عہدیداروں نے حصہ لیا ۔

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close