متفرقہ

شہادت امام زین العابدین علیہ السلام ۔۔۔دنیا بھر میں مراسم عزاداری

6_zain

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا یوم شہادت ہے ،اس دن کے آتے ہی دنیا بھر میں مجالس عزاء اور جلوس عزاء کا سلسلہ جوش و خروش اور انتہائی عقیدت و احترام سے شروع ہو جاتا ہے ،دنیا بھر میں باالخصوص بھارت،افغانستان، ایران،عراق،شام،لبنان،مصر،سعودی عربیہ،سوڈان،جنوبی افریقہ،امریکہ،کینیڈا،برطانیہ سمیت پاکستان میں بھی شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کے سلسلہ میں مجالس عزاء کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور

 پاکستان کے اکثر شہروں اور دیہاتوں میں شب شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کی مناسبت سے چوبیس محرم الحرام کو بھی جلوس عزاء برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں جبکہ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مرکزی جلوس عزاء پچیس محرم الحرام کو نکالے جائیں گے جہاں عزاداران سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسل کو ان کے نواسے اور فرزند امام حسین علیہ السلام (امام زین العابدین علیہ السلام )کا پرسہ دیں گے۔ امام زین العابدین علیہ السلام شیعوں کے چوتھے معصوم امام ہیں جو کہ سانحہ کربلا میں بھی موجود رہے اور آپ علیہ السلام نے اپنے جد امجد حضرت امام حسین علیہ السلام اور اپنے خاندان پر ہونے والے مصائب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان مصائب اور سختیوں پر صبر فرمایا ،امام زین العابدین علیہ السلام کو شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد کوفہ اور شام کے بازاروں اور درباروں میں لایا گیا جہاں آپ نے اپنی پھوپھی جان جناب زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے ہمراہ دین مبین اسلام کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ اسلام کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ،آپ علیہ السلام نے کربلا میں اور کربلا کے بعد جو مصائب اور سختیاں برداشت کیں ،تاریخ میں لکھا ہے کہ آپ ہمیشہ سید الشہدا امام حسین علیہ السلام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور سختیوں پر خون کے آنسو روتے رہے ،آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی کی کثرت سے عبادت کرنے اور شکر ادا کرنے پر سید الساجدین علیہ السلام(سجدے کرنے وال یا بہت زیادہ عبادت گزار) بھی کہا جاتا ہے،آپ علیہ السلام کربلا کی سختیوں اور مصائب کو برداشت کرنے کے بعد جب مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو ہمیشہ غمگین رہے اور جب بھی آپ کے سامنے پانی یا کھانا آتا تو آپ کربلا میں ڈھائی جانے والی مصیبتوں اور سختیوں کو یاد کرتے اور اپنے بابا سید الشہداء امام حسین علیہ السلام اور دیگر خاندان نبوت کے افراد اور پیاسے بچوں کو یاد کرتے اور خون رویا کرتے تھے،آپ علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کیا گیا ،عزاداران سید الشہداء امام حسین علیہ السلام ہر سال پچیس محرم الحرام کو پیغمبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسل اور جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور آپ کے جد امجد سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کو آپ علیہ السلام کی شہادت کا پرسہ دیتے ہیں اور جلوس عزا برپا کرتے ہوئے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close