کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
سعودی عرب

سعودی عرب میں مقیم شیعہ مسلمانوں پر مظالم کی انتہا ،سڑکوں پر نماز پڑھنے پر مجبور۔

2

"الخُبَر” شہر میںشیعہ مسلمانوں پرسعودی وہابیوں اور سلفیوں کے مظالم انتہاء کو پہنچ گئے شہر میں مقیم شیعہ مسلمان نماز سڑکوں پر پڑھنے پر مجبور ہیں،واضح رہے کہ سعودی عرب کے سلفی حکمرانوں کی جانب سے اہل تشیع اپنے دینی امور بجا لانے میں مسلسل رکاوٹوں کا شکار ہیں جبکہ وہابی اور سلفیوں نے شیعہ مساجد پر بندش اور شیعہ مسلمانوں کو اہل سنت مساجد میں بھی نماز ادا کرنے سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے شیعہ سڑکوں پر ہی نماز پڑھنے پر مجبور ہیں۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی شیعہ اکثریتی

علاقے "الشرقیہ” کے شہر "الخُبَر” کے شیعہ باشندے ـ جو اپنی نو مساجد کی بندش کے بعد مقامی حکام اور اہل سنت کی مسجدالنور کی انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اس مسجد میں نماز جمعہ و جماعت ادا کرتے تھے ـ تکفیری گروہوں کے حملوں کے بعد مسجدالنور میں بھی نماز کی ادائیگی سے محروم ہوگئے۔ اس رپورٹ کے مطابق سلفیوں اور تکفیریوں کے حملے کے بعد الخبر کے شیعہ باشندے سرکاری فورسز کی نظروں سے دور سڑک پر نماز جماعت ادا کرنے پر مجبور ہوئے؛ تکفیریوں نے مسجد میں حاضر ہوکر شیعہ امام جماعت کو بھی برا بھلا کہا۔ تکفیریوں کے اس اقدام کے بعد کئی سرکردہ شیعہ افراد اس واقعے کی شکایت کرنے کی غرض سے مقامی حکام کے دفتر میں حاضر ہوئے۔اور اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا،واضح رہے کہ الخبر شہر میں 20 ہزار شیعہ رہائش پذیر ہیں اور اس علاقے میں اہل تشیع کی نو مسجدیں تھیں جنہیں سعودی عرب کے سلفی حکمرانوں نے گذشتہ 4 مہینوں کے دوران بند کردیا ہے۔ یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے حکمران اہل تشیع کو مسجد و امامبارگاہ ـ تو کیا ـ قبرستان تک کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتے بلکہ ان کی کوشش ہے کہ اہل تشیع کے موجودہ دینی مراکز کو بھی بند کردیں؛ دوسری طرف سے اہل تشیع کی توہین سعودی عرب کے حکام، سیکورٹی فورسز اور انتہا پسند وہابیوں کے روز کا معمول بن گئی ہے۔

 

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close