سعودی عرب

تشیع کی حمایت کا صلہ؛ سعودی مؤلفہ و ادیبہ کو قتل کردیا گیا


shiite_saudi_bilquisjpg

سعودی شاعرہ، ادیبہ اور مؤلفہ "بلقیس الملحم” حقیقت پسندی، انتہاپسندی کی مخالفت، شیعہ مذہب کی نسبت نرم گوشہ رکھنے اور سید حسن نصراللہ کی جوانمردی سے متأثر ہونے کے "جرم” میں اپنے وہابی بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوگئیں۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق

 1977 کو شیعہ اکثریتی شہر "الاحساء” دنیائے فانی میں قدم رکھنے والی سعودی مؤلفہ "بلقیس الملحم” حال ہی میں اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوگئیں۔ اخبارات اور ویب سائٹوں نے مقتولہ کے قتل کے واقعے کو کوریج دیتے ہوئے مختلف سرخیاں لگائیں۔ کسی نے لکھا کہ وہ شیعہ مذہب کی نسبت نرم گوشہ رکھنے کے جرم میں قتل ہوئیں، کسی نے لکھا کہ وہ سید حسن نصراللہ سے متأثر تھیں اور کسی نے لکھا کہ انھوں نے سعودی عرب کے مظلوم شیعیان اہل بیت (ع) کی حمایت کی تھی اور کسی نے لکھا کہ وہ قلباً شیعہ ہوگئی تھیں چنانچہ اپنے وہابی انتہاپسند بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں اور ایک چچازاد بھائی نے بھی ان کے بھائیوں کے ساتھ تعاون کرکے ان کے قتل کو طبعی موت ظاہر کرنے میں مدد دی تھی۔ سعودی پولیس نے بھی ابتداء میں ان کی موت کو طبعی ظاہر کرنے کی کوشش کی مگر مقتولہ کی بچیوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ماموں ان کی والدہ کے قتل میں ملوث ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مقتولہ وہابی مخالف مذاہب کی نسبت نرم گوشہ رکھتی تھیں اور یہی بات ان کے قتل کا باعث بنی ہے۔ مرحومہ آج سے چند ماہ قبل قتل ہوگئی تھیں اور ان کے قتل کی حقیقت حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ انھوں نے 5 بچے اور بچیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ مرحومہ کا ایک چچا زاد بھائی الہفوف شہر کے ملک فہد اسپتال کا سربراہ ہے جس نے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتولہ طبعی موت مری ہیں۔ مذکورہ شخص بھی اس وقت زیر حراست ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔ یہ سب باتیں مقتولہ کے قریبیوں کے ذریعے سامنے آئی ہیں جبکہ سرکاری اہلکاروں نے ان کے بارے میں اظہار خیال کرنے سے گریز کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مقتولہ کے دونوں بھائی سعودی آئل کمپنی آرامکو میں ملازم ہیں۔ مقتولہ ملک فیصل یونیورسٹی سے اسلامی تحقیقات کے مضمون میں فارغ التحصیل ہوئی تھیں اور ایک پرائمری سکول میں استانی تھیں اور ساتھ ساتھ شعر و ادب کی دنیا سے منسلک تھیں اور مضمون بھی لکھا کرتی تھیں۔ وہ شیعہ اکثریتی علاقے میں رہائش کی وجہ سے اہل تشیع کی محرومیوں سے بخوبی آگاہ تھیں اسی وجہ سے اپنے مضامین میں ان کے حق میں بھی آواز اٹھایا کرتی تھیں اور انھوں نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ان کی بیٹی سید حسن نصر اللہ کی شیدائی ہے۔ ان کے یہ مضامین وہابی انتہاپسندی کی شدید تنقید کا نشانہ بنتے تھے مگر انھوں نے اپنا قلم اپنے ضمیر کی خدمت میں ہی رکھا۔ انھوں نے اہل تشیع پر سعودی حکمرانوں کے مظالم پر تنقید کی تو ان پر مذہب تبدیل کرنے اور شیعہ مذہب اختیار کرنے کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے ان کے شوہر نے ان سی جدائی اختیار کرلی۔ مقتولہ کا چھوٹا بھائی عبدالرحیم الملحم دہشت گرد تنظیم "القاعدہ” کا رکن ہے اور اس نے عراق میں جاکر عراقی شہریوں کو خاک و خون میں نہلایا ہے جس کی وجہ سے وہ عراقی جیل میں ہے اور عراقی ٹیلی ویژن پر اس کے اعترافات بھی نشر کئے گئے ہیں۔ متعدد کتابوں کی مؤلفہ مقتولہ بلقیس نے عراق کے عوام کے بارے میں بھی کتاب لکھی تھی جس میں انھوں نے عراقی عوام کی مظلومیت کا ذکر کیا تھا جس پر انہیں بیروت یونیورسٹی سے عرب دنیا کا ادبی انعام بھی ملا تھا اور یہ وہابی دنیا میں ان کا دوسرا بڑا جرم تھا۔ ان کی ایک کتاب کا نام "كلمۃ حق: ابنتي معجبة بنصر اللہ” ہے۔ اس کتاب میں اسلامی تربیت اور قرآنی منہج بالکل واضح ہے؛ یہ کتاب قارئین پر عقل کے راستے کھول دیتی ہے اور تکفیر کو رد کردیتی ہے۔ شہیدہ قلم کے قتل کی روداد مقتولہ کا ایک لڑکا جس کی عمر سترہ برس ہے، نے پولیس کو بتایا: میرے ماموں اس روز ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور میری والدہ کو جنونی کیفییت میں مارنا پیٹنا شروع کیا اور میری والدہ مکوں اور لاتوں کا نشانہ بنتی رہیں اور اسی حال میں جام شہادت نوش کرگئیں اور میری والدہ کا جرم صرف یہ تھا کہ ان کی فکر اور سوچ بالکل آزاد تھی اور میرے نانا کے گھرانے کی مانند نہیں سوچتی تھیں چنانچہ انہیں سوچ کے اختلاف اور آزادی فکر کے جرم میں قتل کیا گیا۔ بچے نے مزید کہا کہ میری والدہ کا جسد خاکی فوری طور پر الہفوف میں واقع ملک فہد اسپتال منتقل کیا گیا جہاں میری والدہ کے چچازاد بھائی سے پہلے سے ہی معاملہ طی کیا گیا تھا اور اس نے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ فوری طور پر جاری کیا اور تأکید کی کہ مقتولہ طبعی موت کے نتیجے میں دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں جس کے بعد اس مرحومہ شہیدہ کی فوری طور پر تدفین کی گئی اور ان کے قتل پر پردہ پڑ گیا۔ لڑکے نے پولیس کو بتایا: میری والدہ صحیح و سالم تھیں اور وہ طبعی موت نہیں مریں بلکہ میرے ماموں ان کے قاتل ہیں اور اس کے بعد ان کا کیس دوبارہ فعال ہوا اور پولیس نے تفتیش کے نتائج احساء کے گورنر کے دفتر میں ارسال کئے ہیں۔ یادرہے کہ الاحساء کا گورنر وہابی تعصبات کا پیکر تصور کیا جاتا ہے اور مقتولہ کے کیس میں بھی اس کی دلچسپی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی گو کہ اس کیس نے اب بین الاقوامی شکل اختیار کی ہے اور عرب دنیا کے تمام ادباء بھی اس کیس میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close