سعودی عرب

سعودی عرب، امام جمعہ قطیف کی جانب سے شیعہ سنی اتحاد کی موثر کوشش

shiite_saudi_shia_suni_allianceاہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الشرقیہ کے شہر القطیف کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن الصفار نے سعودی عرب میں پرامن بقائے باہمی کے منشورکی تدوین کے بارے میں بتیا ہے کہ باہمی احترام اور علماء و مقدسات کی توہین سے پرہیز، ہموطنوں کے درمیان عدل و مساوات کی رعایت اور امتیازی سلوک  کے خاتمے، قومی اور اسلامی مفادات کی خاطر تعاون اور ہموطنوں کو باہمی تعلقات کے فروغ کی تلقین و ترغیب اور آپس کی غلط فہمیوں کے ازالے کی ضرورت اس منشور کے نکات میں شامل ہیں۔ انھوں نے کہا: اس منشور کے بارے میں گفتگو اور مذاکرات

 کا سلسلہ بدستور جاری ہے لیکن بعض علاقائی حوادث و واقعات مذاکرات کو متاثرکردیتے ہیں۔ شیخ حسن الصفار نے منشور کے حوالے سے کبارالعلماء بورڈ کے رد عمل سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا: شیعہ علماء دیگر سنی علماء کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ سنی علماء، کبارالعلماء بورڈ کو ان مذاکرات کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہیں یا نہیں۔ قطیف کے امام جمعہ نے کہاکہ سعودی عوام قومی مذاکراتی عمل کو احترام کی نگاہ  سے دیکھتے ہیں اور ملک کی وحدت و استحکام پر منتج ہونے والے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ  اس منشور کے راستے میں سب سے اہم رکاوٹ یہ ہے کہ عوام بعض انتہاپسندوں کی تقاریر اور بعض سنی اور شیعہ ٹی وی چینلز کے پروگراموں سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ یہ انتہا پسند افراد اور بعض ٹی وی چینلز لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکا دیتے ہیں اور قومی اتحاد کی راہ میں رکاوٹیں حائل کردیتے ہیں اور افسوس کا مقام ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت کے بعض گروپ، مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔شیخ حسن الصفار نے کہاکہ پرامن بقائے باہمی کو عملی جامہ پہنانا اور مذہبی مقدسات کی توہین کا سد باب کرنا، محض مذہبی پرامن بقائے باہمی منشور کے سانچے میں ممکن نہیں ہے اور یہ  صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ حکومت نہایت مضبوط اور مستحکم قوانین مرتب اور نافذ کرے ۔انہوں نے کہا کہ  شیعہ اور سنی عوام کو ایک دوسرے کے مقدسات کی عدم توہین کی پالیسی  پرعمل کرنے کے لۓ تیار رہنا چاہئے اس صورت میں مسلمانوں کی وحدت کی راہ میں اہم اقدامات جاسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے دباؤ کے باعث بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی جانب قدم اٹھائے ہیں اور اس میں شک نہیں ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے عرب ممالک پر شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے تا کہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کریں اور بعض عرب ممالک کو امریکہ کی مالی اور فوجی امداد کی ضرورت ہے جس کی بنا پر وہ اس دباؤ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ  مسلم قومیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتی ہیں اور لبنان و فلسطین میں اسلامی مزاحمت اور اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کی طرف سے اسلامی مزاحمت کی حمایت، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام میں اہم رکاوٹ ہے ۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close