متفرقہ

ایک بار پھر شیعیان نائیجیریا کے قائد پر قاتلانہ حملہ ناکام


shiite-shikehzakzaky

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق منگل 19 جنوری کو سیکورٹی ایجنسیوں کی ایک کار ـ جس کو تین فوجی گاڑیوں کی حمایت حاصل تھی ـ تحریک اسلامی کے سربراہ اور شیعیان نائیجیریا کے قائد شیخ ابراہیم زکزاکی کی رہائشگاہ میں داخل ہونا چاہتی تھی تا کہ کار سوار سرکاری اہل کار شیخ کو قتل کردیں مگر ان کی یہ کوشش شیخ کے محافظوں کی ہوشیاری کی بدولت ناکام ہوگئی۔شیعیان نائیجیریا کی تحریک اسلامی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیکورٹی ایجنسی کے اہلکاروں کا منصوبہ تھا

 کہ شیخ زکزاکی کی رہائشگاہ میں داخل ہوکر ایک خاص قسم کے مہلک ہتھیار کے ذریعے شیخ کو قتل کردیں مگر شیخ کے ذاتی محافظین کے بروقت اقدام کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔موصولہ رپورٹ کے مطابق سرکاری حملہ آور حکومت کے پروٹوکول کے ادارے کی کار پر سوار ہوکر حملہ کرنے کی نیت سے آئے تھے۔نائیجیریا کی حکومت نے قبل ازیں اعتراف کیا ہے کہ اس ملک کی پولیس و سیکورٹی فورسز اسرائیلی افواج کے زیر نگرانی تربیت حاصل کررہی ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ سال نائیجیرین حکومت اور غاصب صہیونی ریاست کے درمیان سیکورٹی معاہدہ طے پانے کے بعد قائد شیعیان نائیجیریا کو منظر عام سے ہٹانے کی نیت سے کئی اقدام عمل میں آئے ہیں مگر یہ اقدامات اب تک ناکام رہے ہیں۔گذشتہ رمضان میں بھی شیخ ابراہیم زکزاکی کی قتل کی سازش تیار ہوئی تھی جسے انھوں نے خود ہی فاش کیا اور یہ سازش ناکام ہوئی اور اب ایک بار پھر نائیجیرین سیکورٹی فورسز کی طرف سے ان کے قتل کی سازش ناکام ہوگئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نائیجیریا کی حکومت نے گذشتہ رمضان میں بھی امریکی اور صہیونی جاسوسوں کے تعاون سے شیخ ابراہیم زکزاکی کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا مگر یہ سازش قبل از انجام پکڑی گئی اور شیخ زکزاکی کے انکشاف کے نتیجے میں یہ سازش ناکام ہوگئی۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close