متفرقہ

رسول اللہ (ص) کے روز وصال؛ رسول اللہ (ص) کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر ہزاروں نارویجین مسلمانوں کا احتجاجی مظاہرہ

shiite_protest_caricatures_norway

رسول اللہ الاعظم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے روز، ناروے کے ایک روزنامے میں آپ (ص) کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر تقریبا 3000 نارویجین مسلمانوں نے دارالحکومت اوسلو میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اجتجاجی مظاہرہ کیا۔ ناروے کی مساجد، حسینیات اور اسلامی مراکز کے اراکین سمیت اس ملک کے عام مسلمانوں نے ایک ہفتہ قبل ناروے کے ایک روزنامے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کو دارالحکومت اوسلو میں ناروے کی وزارت داخلہ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کا وعدہ دیا تھا چنانچہ اانھوں نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے  بروز جمعہ زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ "توہین آمیز تصاویر کی اشاعت ہمارے لئے اذیت و آزار کا باعث ہیں” اور یہ کہ "ہم کسی صورت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین برداشت نہیں کرسکتے”۔ مظاہرین ـ جو مختلف رنگوں اور نسلوں  اور دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھتے تھے ـ نے بالکل متحد ہو کر اس مظاہرے میں شرکت کی؛ وہ اللہ اکبر کے نعرے لگارہے تھے اور پلے کارڈوں پر تحریر شدہ عبارتوں کے ذریعے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے روزنامے کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ 43  سآلہ «نارادین محمد» ـ جو ٹیچر ہیں ـ بھی مظاہرے میں شریک تھے۔ اانھوں نے نامہ نگاروں سے کہا: «ہم نے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی؛ ہم صرف امن و سکون کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں؛ ناروے ہمارا گھر ہے اور ہمارے بچے یہیں زندگی بسر کررہے ہیں تو پھر کیوں وہ (نارویجین روزنامے) اس طرح ہمارے آزار و اذیت کے اسباب فراہم کرتے ہیں؟»۔ مظاہرین نے بعض پلی کارڈوں پر لکھا تھا: "ہم مسلمان ہیں دہشت گرد نہیں”، "مسلمانوں کی حیثیت کی توہین بند کرو”، "ڈاگ بلادت اور PST اتحاد ملت کو نیست و نابود کررہے ہین”۔ مظاہرین اوسلو یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں نماز با جماعت ادا کرنے کے بعد منتشر ہوگئے۔

نارویجین روزنامے ڈاگ‏بلادت (Dagbladet) نیز اس ملک کی پولیس کی ویب سائٹ (PST) نے گذشتہ بدھ (تین فروری 2010) کے روز ایک توہین آمیز خاکہ شائع کرکے (معاذاللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منسوب کیا تھا۔

توہین آمیز خاکوں کے بارے میں

اس خاکے یا کارٹون میں رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چہرہ مبارک بدترین حالت میں پیش کیا گیا ہے جس کی وضاحت کرنے سے قلم و ورق کو بھی شرم آتی ہے۔اس خاکے میں توہین کی مقدار کا گذشتہ کئی برسوں میں شائع ہونے والے خاکوں کے ساتھ موازنے کے قابل نہیں ہے۔ اس خاکے میں جس مخلوق کی تصویر کشی کی گئی ہے اس کے سر پر عربی عقال رکھا گیا ہے جس کے ہاتھ میں قلم ہے اور وہ شاتمین کے خیال میں قرآن مجید کی آیات تحریر کررہا ہے۔ یہ خاکہ توہین آمیز ہونے کے علاوہ ناظرین کے ذہن میں یہ تصور بھی ابھار دیتا ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو چاہتے ہیں قرآن مجید میں لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ خاکہ روسی نژاد یہودی عورت «ٹیٹیانا ساسکین ـ Tatiana Soskin» نے کھینچا ہے۔ یہ عورت روس سے مقبوضہ فلسطین کے علاقے "مغربی پٹی” میں آبسی ہے۔ اس عورت نے یہ خاکہ 28 سال کی عمر میں 1997 میں کھینچا تھا مگر صہیونی ریاست بھی مسلمانوں کے خوف اور اس توہین کے انتہائی بھونڈے پن کے پیش نظر اس توہین آمیز خاکے کو نظر انداز نہ کرسکی اور اس کو بظاہر تین سال قید کی سزا سنائی۔ بہر صورت غاصب صہیونی ریاست بھی اس توہین آمیز اقدام کے سامنے خاموش رہنے کی جرأت نہ کرسکی مگر یہی خاکہ اب اتنے سال گذرنے کے بعد بآسانی ناروے کے اخبار میں چھپ گیا حالانکہ یہ خاکہ آرٹ اور ہنر کے حوالے سے بالکل غیر اہم ہے اور کلی طور پر بے قدر و قیمت ہے مگر غرض توہین ہے اور یہ خاکہ نبی (ص) کی توہین کا اتم نمونہ ہے جس کی اس سے پہلی چھپنے والے خاکوں میں مثال نہیں ملتی۔ اس خاکے کے اثرات و نتائج روزنامہ Dagbladet اور ویب سائٹ PST، میں اس خاکے کی اشاعت ناروے اور دنیا کے دیگر ممالک میں درج ذیل نتائج کا باعث بنے: 1۔ گذشتہ ہفتے سنیچر کو اوسلو اور "آکرشوس akershus” کے شہروں میں ایک ہزار ٹیکسی ڈرائیوروں نے احتجاجاً اپنی گاڑیاں سڑکوں کے کنارے کھڑی کردیں اور ہڑتال کے عنوان سے کام کرنا بند کردیا۔ ان کا یہ احتجاج ان دو شہروں میں بھاری ٹریفک اور نقل و حمل کے نظام میں خلل پڑنے کا باعث ہوا۔

رشاد منیر بھی ایک مسلم ٹیکسی ڈرائیور ہیں جنہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ بیان کی آزادی کے بہانے مقدسات کی توہین در حقیقت بیان کی آزادی کی پامالی ہے اور ہم احتجاج کرکے مقدسات اور دینی اقدار کی اہمیت کی حدود بتانا چاہتے ہیں۔

– ۔ ایک ترک ہیکر نے توہین کرنے والے روزنامے کی ویب سائٹ کو دو گھنٹوں تک ہیک کیا  ۔ 3۔ ایک ہفتہ قبل سے ہی ناروے کی مساجد و حسینیات اور دینی مراکز کے اراکین نے نارویجین وزارت داخلہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے لئے انتظامات شروع کئے تھے۔ 4۔ فیس بک نیٹ ورک پر کئی مسلمان ممبران نے اوسلو کے احتجاجی مظاہرے کے لئے وسیع تبلیغاتی مشن چلایا۔

۔ آخر کا روز جمعہ دارالحکومت اوسلو کے مرکزی علاقے میں دنیا جہاں کے مختلف ممالک اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے محبت رسول اللہ الاعظم کے رنگ میں رنگ کر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close