متفرقہ

بحرین میں برائیوں کی ترویج پر شیعہ علماء کی کڑی تنقید

shiite_bahrain_map-300x281بحرین کی مجلس علمائے شیعہ نے بحرین میں اخلاقی بے راہ رویوں اور مالی بدعنوانیوں کی ترویج پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے معاشرے کے زوال کا سبب قرار دیا۔

شیعت نیوز مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق بحرین کی مجلس علمائے شیعہ نے ایک بیان میں اس ملک میں اخلاقی فساد اور مالی بدعنوان کی ترویج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین ایک اسلامی ملک ہے جو ماضی میں علم و دین کے حوالے

 سے مشہور و معروف تھا اور آج یہی ملک اخلاقی بے راہرویوں اور مالی بدعنوانیوں کے بھنور میں غوطہ زن ہے اور صورت حال یہ ہے کہ جنسی بے راہروی، لہو و لعب، شراب نوشی اس ملک کی علامت بن کر رہی گئی ہیں اور دنیا والے بحرین کو ان پست اوصاف سے پہچانتے ہیں۔

 

علماء کی بیان میں کہا گیا ہے: حکومت کی مالی بدعنوانیوں اور عوامی ثروت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے بارے میں اشاعت یافتہ رپورٹوں کے مطابق، سرکاری حکام ملکی دولت کو اپنی ذاتی دولت سمجھتے ہیں اور سب سے زیادہ تعجب انگیز امر یہ ہے کہ شراب نوشی پر تنقید کی مخالفت میں متعدد مضامین شائع ہورہے ہیں مگر لکھنے والے حکام کی بدعنوانیوں کے سامنے خاموش رہتے ہیں۔

شیعہ علماء نے اس بیان میں حکومت کی طرف سے شراب اور جنسی بے راہروی کو ممنوع قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شراب نوشی اور جنسی فساد کی ممانعت دینی لحاظ سے واجب اور بحرین کی مسلم ملت کی دینی اور قومی غیرت کا تقاضا ہے اور بحرین کا ائین بھی ـ جس کا منبع اسلامی شریعت ہے ـ علماء اور عوام کے اس مطالبے کے عین مطابق ہے؛ چنانچہ بحرین کے شیعہ علماء کی اسلامی مجلس ان غیر اخلاقی رجحانات کے خاتمے اور ملک میں اسلامی احکام کے نفاذ کی خواہاں ہے۔

انھوں نے بعض کالم نویسوں اور دیگر افراد کی طرف سے شراب کی حرمت پر تنقید کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شراب اور اخلاقی منکرات سقوط اور تباہی کے عناوین میں سے ہیں اور آزادی اور مسامحت یا نام نہاد معاشرتی ترقی کے بہانے شرابنوشی کی آزادی کا مطالبہ غلط اور حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے اور معاشرے کی اخلاقی صورت حال کے بارے میں بحرین کی پارلیمان کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ ملک میں اخلاقی فرسودگی کی انتہا کا پتہ دے رہی ہے چنانچہ امرِ مسلم ہے کہ یہ صورت حال جاری رہنے کی صورت میں خاندان اور گھرانہ تباہ و برباد ہوگا اور معاشرہ اخلاقی زوال سے دوچار ہوگا۔

شیعہ علماء کی مجلس نے آخر میں امید ظاہر کی ہے کہ عدل اور اصلاح مالی بدعنوانیوں اور اخلاقی بے راہرویوں پر غلبہ پائے۔

مآخذ: ابنا

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close