متفرقہ

ہندوستان کے علما اور دانشوروں کی آیت اللہ تسخیری سے ملاقات

 

shiite_ayatullah_taskhiri_kalbe_sadiq-150x150دہلی میں واقع اسلامی جمہوری ایران کے خانہ فرہنگ میں ایک تقریب منعقدہوئی جس میں ہندوستان کے شیعہ ،سنی علماء کرام اور مذہبی دانشوروں اورمجمعئِ تخریب بین الالمذاہب کے جنرل سیکریٹری آیت اللہ تسخیری سے ملاقات کی اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے میں آپ کی خدمات کی قدردانی کی ۔ آیت اللہ تسخیری ایک وفد کے ساتھ عالمی امن کے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی آئے ہیں۔ عربی زبان میں اپنی تقریر میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد بر قرار کرنے کے لیے مجمعئ تخریب بین الالمذاہب کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔
شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق , جمعیتِ اسلامی ہند کے مولانا جلال الدین عمری نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو وقت کی ضرورت بتایا اور مسلمانوں سے ہر قسم کے اختلا ف و انتشار سے بچنے کے لیے اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف سے زیادہ اتحاد کی بنیادیں موجود ہیں اور ہمیں مشترکہ اہداف و نقاط پر توجہ دینی چاہیے انھوںنے کہاکہ آیت اللہ تسخیری کے دورہئ ہندوستان سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور دونوں ملکوں کے مسلمان اس سے استفادہ کریں گے۔
آل انڈیا مسلم پرنسپل لاء بورڈ کے نائب صدر ڈاکٹر کلب ِ صادق نے باہمی اتحاد کو مسلمانِ عالم کی آرزوقرار دیا اور کہا کہ کلمہئ توحید کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مختلف مکاتبِ فکر کے افراد اسلامی جمہوری ایران خانہ فرہنگ کی عمارت کی چھت کے نیچے جمع ہو سکتے ہیں تو خدا کے بنائے ہوئے آسمان کے نیچے کیوں کر متحد نہیں ہو سکتے۔ ڈاکٹر کلبِ صادق نے ایران کے سلسلے میں امریکہ کی دشمنانہ پا لیسیوں پر نکتہ چینی کی اور دنیا کے ممالک سے ایران کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی اپیل کی۔
دہلی کی فتح پوری جامعہ مسجد کے امام جمعہ مولانا مفتی مکرم نے آیت اللہ تسخیری کاخیرمقدم کیا اور اسلامی جمہوری ایران کی قدر دانی کر تے ہوئے آیت اللہ تسخیری کو اسلامی انقلاب کا آہنی ستون بتایا جنہوںنے انقلاب اسلامی کے لیے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ سنی عالم مولانا عبدالوہاب نے کہا کہ ایسے وقت میں جب مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا ہے مسلمانوں کے درمیان اتحاد ضروری ہے۔ اس موقع پر ہندوستان کے مختلف مذہبی شخصیتوں نے آیت اللہ تسخیری کی خدمت میں سپاس نامے بھی پیش کیئے۔

 

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close