متفرقہ

محاصرہ توڑنے کے لۓ ترکی کے وزیر اعظم نے خود غزہ جانے کی پیشکش کردی

turky_rajab_taiyabایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” بیت المقدس کا مستقبل استنبول اور غزہ کا انقرہ سے وابستہ ہے. ترکی کے لیے جہاں استنبول اور انقرہ کا دفاع ضروری ہے وہیں غزہ کی بیت المقدس کا بھی ضروری ہے
لبنانی  اخبار” مسقبل” نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان غزہ کی معاشی ناکہ بندی توڑنے کے لیے خود غزہ کی پٹی میں آنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ انہیں ترکی میں ان کے قریبی حلقوں کی جانب سے بھی اس اقدام کی تجویز دی گئی ہے۔
اخبار نے ہفتے کی اشاعت میں شامل اپنی رپورٹ میں ترکی کی حکومت کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ  طیب اردگان نے حال ہی میں امریکی انتظامیہ کو بتایا کہ وہ اپنی بحریہ کو ایک نیا امدادی بیڑہ تیار کرنے کے بارے میں غور کررہے ہیں جسے وہ اپنی قیادت میں غزہ لے جائیں گے. تاہم اس پر امریکی حکام نے تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور غور کے لیے وقت مانگا ہے۔
ذرائع کے مطابق گذشتہ پیر کے روز غزہ کے عالمی پانی میں عالمی امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیلی حکومت اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ گذشتہ روز ترک وزیراعظم نے "قونیہ” شہر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” بیت المقدس کا مستقبل استنبول اور غزہ کا انقرہ سے وابستہ ہے. ترکی کے لیے جہاں استنبول اور انقرہ کا دفاع ضروری ہے وہیں غزہ کی بیت المقدس کا بھی ضروری ہے”۔
انہوں نے عہد کیا کہ وہ فلسطینی عوام کےحقوق کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہیں انہیں اس سلسلے میں پوری دنیا کی طرف سے تنہائی کاسامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے حماس کو فلسطینیوں کی نمائندہ ، مزاحمتی اور وطن کی دفاع میں سرگرم تنظیم کہا ہے۔ حماس کو دہشت گرد قرار دینے والوں کے اپنے دامن بے گناہوں کے خون سے لتھڑے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close