متفرقہ

بحرین میں شیعہ اکثریت پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں

Bahrain-Shiasبحرین کے حکمران اس ملک کی اکثریتی شیعہ آبادی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں مگر ذرائع ابلاغ میں ان واقعات کو کوئی کوریج نہیں دی جاتی۔
بحرین میں شیعہ راہنماؤں کی گرفتاری کی خبروں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا گیا ہے۔
کل (سنیچر کے روز) بحرینی اٹارنی جنرل «علی البوعینین» نے بحرینی روزناموں کے توسط سے ایک فرمان شائع کیا ہے جس میں زور دیا گیا ہے کہ مکتوب ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیت ویب سائٹوں میں سے کسی کو بھی گرفتار ہونے والے شیعہ راہنماؤں کے بارے میں کسی قسم کی خبر یا رپورٹ شائع کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔
اس سرکاری بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ "حقائق معلوم کرنے اور عوامی حقوق کو عملی جامہ پہنانے کے لئے خفیہ جائزوں کی ضرورت ہے” مگر اٹارنی جنرل نے ساتھ ہی جائزے مکمل ہونے سے قبل ہی کہا ہے کہ "قانون شکن عناصر کو ایک سال قید کی سزا سنائی جائے گی” جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ راہنماؤں کو ماورائے عدالت سزا دیئے جانے کا پیشگی محلاتی فیصلہ ہوچکا ہے جبکہ گرفتار ہونے والوں کی صحیح تعداد کا بھی کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔
ابنا کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل نے ذرائع ابلاغ کو حالیہ ہفتوں میں ایک اہم شیعہ راہنما اور احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے حزب اختلاف کے راہنماؤں کی گرفتاری اور قید و بند میں ان کی موجودہ صورت حال کو کوریج دینے سے منع کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ گرفتاریاں انتخابات کے ایام میں اہل تشیع کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھے جانے پر وسیع احتجاجی مظاہروں کے دوران عمل میں آئی ہیں۔
دریں اثناء امریکی افواج کے مرکزی کمانڈر میرین جنرل جیمز میٹیس نے بحرینی شیخ حماد بن عیسی سے ملاقات کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق فریقین نے اس ملاقات میں "مشترکہ مفادات!” اور بحرین ـ امریکہ کے تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔
بحرینی شیخ نے اس ملاقات میں کہا ہے کہ بحرین امریکہ کے ساتھ دو طرفہ دفاعی اور فوجی تعاون بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔
اس ملاقات میں تازہ ترین عالمی اور علاقائی صورت حال اور بین الاقوامی اور عربی سطوح پر امریکی کردار پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے۔
مآخذ: ابنا

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close