دنیا

پورے ھندوستان میں سفر حسینی کی یاد منائی گئی

India-Juloosرسا نیوزایجنسی – 28 رجب سفر حسینی کی مناسبت سے کل پوراھندوستان سوگ میں ڈوبا رہا اور جگہ جگہ ماتم ومجلسیں منعقد کی گئیں اور جلوس نکالے گئے ۔
رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، 28 رجب وہ غم ناک دن ہے جس دن امام حسین نے اپنے نانا کے مدینہ کو یہ کہ کر کربلا کے مقصد سے چھوڑ دیا کہ میں دین رسول اور امت رسول کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں ۔ ھر سال اس تاریخ میں ھندوستان وپاکستان کے شیعہ نشین  علاقے غم واندوہ میں ڈوب جاتے ہیں ۔
اس قافلہ کی یاد میں ممبئی میں ڈاکٹر ذاکر حسین نگر (گونڈی ) سے جلوس عماری برامد ہوا جس کی افتتاحیہ تقریر میں مولانا سید عزیز حیدر زیدی نے کہا: مرسل اعظم سے منقول معتبر حدیث کے مطابق حسین چراغ ھدایت اور کشتی نجات ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو حسین کے ساتھ تھے فقط وہی کامیاب ہوئے اس کے علاوہ سارے لوگ تاریکی ، گمراہی اور ضلالتوں کے سمندرمیںڈوب گئے۔
شھر لکھنو کے مختلف محلوں اور امام بارگاہوں میں مجالس وماتم کا اھتمام کیا گیا ، عزاءخانہ صغری عباس نگرمفتی گنج اور دیانت الدولہ کاظمین روڈ میں سفر حسینی کی یاد میں منعقد مجلس کو مولوی مرزا محمد اطھر نے خطاب کرتے ہوئے کہا : رسول اسلام (ص ) اور امام حسین (ع) دونوں کی ھجرت مذھب اسلام کے پیغام انسانیت کی حفاظت کے لئے تھی ۔
مجلس عزاء کے بعد کثیر ارادتمندوں کی موجودگی میں علم مبارک ، ذوالجناح ، گہوارہ علی اصغر ، شبیہ عماری برامد کی گئی ۔
قصبہ زید پوربارہ بنکی کے شیعوں نے بھی اس پروگرام کو بڑی شان اوراحترام سے منایا ، زید پور کی تاریخی مسجد پچدری میں صبح 9 بجے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا اغاز کیا گیا اور پھر شعراء کرام نے بارگاہ حسینی میں منظوم نظرانہ عقیدت پیش کیا اس کے بعد مولانا مرزااطھر صاحب نے مجلس کو خطاب کرتےہوئے کہا : حسین نے کربلا پہونچ کر جو قربانی دیدی اس کی مثال رہتی دنیا تک نہی مل سکتی۔
مجلس عزاء کے بعد ماتمی انجموں نے نوحہ خوانی وسینہ زنی کرتے ہوئے علم مبارک اور دیگر تبرکات نکالے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close