کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
متفرقہ

امام حسین علیہ السلام کیوں فراموش نہیں ہوتے

12

زندگانی امام حسین علیہ اسلام کی اہمیت کہ جو تاریخِ بشریت کا ایک زریں ورق اور ہیجان انگیز ترین واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ فقط اس وجہ سے نہیں کہ ہر سال لاکھوں کروڑوں انسانوں کے احساسات کو ابھارتا ہے اور دیگر تمام مراسم سے زیادہ ہیجان انگیز مراسم بپا ہوتے ہیں۔ بلکہ اس کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ اس میں دینی اور انسانی عواطف و احساسات کے علاوہ اور کوئی چیز محرک نہیں اور یہ حقیقت بھی کسی پر مخفی نہیں کہ اس واقعہ کے لیے جو پر شکوہ اور باعظمت اجتماعات بپا ہوتے ہیں اس اعتبار سے بھی بے نظیر ہیں کہ وہ کسی قسم کے پروپیگنڈے کے محتاج نہیں۔

 

 

البتہ جو سوال ابھی تک کافی لوگوں کے لیے واضح نہیں ہوا۔ اور ان کے نزدیک ایک معمہ کی صورت میں باقی ہے وہ یہ ہے کہ اس تاریخی واقعہ کو کیوں اس قدر اہمیت دی جاتی ہے جبکہ کمیت و کیفیت کے اعتبار سے اس کے مشابہ اور واقعات بھی موجود ہیں؟کیا وجہ ہے کہ ہر سال اس واقعہ کے اجتماعات گزشتہ سال سے بھی زیادہ پر شکوہ اور باعزت منائے جاتے ہیں ؟کیا وجہ ہے کہ بنی امیہ جن کو ظاہری فتح ہوئی ان کا نام و نشان تک باقی نہیں لیکن واقعہ کربلا نے ایسا ابدی رنگ اختیار کر لیا ہے کہ لوگوں سے فراموش نہیں ہوتا ؟یہ سوالا ت اور ان سے ملتے جلتے جوابات واقعہ کربلا اور اس کے اہداف و مقاصد میں غور و فکر کرنے سے بخوبی واضح ہو جاتے ہیں اور میرے خیال میں اس مسئلہ کا تجزیہ و تحلیل ان لوگوں کے لیے جو تاریخِ اسلام سے واقف ہیں اتنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل نہیں۔

 

واقعہ کربلا دو سیاسی پارٹیوں کی کرسی یا مال و دولت اور زمین وغیرہ حاصل کرنے پر جنگ نہ تھی۔ یہ واقعہ دو گروہوں اور دو قبیلوں کی ذاتی دشمنی پر رونما نہیں ہوا۔ یہ واقعہ دو فکری و عقیدتی مکاتب کا مبارزہ تھا یا درحقیقت حق و باطل کی جنگ تھی جو ابتدائے تاریخ بشریت سے جاری تھی اور ابھی تک ختم نہیں ہوئی ۔ یہ مبارزہ اور جنگ تمام پیغمبروں اور تمام اصلاح طلب افراد کے مبارزہ کہ ایک کڑی تھی۔

 

بالفاظِ دیگر یہ واقعہ جنگِ بدر و احزاب ہی کے مقاصد کی تکمیل کا ایک حصہ تھا۔ یہ بات واضح و روشن ہے کہ جب پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشریت کو بت پرستی یا خرافات اور جہالت و گمراہی سے نجات دینے کے واسطے فکری و اجتماعی انقلاب کی رہبری کے لئے قدم اٹھایا اور ضلالت و گمراہی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے حق طلب افراد کو اپنے ارد گرد جمع کیا تو اس وقت اس اصلاحی قیام کے مخالفین نے متحد و منظم ہو کر اس آواز کو خاموش کرنے کی خاطر اپنی تمام تر کوششیں شروع کر دیں۔ان اسلام و انقلاب دشمن عناصر کی باگ دوڑ بنی امیہ کے ہاتھ میں تھی مگر ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود عظمتِ اسلام کے سامنے انہیں مجبوراً گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ان کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں ۔

 

ان کی ناکامی کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ پوری طرح ختم ہو چکے ہوں بلکہ جب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ ظاہری طور پر اس انقلاب کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تو انہوں نے ہر ناکام اور ضعیف دشمن کی طرح اپنی ظاہری و آشکارا کوششوں کو پسِ پردہ اور خفیہ صورت میں شروع کر دیا اور مناسب وقت و فرصت کے انتظار میں بیٹھ گئے۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد بنی امیہ نے لوگوں کو زمانہ جاہلیت کی طرف لے جانے کے لیے حکومت اور حکومتی عہدوں میں نفوذ پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی اور مسلمان جس قدر زمانہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور ہوتے گئے بنی امیہ کے لیے منساب موقع فراہم ہوتا گیا اور تقوی اور علمی، اخلاقی اور معنوی لیاقت کی بناء پر کسی کو کوئی عہدہ و مقام دیا جاتا تھا ۔مگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد رشتہ داری اور قوم و قبیلہ معیار بن گیا اور بعض خلفاء کے زمانہ میں حکومتی عہدوں کو خلفاء کے رشتہ داروں اور قوم و قبیلے میں تقسیم کیا جاتا تھا ،اسی اثناء میں بہت سے ایسے لوگ عہدوں پر فائز ہو گئے جو اپنے دل میں اسلام کے لیے بغض و عناد رکھتے تھے۔

 

اور انہوں نے لوگوں کو زمانہ جاہلیت کی طرف واپس لے جانے کی کوششیں شروع کر دیں یہ کوشش اس قدر شدید تھی کہ حضرت علی علیہ اسلام جیسی پاک ترین شخصیت کو بھی اپنی خلافت کے دوران اسی منافقین اور اسلام دشمن عناصر کا سامنا کرنا پڑا ۔یہ اسلام دشمن سازش اس قدر آشکارا تھی کہ خود اس کے رہبر بھی اس کے غیر اسلامی اور اسلام دشمن ہونے پر پردہ نہ ڈال سکے ۔بلکہ ان کے اپنے بیانات سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کے اہداف و مقاصد کیا تھے۔اور وہ اسلام سے کس قدر محبت رکھتے تھے۔ جیسے بنی امیہ کے سب سے معتبر شخص کا بنی امیہ اور بنی مروان کے پاس خلافت منتقل ہونے کے بعد پوری بے شرمی سے یہ عجیب و غریب جملہ کہنا۔’’اے بنی امیہ، کوشش کرو کہ حکومت کو ایک ہاتھ میں لے لو ۔اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بہشت و دوزخ کا وجود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قیام ایک سیاسی چال تھی۔‘‘یا شام کے گورنر کا عراق پر قبضہ کرتے وقت یوں اپنے ما فی الضمیر کا اظہار کرنا’’اے لوگو!میں اس لئے نہیں آیا کہ تم لوگ نماز پڑھواور روزہ رکھو ، میں تم پر حکومت کرنے آیا ہوں جو شخص میری مخالفت کرے گا اس کو ختم کر دوں گا‘‘اور یزید لعین کا شہداء کے سروں کو دیکھ کر یہ کہنا’’ اے کاش آج میرے بزرگان زندہ ہوتے،جو جنگِ بدر میں مارے گئے اور دیکھتے کہ میں نے کس طرح بنی ہاشم سے بدلہ لیا ہے‘‘یہ بیانات ان کے غیر اسلامی اور اسلام دشمن اہداف و مقاصد پر بہترین دلیل ہیں اور ان کے ان بیانات سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کے دلدادہ تھے اور لوگوں کو کس طرف لے جانا چاہتے تھے۔کیا امام حسین علیہ اسلام اس خطرے کے مقابلے میں خاموش بیٹھ سکتے تھے؟جو اسلام کو لاحق تھا اور یزید کے دور میں اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔کیا خدا، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور وہ ہستیاں جنہوں نے اپنے پاک دامن میں انہیں تربیت دی تھی ، اس پر راضی ہوتے؟ کیا ان پر لازم نہیں تھا کہ گزشت و فداکاری کے ذریعے اس حکومت کو توڑ دیں جو معاشرہ پر سایہ فگن تھی ۔ بنی امیہ کے مذموم اور اسلام دشمن مقاصد کو آشکارا کریں اور اپنے پاک خون سے تاریخِ اسلام کے لئے درسِ عبرت اور مسلمانوں کے لیے نمونہ عمل کے طور پر باقی رہیں۔ امام حسین علیہ اسلام نے یہ کام اور اسلام کے مقابلہ میں اپنا فریضہ انجام دیا۔تاریخ کا رخ موڑ دیا اور بنی امیہ اور ان کے پیروکاروں کی ظالمانہ کوششوں کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنا دیا۔ یہ ہے قیامِ حسین علیہ اسلام کی حقیقی صورتِ حال اور یہیں سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ نام و تاریخِ حسین علیہ اسلام کیوں فراموش نہیں ہوتی؟کیونکہ امام حسین علیہ اسلام اور ان کا مقصد ایک خاص زمانہ اور ایک خاص عصر سے مختص نہ تھے۔امام حسین علیہ اسلام اور ان کا ہدف و مقصد جاودانی اور ہمیشگی تھا۔ امام حسین علیہ اسلام نے راہِ خدا و اسلام، راہِ حق و عدالت، اور جہالت و گمراہی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں کو آزاد کرنے کے لئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔کیا یہ چیزیں کبھی پرانی اور فراموش ہونے والی ہیں؟ ہر گز نہیں!

تو جب تک حضرت امام حسین علیہ اسلام کا ہدف و مقصد یعنی خدا ، اسلام اور حق طلب انسان باقی ہیں تو اس وقت تک امام حسین علیہ اسلام فراموش نہیں ہو سکتے۔

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close