کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
لبنان

اگر لبنان پر حملہ ہوا تو اسرائیل کو نیست و نابود کر دیں گے ،شہدائے حزب اللہ کی برسی سے حسن نصر اللہ کا خطاب

shiite_hezbollah_rally_16

اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ لبنان کی جانب سے سولہ فروری کو شہید راغب حرب،شہید عباس موسوی اور حاج عماد مغنیہ سمیت شہدائے لبنان و حزب اللہ کی یاد میں اور شہدائے حریت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بیروت میں لاکھوں افراد نے ریلی نکالی ،جبکہ برسی کے حوالے سے پروگرام امام بارگاہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام بیروت میں منعقد ہوا ۔ریلی کی خاص بات یہ تھی کہ ریلی کے شرکاء سے قائد حزب اللہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب فرمایا،سیکیوریٹی کے پیش نظر حزب اللہ کے قائد نے براہ راست ویڈیو فونک خطاب کیا،شیعت نیوز کے نمائندے کے مطابق بیروت میں شہدائے حزب اللہ لبنان سے اظہار یکجہتی کرنے اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مرد و خواتین نے شرکت کی،جبکہ اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے قائدین سمیت شہدائے لبنان و حزب اللہ کے خانوادوں نے بھی شرکت کی،شرکائے ریلی نے شہدائے حزب اللہ کی تصاویر ،جن میں عماد مغنیہ ،شہید عباس موسوی،شہید راغب حرب،شہید علی اشمر ،شہید احمد قصیر اور قائد حزب اللہ سید حسن نصر اللہ کے فرزند شہید سید ہادی نصر اللہ کی تصاویر اور حزب اللہ کے پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ شرکائے ریلی نے لبنان کے پرچم بھی بلند کر رکھے تھے ۔شرکائے ریلی نے عالمی استعمار امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی بلند کئے جبکہ لبیک یا حسین علیہ السلام کے فلک شگاف نعرے بھی بلند کئے اور لبیک حزب اللہ ولبیک یا نصر اللہ کے نعروں سے فضا گونجتی رہی ۔

ْۤ،قائد حزب اللہ لبنان سید حسن نصر اللہ نے شہداء کو خراج تضسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میں امت مسلمہ کو شہادت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت امام حسن علیہ السلام کے موقع پر تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان کے اُن چاہنے والوں کو کہ جو چند روز قبل جہاز گرنے سے جان بحق ہوئے اور ان کے عزیز و اقارب کو بھی تعزیت پیش کرتا ہوںکہ جو ابھی تک اپنے پیاروں کی میت کے انتظار میں ہیں،اور میں شہید رقیق الحریری کے لواحقین کو بھی تعزیت عرض کرتا ہوں۔حزب اللہ کے قائد سید حسن نصر اللہ نے جوان لیڈروں کو جو کہ مزاحمت اسلامی کے رکن ہیں اور فلسطین و مسجد اقصی ٰ کی آزادی کے لئے برسر پیکار ہیں ان کی خدمات کو سراہا اور فرمایا کہ ان جوان لیڈروں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جو کہ ان کی زندگی کا ثمر ہے۔قائد حزب اللہ لبنان سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ جب بھی ہمیں خطرہ لاحق ہوتا ہے ہم اپنا تجربہ استعمال نہیں کرتے بلکہ ہم انہی سوالات کو دہراتے ہیں وہی جو 1982کا سوال تھا،کیا امریکہ لبنان کو تحفظ فراہم کرے گا؟کیا بین الاقوامی قرارداد اور بین الاقوامی طبقات لبنان کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں؟کیا ہم اسرائیل کو فلسطینی اسیران اور شیبا فارم کو واپس دینے پر مجبور کر سکتے ہیں؟پھر قائد حزب اللہ سید حسن نصر اللہ نے فرمایا کہ کمزور لوگوں کے لئے دنیا میں جگہ نہیں ہے ،مشکل اور کٹھن حالات میں مضبوط لوگ ہی مستحکم رہتے ہیں ۔کیا لبنان مستحکم ہو سکتا ہے؟ہاں ہم نے ثابت کر دیا کہ لبنان مستحکم اور مضبوط تھا جبکہ اب پہلے سے زیادہ مستحکم ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خطروں کا بہادری کے ساتھ سامنا کرنا حزب اللہ کا شیوہ ہے۔حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نےصہیونی حکومت کوخبردار کیا ہے کہ اگراس نے لبنان کے کسی بھی علاقے پرجارحیت کی توہم تل ابیب کوتباہ کردیں گے ۔حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے کہاکہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن جولوگ ضاحیہ کی بنیادی تنصیبات کونشانہ بنانے کی سوچ رہے ہیں ہم ان پریہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگرتم نے ضاحیہ پرحملہ کیا توتل ابیب کی تمام تنصیبات کوتہس نہس کرکے رکھ دیں گے ۔حسن نصراللہ نے کہا کہ اگرتم لوگوں نے لبنان کے ہوائی اڈے ، آئیل ریفائنری یا کسی بھی بندرگاہ وتنصیبات پرحملہ کیا توہم بھی اس کا بھرپورجواب دیں گے ۔حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے شہید عباس موسوی ، شہیدشیخ راغب حرب اورشہیدعماد مغنیہ کی شہادت کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ اس پروگرام میں کہا ہم لبنان میں اپنی فوج عوام اوراستقامتی گروہ کی پشتپناہی سے ملک کے دفاع کے لئے ہرطرح کی توانائی رکھتے ہیں اورہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ لبنان کی حمایت کرے سیدحسن نصراللہ نے کہا کہ ہم شہید عمادمغنیہ کی شہادت کی برسی کے موقع پریہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم صرف انتقام برائے انتقام کی فکرمیں نہیں ہیں بلکہ تمام اقدارکی حفاظت ہمارا مطمح نظرہے، وہ اقدار جن کی شہید مغنیہ پاسداری کررہے تھے ۔سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے پچانوے فیصد زبانی دھمکیاں شرط کی صورت میں دی جارہی ہیں جس سے صہیونی حکام کے اندرخوف وہراس کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ۔ اسرائیل جوہمیشہ ہمیں دھمکیاں دیتا تھا آج لبنان سے خوف کھارہا ہے اوراب وہ یہ کہنے لگا ہے کہ اگرحملہ کروگے توہم بھی حملہ کریں گے ۔سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کا طریقہ جوابی دھمکی ہے اورخاص طورپراگردھمکی سنجیدہ ہو توایسے میں جوابی دھمکی جنگ کوروک یاکم ازکم ٹال سکتی ہے ۔اوریہ وہی چیزہے جس کا ہم نے صہیونی وزیرجنگ کی دھمکی کے جواب میں شام کے وزیرخارجہ کی دھمکی کے بعد مشاہدہ کیا ہے ۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیلی حکام اورعرب حکومتیں شام کے اس دوٹوک اورشفاف جواب کوسن کردنگ رہ گئیں ۔حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے اسی طرح زوردے کرکہا کہ اگراسرائیلی حکام یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایک بالشت زمین بھی سازبازکے ذریعہ قبضہ کرلیں گے تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے ۔انھوں نے کہاکہ نہ فلسطینی اورنہ ہی لبنانی کوئی بھی اپنی ایک بالشت بھی زمین سے صرف نظرنہیں کرےگا اوراستقامتی گروہ پوری کوشش کریں گے کہ وہ اپنی ایک ایک بالشت زمین غاصبوں کے قبضے سے آزاد کرالیں ۔سید حسن نصراللہ نے کہا کہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ زندگی طاقتورلوگوں کی ہے اورکمزورلوگوں کا اس طرح کے معاملات میں کوئی مقام نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جولوگ دوسروں کی حمایت کا سہارا لیتے ہیں ان کا معاشرےاوردنیامیں کوئی مقام نہیں ہے۔ صرف طاقتور افرادہی ہیں جواپنے مقاصد اورحقوق حاصل کرتے ہیں اورہم نے ثابت کردکھایا ہے کہ لبنان طاقتورہے اورآج ہردورسے زیادہ طاقتورہے ۔حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے اپنے اس خطاب میں لبنان کے خلاف صہیونی حکومت کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس طرح کی دھمکیوں کے مقابلے میں لبنان کے صدروزیراعظم پارلیمنٹ کے سربراہ اورفوج کی قیادت کے موقف کی تعریف کی اورکہاکہ یہ ساری باتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ صہیونی حکومت کی دھمکیوں کا ہم پرکوئی اثرہونےوالانہیں ہے اوراسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے پورا ملک متحد ہے ۔حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے لبنان کے صدراوروزیراعظم کے ان کے غیرملکی دوروں میں دئے گئے بیانات کا خاص طورسے ذکرکیا اورکہا کہ ان رہنماؤں نے صہیونی حکومت کی دھمکیوں کا بھرپورجواب دیا ہے سید حسن نصراللہ نے فلسطینیوں کے درمیان قومی آشتی کے موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل، فلسطین میں قومی آشتی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اورجوبھی عرب حکومت قومی آشتی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کررہی ہے وہ اسرائیل کا پورا پوراساتھ دے رہی اوراس کی خدمت کررہی ہے ۔ اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے قائد سید حسن نصراللہ نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگراسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو اسے بھرپور عسکری قوت کا سامنا کرنا پڑے گا۔اور اس صورت میں حزب اللہ اسرائیل کو نیست نابود کر دے گی،قائد حزب اللہ لبنان سید حسن نصر اللہ نے بیروت میں ریلی کے شرکا سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل ،رفیق حریری ائرپورٹ کو نشانہ بنائے گا توحزب اللہ لبنان تل ابیب ائرپورٹ پر بھی راکٹ برسائے گی ا۔سی طرح لبنانی فیکٹریوں،بجلی گھروں اور دیگر تنصیبات پر حملوں کا جواب بھرپور قوت سے دیا جائے گا۔حزب اللہ کمانڈر شہید عماد مغنیہ کی دوسری برسی کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی میں حزب اللہ کے ہزاروں حامی شریک تھے ۔سربراہ حزب اللہ نے کہا کہ شہدائے حزب اللہ کا خون رائیگاں نہیں گیا اور شہید عماد مغنیہ کے خون کا انتقام لیا جائے گا اور حزب اللہ اپنے شہید لیڈر حاج عماد مغنیہ کے خون کا غاصب صہیونی ریاست اسرائیل سے ایک مناسب اور ٹھیک وقت پر انتقام لے گی کہ جس کو اسرائیلی غاصب ریاست برداشت نہیں کر پائے گی ،انہوں نے کہا کہ شہداء کا راستہ ہمارا راستہ ہے کہ جس پر چل کر ہم بھی شہادت تک جاتے ہیں اور دشمن یہ سمجھنے سے قاصر ہے اور ہم اپنے گھر والوں ،بیٹوں،جان و مال سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں جو کہ دشمن نہیں کر سکتا ۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا اسرائیل سے مجاہد حریت شہید حاج عماد مغنیہ کے خون کو ٹھیک وقت پر اور بہترین انتقام لیں گے ۔اس موقع پر شرکائے ریلی نے لبیک یا حسین علیہ السلام ،لبیک حزب اللہ اور لبیک یا نصر اللہ کے فلک شگاف نعرے لگائے اور عالمیاستعمار امریکہ و اسرائیل مردہ باد کے نعرے بھی بلند کئے۔

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close