لبنان

لبنانی قوم اسرائیل سے نفسیاتی جنگ کے لئے تیار رہے۔ سید حسن نصر اللہ

syed-hassan

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے مرکزی امام بارگاہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام بیروت میں پانچویں مجلس عزا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٣٣ روزہ اسرائیل لبنان جنگ میں اسرائیل نے اپنے فوجیوں کو ذلت آمیز شکست کے ساتھ بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٣٣ روزہ حزب اللہ ،اسرائیل جنگ (2006)میرا اپنا تجربہ ہے کہ تقریباً 20لاکھ اسرائیلی بم سے محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہوئے یا اپنے گھروں سے باہر رہے۔انہوں نے کہا کہ اس ٣٣ روزہ جنگ میں خود اسرائیلیوں نے اپنے ٹینک تباہ،فوجیوں کو مرتے ہوئے،جبکہ اپنے فوجیوں کو شرمناک اور افسردہ انداز سے واپسی بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے اختتام پر اسرائیل کا اپنے فوجی و

 سیاسی قیادت پر اعتماد متزلزل ہو گیا اور اس جنگ کا شرمناک اختتام صہیونیوں کے لئے بڑا دھچکا تھا۔سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد اسرائیل کو دوسرا بڑا دھچکا 2008کی غزہ جنگ کے دوران ہوا جب وہ غزہ میں گھس بیٹھے ،اس جنگ میں اسرائیل کے دو مقاصد تھے۔ ١۔فلسطینیوں کو خوفزدہ کرو،لبنانیوں اور خطہ کے لوگوں کوقتل عام کے ذریعے پیغام دینا ،بموں کی برسات اور تباہی کے ذریعہ اور ممنوعہ ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال کے ذریعے ، ٢۔شکست خوردہ اسرائیلی قوم کو جو 2006میں حزب اللہ کے ہاتھوں رسوا ہوئی تھی ان پر یہ ثابت کرنا کہ اسرائیلی فوج دوبارہ طاقتور ہو چکی ہے۔ لیکن میں واضح کر دوں کہ غزہ جنگ میں بھی اسرائیل اپنے مزموم مقاصد کے حصول میں ناکام ہو گیا۔ لبنان ،فلسطین اور خطے کی تمام اقوام بالخصوص لبنانی قوم،ہم سب کو نفسیاتی جنگ لڑنے کے لئے تیار رہنا چاہیئے،وہ جنگ جو صہیونی دشمن نے نفسیاتی جنگ کی صورت میں مسلط کر دی ہے ہمیں یہ جنگ اس طرح لڑنی ہو گی جس طرح ہم اسرائیلی فوج کے آگے نبرد آزما ہوتے تھے۔انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے فولاد سکن ہتھیاروں کا مقابلہ میزائیلوں سے کیا جبکہ ہوائی جہازوں کا مقابلہ اپنی ائیر کرافٹ سے کیا۔انہوں نے مزاحمت اسلامی حزب اللہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حز ب اللہ کے جوان جذبہ شہادت سے اور حسینی عزم سے سرشار ہیں اور اپنے خون کے آخری قطرے تک اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لئے پر عزم ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close