مقبوضہ فلسطین

بے گھر ہونے والے افراد کی افسوسناک صورت حال

یہ لوگ مختلف عارضی کیمپوں میں سکونت پذیر ہیں اور بعض کیمپ جھڑپوں کے علاقے سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ہیں جہاں ضروریات زندگی ناپید ہیں اور نہایت کم وسائل دستیاب ہیں۔ 

سعودی عرب کے شہزادوں سے وابستہ العربیہ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق ان کیمپوں میں پانی بہت کم ہے؛ بجلی نہیں ہے؛ صحت کے وسائل بہت کم ہیں؛ خیموں کی شدید کمی ہے۔

المزرق کیمپ سرحد سے آٹھ کلومیتر دور ہے جہاں بے گھر افراد کی بہت بڑی تعداد سکونت پذیر ہے۔ اس کیمپ میں مزید افراد کی گنجائش نہیں ہے مگر بے گھر افراد ابھی اس کیمپ میں آرہے ہیں۔


 

اسلامی امداد رسانی کی تنظیم کے نمائندے اور المزرق کیمپ کے انچارج عارف کان نے کہا ہے کہ اس کیمپ کی گنجائش تین ہفتے قبل پر ہوگئی ہے مگر بے گھر افراد مسلسل آکر اسی کیمپ میں پڑاؤ ڈال رہے ہیں جبکہ اس کیمپ میں خیموں کی شدید کمی ہے اور اشیاء و خورد و نوش کی قلت کی وجہ سے کیمپ میں ساکن افراد شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

صعدہ کی لڑائی کی وجہ سے ایک لاکھ پچھتر ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں جن کی اکثریت کیمپوں سے دور چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں سکونت پذیر ہیں۔ جبکہ لاکھوں افراد لڑائی کا شکار ہونے والے علاقوں میں ناکہ بندی کا شکار ہیں جن کی صورتحال سے کسی کو کوئی اطلاع نہیں مل رہی۔

عالمی ریڈکراس نے بھی اعلان کیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں اور نامناسب سیکورٹی صورت حال کی وجہ سے بے گھر افراد کو کسی قسم کی امداد پہنچانا ممکن نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close