مقبوضہ فلسطین

غزہ کے محصورفلسطینیوں پرمصرکا ایک اورسنگین ستم


mubarrak    

 

ایک ایسے وقت جب مصرمیں اسلامی ملکوں کی انٹرپارلیمنٹری یونین کا اجلاس شروع ہونےوالا ہے مصری پارلیمنٹ کے اراکین نے غزہ سے ملحقہ مصری سرحدوں پرفولادی دیوارکی تعمیرپراعتراض کرتے ہوئے حکومت مصرسے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی ہے ۔ مصری پارلیمنٹ میں اخوان المسلمین کے ممبران نے پارلیمنٹ کے اسپیکرسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دیوارکی ساخت کے بارے میں ٹھوس وضاحت پیش کريں۔ اخوان المسلمین کے ممبران کی طرف سے ٹھوس وضاحت کا مطالبہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس سے پہلے مصری حکومت نےاس طرح کے اقدام کی تردید کی تھی اس نے کہا تھاکہ غزہ سے ملحقہ سرحدوں پرایسی کوئی تبدیلی نہيں کی گئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں فولادی دیوارکی تعمیرکا کام جاری ہے۔ مصری حکومت کے اس بیان پرملک ميں کسی کوبھی یقین نہیں آیا کیونکہ سبھی اس بات کوجانتے ہيں کہ مصری حکومت غزہ سے ملحقہ سرحدپرفولادی دیوارتعمیرکرارہی ہے ۔ گذشتہ دنوں صہیونی اخبارہاآرتض نے لکھا تھا کہ مصری حکومت ایک دیوارغزہ سے ملحقہ اپنی سرحدوں پرتعمیرکرنےجارہی ہے۔ مصری حکومت کے اس اقدام کا مقصدیہ ہے کہ غزہ میں محصورفلسطینیوں کوسرنگوں کے ذریعہ بھی غزہ سے باہرنہ نکلنے دے ۔ گذشتہ ڈھائی تین برسوں سے جب سے مصر اورصہیونی حکومت نے غزہ کا محاصرہ کیاہے غزہ میں محصورفلسطینی اپنی ضروریات کی اشیاء کی خریداری کے لئے غزہ سے باہرجانے کی غرض سے انہی سرنگوں کا استعمال کرتے ہيں جوانھوں نے خفیہ طریقے سےبنارکھی ہے مگرغزہ پرصہیونی حکومت کی بائیس روزہ جارحیت اوراس میں اسرائیل کوشرمناک شکست کے بعد مصری حکومت نے اس طرح کی سرنگوں کا پتہ لگاکرانھيں منہدم کرنے کے اقدام کررہی ہے اوراس طرح صہیونی حکومت اورامریکہ کی خدمت کر رہی ہے کیونکہ جوکام صہیونی حکومت اورامریکہ نہيں کرسکے وہ کام مصری حکومت کررہی ہے۔ مصری حکومت نے اس طرح کے اقدام کے ذریعہ سخت سردیوں میں غزہ کے باشندوں کے لئے ایندھن اوردیگرغذائی اشیاء کی ترسیل کوناممکن بنانے کی کوشش کی ہے ۔اس وقت غزہ کے باشندوں کوخوراک وادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے اورغزہ کے عوام جن خفیہ سرنگوں کے ذریعہ غزہ کے باہرجاکربینادی اشیاء کی خریداری کرتے تھے وہ بھی اب مصری حکومت کے اس طرح کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے مشکل ہوجائے گی اوریوں غزہ کے عوام جوپہلے ہی ایک بہت بڑے میں اورکھلے قید خانے میں محصورہيں مزید مشکلات ومسائل سے دوچارہوں گے ۔آج مصری حکومت کواس بات کولے کرغصہ ہے کہ غزہ کے عوام کا اتنا شدید محاصرہ ہونے کے بعد بھی مزاحمتی قوتيں کیونکران سرنگوں سے ضروری اشیاء بے گناہ فلسطینیوں کے لئے فراہم کرتی ہیں۔ مصری حکومت کواس بات پرغصہ ہے کہ جس مقصد کے لئے صہیونی حکومت اورقاہرہ نے غزہ کے عوام کا محاصرہ کیا تھا وہ پورا نہيں ہورہا ہے ۔ کیونکہ صہیونی حکومت ، مصر، محمودعباس کی انتظامیہ اوراسی طرح عرب درباروں کویہ توقع تھی کہ غزہ کے عوام کا محاصرہ تنگ کرنےسے غزہ میں محصورفلسطینی عوام اسماعیل ہنیہ کی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لیں گے اوران کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے لیکن گذشت ہفتے جس طرح کا منظرغزہ میں دیکھنے کوملا اس نے ان حکومتوں کی امیدوں پرپانی پھیردیا ۔ پچھلے ہفتہ حماس کی تشکیل کی سالگرہ کے موقع پرغزہ میں لاکھوں فلسطینیوں نے ایک بہت بڑے اجتماع میں شرکت کرکے اسماعیل ہنیہ اورحماس کے اصولوں کے تئیں اپنی وفاداری کا اعلان کیا اوریوں ایک بارپھر غزہ کے محصورفلسطینیوں نے صہیونی حکومت اوراس کے علاقائی اتحادیوں کے منہ پرزوردارطمانچہ رسید کیا ہے ۔غزہ کی سرحدوں پرمصری حکومت کی طرف سے جوفولادی دیوارتعمیرکی جارہی ہے اس کے بارے میں ملنےوالی اطلاعات کے مطابق اس دیوارکی تعمیرکا منصوبہ امریکہ اورصہیونی حکومت نے تیارکیا تھا جس پرمصری حکومت کام کررہی ہے اورعرب درباروں نے اس کی حمایت کی ہے۔یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اس دیوارکی تعمیرپرآنے والے اخراجات علاقے کے بعض عرب درباربرداشت کررہے ہیں ۔فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کرنےوالی اقوام متحدہ کی تنظیم کی نمائندہ کارین ابوزید نے بھی اس دیوار کی تعمیرکی تصدیق کرتے ہوئے  اس منصوبے کا انکشاف کیا ہے ۔ اس فولادی دیوار کی چادریں امریکہ میں تیارکی گئی ہيں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے بموں سے بھی نہيں خراب کیا جاسکتا۔ اس دیوار کی بنیاد یں زیرزمین تیس میٹرگہری ہوں گی اوردس کیلومیٹریہ دیوارلمبی ہوگی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طرح سے اس دیوار پرکام ہورہا ہے اس سے تویہی لگتا کہ امریکہ، صہیونی حکومت، مصراوربعض عرب حکومتیں غزہ کے علاقے کوہمیشہ کے لئے محصوررکھنا چاہتی ہيں ۔مصری حکومت نے اگرچہ اس دیوار کی تعمیرکی تردید کی ہے مگروہاں پراس کے بلڈوزروں نے کھدائی کا کام شروع کردیا ہے ۔ان مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت جوچیزمصری حکومت کے لئے باعث ننگ وعارہے وہ غاصب صہیونی حکومت کے ساتھ اس کا تعاون ہے جووہ غزہ کا محاصرہ تننگ سے تنگ کرنے کے لئے انجام دے رہی ہے مصری حکومت کے اس طرح کے اقدام سے حسنی مبارک کی انتظامیہ کی ماہیت کا بخوبی پتہ چلتا ہے ۔البتہ حسنی مبارک کی حکومت نے اس پہلے بھی فلسطینی عوام سے اپنی دشمنی کوظاہرکرنے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا تھا اوراس نے ہرموقع پراپنی غیرانسانی ماہیت کا برملاثبوت پیش کیا تھا ۔ غزہ  پرصہیونی حکومت کی بائیس روزہ جنگ کے دوران مصری حکومت کا اس بات پراصرارتھا کہ جب تک غزہ کے عوام اورحماس نابود نہ ہوجائیں اس وقت تک صہیونی حکومت کواپنے حملے جاری رکھنے چاہئيں۔ مصری حکومت نے اس حملے کے دوران اوراس سےپہلے سے ہی مصراورغزہ کی سرحدوں کوبند کردیاتھا تا کہ غزہ کے عوام کوکسی بھی طرح کی بنیادی ضرورتوں کی اشیاء نہ پہنچ سکیں  ۔ مصری حکومت نے ہی صہیونی حکومت کوان سرنگوں کی نشاندہی کی جن کا استعمال کرکے غزہ کے عوام کبھی کبھی باہرنکلتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی مصری حکومت کا اس  بات پراصرارتھا کہ تمام مزاحمتی گروہ نابود ہوجائيں اورفلسطینی مملکت کے اکیلے سربراہ محمودعباس رہیں۔ اس کے علاوہ کافی عرصے سے مصری حکومت اس کوشش میں لگی ہوئي ہے کہ جیسے بھی ہوفلسطین  کے جہادی گروہوں کونہتا کردیا جائے تاکہ اسرائیل اپنی من مانی کرسکے۔ فلسطینی امنگوں کے خلاف مصری حکومت کے مخاصمانہ اندازکے انہی چندنمونوں کودیکھنے کے بعد ہی صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی کازاوران کی جدوجہدکوکمزورکرنےکے لئے مصری حکومت کے دشمنانہ کردارکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔اس بات کونظراندازنہیں کرنا چاہئےکہ اگرچہ مصری حکومت غزہ سے ملحقہ اپنی  سرحدپر فولادی دیوارکی تعمیرکی تردید کررہی ہے مگراس علاقے میں بلڈوزروں کی آوازيں ایسی بلندوباگ فریاديں ہیں جومصری حکومت کے جھوٹ اوراس کی غلط بیانی کو چیخ چیخ کرپوری دنیاکے کانوں تک پہنچارہی ہيں
ایک ایسے وقت جب مصرمیں اسلامی ملکوں کی انٹرپارلیمنٹری یونین کا اجلاس شروع ہونےوالا ہے مصری پارلیمنٹ کے اراکین نے غزہ سے ملحقہ مصری سرحدوں پرفولادی دیوارکی تعمیرپراعتراض کرتے ہوئے حکومت مصرسے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی ہے ۔ مصری پارلیمنٹ میں اخوان المسلمین کے ممبران نے پارلیمنٹ کے اسپیکرسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دیوارکی ساخت کے بارے میں ٹھوس وضاحت پیش کريں۔ اخوان المسلمین کے ممبران کی طرف سے ٹھوس وضاحت کا مطالبہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس سے پہلے مصری حکومت نےاس طرح کے اقدام کی تردید کی تھی اس نے کہا تھاکہ غزہ سے ملحقہ سرحدوں پرایسی کوئی تبدیلی نہيں کی گئی ہے۔  جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں فولادی دیوارکی تعمیرکا کام جاری ہے۔ مصری حکومت کے اس بیان پرملک ميں کسی کوبھی یقین نہیں آیا کیونکہ سبھی اس بات کوجانتے ہيں کہ مصری حکومت غزہ سے ملحقہ سرحدپرفولادی دیوارتعمیرکرارہی ہے ۔ گذشتہ دنوں صہیونی اخبارہاآرتض نے لکھا تھا کہ مصری حکومت ایک دیوارغزہ سے ملحقہ اپنی سرحدوں پرتعمیرکرنےجارہی ہے۔ مصری حکومت کے اس اقدام کا مقصدیہ ہے کہ غزہ میں محصورفلسطینیوں کوسرنگوں کے ذریعہ بھی غزہ سے باہرنہ نکلنے دے ۔ گذشتہ ڈھائی تین برسوں سے جب سے مصر اورصہیونی حکومت نے غزہ کا محاصرہ کیاہے غزہ میں محصورفلسطینی اپنی ضروریات کی اشیاء کی خریداری کے لئے غزہ سے باہرجانے کی غرض سے انہی سرنگوں کا استعمال کرتے ہيں جوانھوں نے خفیہ طریقے سےبنارکھی ہے مگرغزہ پرصہیونی حکومت کی بائیس روزہ جارحیت اوراس میں اسرائیل کوشرمناک شکست کے بعد مصری حکومت نے اس طرح کی سرنگوں کا پتہ لگاکرانھيں منہدم کرنے کے اقدام کررہی ہے اوراس طرح صہیونی حکومت اورامریکہ کی خدمت کر رہی ہے کیونکہ جوکام صہیونی حکومت اورامریکہ نہيں کرسکے وہ کام مصری حکومت کررہی ہے۔ مصری حکومت نے اس طرح کے اقدام کے ذریعہ سخت سردیوں میں غزہ کے باشندوں کے لئے ایندھن اوردیگرغذائی اشیاء کی ترسیل کوناممکن بنانے کی کوشش کی ہے ۔اس وقت غزہ کے باشندوں کوخوراک وادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے اورغزہ کے عوام جن خفیہ سرنگوں کے ذریعہ غزہ کے باہرجاکربینادی اشیاء کی خریداری کرتے تھے وہ بھی اب مصری حکومت کے اس طرح کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے مشکل ہوجائے گی اوریوں غزہ کے عوام جوپہلے ہی ایک بہت بڑے میں اورکھلے قید خانے میں محصورہيں مزید مشکلات ومسائل سے دوچارہوں گے ۔آج مصری حکومت کواس بات کولے کرغصہ ہے کہ غزہ کے عوام کا اتنا شدید محاصرہ ہونے کے بعد بھی مزاحمتی قوتيں کیونکران سرنگوں سے ضروری اشیاء بے گناہ فلسطینیوں کے لئے فراہم کرتی ہیں۔ مصری حکومت کواس بات پرغصہ ہے کہ جس مقصد کے لئے صہیونی حکومت اورقاہرہ نے غزہ کے عوام کا محاصرہ کیا تھا وہ پورا نہيں ہورہا ہے ۔ کیونکہ صہیونی حکومت ، مصر، محمودعباس کی انتظامیہ اوراسی طرح عرب درباروں کویہ توقع تھی کہ غزہ کے عوام کا محاصرہ تنگ کرنےسے غزہ میں محصورفلسطینی عوام اسماعیل ہنیہ کی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لیں گے اوران کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے لیکن گذشت ہفتے جس طرح کا منظرغزہ میں دیکھنے کوملا اس نے ان حکومتوں کی امیدوں پرپانی پھیردیا ۔ پچھلے ہفتہ حماس کی تشکیل کی سالگرہ کے موقع پرغزہ میں لاکھوں فلسطینیوں نے ایک بہت بڑے اجتماع میں شرکت کرکے اسماعیل ہنیہ اورحماس کے اصولوں کے تئیں اپنی وفاداری کا اعلان کیا اوریوں ایک بارپھر غزہ کے محصورفلسطینیوں نے صہیونی حکومت اوراس کے علاقائی اتحادیوں کے منہ پرزوردارطمانچہ رسید کیا ہے ۔غزہ کی سرحدوں پرمصری حکومت کی طرف سے جوفولادی دیوارتعمیرکی جارہی ہے اس کے بارے میں ملنےوالی اطلاعات کے مطابق اس دیوارکی تعمیرکا منصوبہ امریکہ اورصہیونی حکومت نے تیارکیا تھا جس پرمصری حکومت کام کررہی ہے اورعرب درباروں نے اس کی حمایت کی ہے۔یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اس دیوارکی تعمیرپرآنے والے اخراجات علاقے کے بعض عرب درباربرداشت کررہے ہیں ۔فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کرنےوالی اقوام متحدہ کی تنظیم کی نمائندہ کارین ابوزید نے بھی اس دیوار کی تعمیرکی تصدیق کرتے ہوئے  اس منصوبے کا انکشاف کیا ہے ۔ اس فولادی دیوار کی چادریں امریکہ میں تیارکی گئی ہيں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے بموں سے بھی نہيں خراب کیا جاسکتا۔ اس دیوار کی بنیاد یں زیرزمین تیس میٹرگہری ہوں گی اوردس کیلومیٹریہ دیوارلمبی ہوگی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طرح سے اس دیوار پرکام ہورہا ہے اس سے تویہی لگتا کہ امریکہ، صہیونی حکومت، مصراوربعض عرب حکومتیں غزہ کے علاقے کوہمیشہ کے لئے محصوررکھنا چاہتی ہيں ۔مصری حکومت نے اگرچہ اس دیوار کی تعمیرکی تردید کی ہے مگروہاں پراس کے بلڈوزروں نے کھدائی کا کام شروع کردیا ہے ۔ان مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت جوچیزمصری حکومت کے لئے باعث ننگ وعارہے وہ غاصب صہیونی حکومت کے ساتھ اس کا تعاون ہے جووہ غزہ کا محاصرہ تننگ سے تنگ کرنے کے لئے انجام دے رہی ہے مصری حکومت کے اس طرح کے اقدام سے حسنی مبارک کی انتظامیہ کی ماہیت کا بخوبی پتہ چلتا ہے ۔البتہ حسنی مبارک کی حکومت نے اس پہلے بھی فلسطینی عوام سے اپنی دشمنی کوظاہرکرنے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا تھا اوراس نے ہرموقع پراپنی غیرانسانی ماہیت کا برملاثبوت پیش کیا تھا ۔ غزہ  پرصہیونی حکومت کی بائیس روزہ جنگ کے دوران مصری حکومت کا اس بات پراصرارتھا کہ جب تک غزہ کے عوام اورحماس نابود نہ ہوجائیں اس وقت تک صہیونی حکومت کواپنے حملے جاری رکھنے چاہئيں۔ مصری حکومت نے اس حملے کے دوران اوراس سےپہلے سے ہی مصراورغزہ کی سرحدوں کوبند کردیاتھا تا کہ غزہ کے عوام کوکسی بھی طرح کی بنیادی ضرورتوں کی اشیاء نہ پہنچ سکیں  ۔ مصری حکومت نے ہی صہیونی حکومت کوان سرنگوں کی نشاندہی کی جن کا استعمال کرکے غزہ کے عوام کبھی کبھی باہرنکلتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی مصری حکومت کا اس  بات پراصرارتھا کہ تمام مزاحمتی گروہ نابود ہوجائيں اورفلسطینی مملکت کے اکیلے سربراہ محمودعباس رہیں۔ اس کے علاوہ کافی عرصے سے مصری حکومت اس کوشش میں لگی ہوئي ہے کہ جیسے بھی ہوفلسطین  کے جہادی گروہوں کونہتا کردیا جائے تاکہ اسرائیل اپنی من مانی کرسکے۔ فلسطینی امنگوں کے خلاف مصری حکومت کے مخاصمانہ اندازکے انہی چندنمونوں کودیکھنے کے بعد ہی صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی کازاوران کی جدوجہدکوکمزورکرنےکے لئے مصری حکومت کے دشمنانہ کردارکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔اس بات کونظراندازنہیں کرنا چاہئےکہ اگرچہ مصری حکومت غزہ سے ملحقہ اپنی  سرحدپر فولادی دیوارکی تعمیرکی تردید کررہی ہے مگراس علاقے میں بلڈوزروں کی آوازيں ایسی بلندوباگ فریاديں ہیں جومصری حکومت کے جھوٹ اوراس کی غلط بیانی کو چیخ چیخ کرپوری دنیاکے کانوں تک پہنچارہی ہيں

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close