لبنان

صیہونی حکومت لبنان کے سابق وزير اعظم کی قتل کا ذمہ دار

 

Hizbullah-Leader-Nasrullahحزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ایسے ثبوت بہت جلد شائع کئے جائیں گے جس میں یہ بات پتہ چلتی ہے کہ اسرائیل رفیق حریری کے قتل کا ذمہ دار ہے ۔
حزب اللہ کے سربراہ نے غاصب صیہونی حکومت کو لبنان کے سابق وزير اعظم کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ٹھوس شواہد جلد سامنے لائے جائیں گے جس سے اقوام متحدہ کو رفیق حریری کے قتل کے بارے میں مدد ملے گي ۔
ادھر لبنان کی سیکوریٹی فورسز نے فوج کے ایک اعلی افسر کو اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے چند روز پہلے ایک موبائیل کمپنی کے ایک اعلی عہدیدار کو بھی اسی جرم میں گرفتار کیا گيا تھا ۔ یاد رہے لبنان میں جاسوسی ثابت ہونے پر متعلقہ شخص کو پھانسی کی سزا دی جاسکتی ہے ۔ ادہر لبنان کے حکام نے ایک ہنگامی اجلاس میں اسرائيل کی حالیہ جارحیت کے خلاف مقابلہ کرنے کا حکم جاری کردیا ہے ۔
لبنان کی قومی دفاعی کونسل کے سیکریٹری جنرل بریگیڈیئر سعید عید نے لبنان کے صدارتی ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں کے جواب میں تمام فورسز کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور مختلف اداروں اور وزارتوں کے ذمہ کام لگادیئے گئے ہیں ۔
اقوام متحدہ نے غاصب اسرائیل کی طرف سے لبنانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور حالیہ حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان مارتھن نسیر کی نے کہا ہے کہ بان کی مون نے فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے ۔
بیروت میں جشن
33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کے ہاتھوں صہیونی افواج کی تاریخی اور ذلت آمیز شکست کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر کل رات بیروت میں ایک بڑا شاندار عوامی اجتماع منعقد ہوا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ لبنان پر حملہ کیا تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہیں گے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ گزشتہ روز اسرائیلی فورسز سے جھڑپ کے دوران تنظیم کے کارکن لبنانی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے پوری طرح تیارہیں تاہم کشیدگی کو ہوا دینے سے گریز کرتے ہوئے انہیں روک دیاگیاہے۔
اسرائیل اور لبنان کی فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں دو لبنانی فوجی اور ایک لبنانی صحافی شہید جبکہ ایک اعلی صہیونی فوجی کمانڈرماراگیا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ دو ہزار پانچ میں اُس وقت کے لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو قتل کرنے میں اسرائیل ملوث تھا اور اِس بارے میں شواہد اگلے ہفتے منظر عام پر لائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ عالمی تحقیقاتی ٹریبونل نے کہ جو مکمل طور پرامریکی اور صہیونی لابی کے زیر اثر ہے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ رفیق حریری کے قتل میں حزب اللہ کو ملوث قرار دیا ہے ۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close