لبنان

حریری قتل کیس؛ سیدحسن نصراللہ کے سنسنی خیزانکشافات

Syed-hassan-nasrullah

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے لبنان کے سابق وزير اعظم رفیق حریری کے قتل کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست اس قتل کی ذمہ ہے۔
سید حسن نصراللہ نے رفیق حریری کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے سلسلے میں تحریری اور تصویری ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا: اسلامی تحریک مزاحمت سے اسرائیل کی دشمنی اس بات کا باعث بنی ہے کہ وہ تحریک مزاحمت کو ختم کرنے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لئے ہر موقع سے  فائدہ اٹھاتا ہے۔
سید حسن نصراللہ نے کہا: شام کے صدر بشار اسد نے سیکورٹی کونسل کی قرار داد نمبر 1559 سے پہلے مجھے بتایا تھا کہ ایک امریکی عہدیدار نے انہیں بتایا ہے کہ اگر حزب اللہ کو غیر مسلح کردیا جائے تو انہیں مقامی فوجوں کی لبنان میں موجودگی حتی فلسطین کی سرحدوں تک تعیناتی پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق غاصب صہیونی ریاست گروپ چودہ مارچ کے افراد سعد حریری اور سمیر جعجع کو بھی قتل کرکے اس کا الزام شام اور حزب اللہ پر لگانے کا ارادہ رکھتی تھی۔
سید حسن نصراللہ نے اسرائیلی ایجنٹوں کا نام لیکر بتایا کہ گرفتار ہونے والے ان اسرائیلی ایجنسیوں کےافراد نے لبنان میں قتل و غارت اور سیاحوں کو قتل کرنے کےلئے کئے جانے والے دھماکوں کا اعتراف کیا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ لبنان کے اسپیکر نبیہ بری اور غالب عوالی پر قاتلانہ حملے نیز شیعہ سنی اختلاف پھیلانے کی سازش اور جعلی نام جند الشام کے ذریعے پمفلٹ شائع کرنا اور حزب اللہ کے سربراہ کو قتل کرانے کی سازشیں چند ایسی مثالیں ہیں جن کا اعتراف اسرائیلی ایجنٹ کرچکے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے مزید کہا ہے کہ عالمی عدالت ستمبر میں رفیق حریری کے قتل کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گي اور ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ صہیونی لابی کے زير اثر دیا جائیگا اور حزب اللہ پر الزام لگاکر لبنان میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائیگي۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ثبوت کی فراہمی کا مقصد حزب اللہ کی جانب سے اس اندھے قتل کے اصل ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں مدد فراہم کرنا ہےتاہم انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری رفیق حریری کے اصل قاتلوں کے بجائے حزب اللہ پر انگشت نمائی کر رہی ہے۔
سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ 14 فرروی 2005ء کو سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریر کی گاڑی دھماکے سے اڑانے میں اسرائیل کا ہاتھ تھا، جس میں وہ اپنے محافظوں سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ”ان کے پاس ایسے دسیوں ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ رفیق حریری کے قتل کی منصوبہ بندی سے لے کر ان کے قتل تک ساری کارروائی میں براہ راست اسرائیلی ریاست ملوث ہے۔
نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے اسرائیلی لڑاکا اور”اواکس” ڈرون طیاروں کی تصاویر بھی دکھائیں جو لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے محل، ان کی تفریح گاہ اور آمد و رفت کے راستوں کی تصویریں بنانے میں مصروف تھے۔
انھوں نے کہا: جن دنوں رفیق حریری کو قتل کیا گیا اسی وفت اسرائیلی جہاز مسلسل لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں؛ اور ان جہازوں میں کسی شخص کو کسی بھی جگہ نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان طیاروں کے ذریعے لیزر گائیڈڈ میزائل بھی داغے جاتے رہے ہیں۔
دو گھنٹے پر محیط اس طویل نیوز کانفرنس میں سید حسن نصر اللہ نے ایک ویڈیو ٹیپ کی فوٹیج بھی دکھائی، جس میں اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں کی غیر معمولی نقل وحرکت اور لبنانی کی جنوبی ساحلوں پٹی پر مسلسل پروازیں کرتے، فلم بناتے اور لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے دکھایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا: ان پاس یہ ثبوت رفیق حریری کے قتل کے سلسلہ میں ایسے شواہد ہیں، جو عالمی فوجداری عدالت کو بھی حزب اللہ فراہم کر چکی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر لبنانی حکومت کہے تو وہ مزید شواہد منظرعام پر لانے کے ساتھ ساتھ وہ شواہد عالمی عدالت انصاف کو بھی فراہم کر سکتے ہیں، تاکہ رفیق حریری قتل کیس کے سلسلہ میں تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے۔
حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے لبنان میں جاسوسی کا ایک جال بچھا رکھا ہے۔ جاسوسی نیٹ ورک نیا نہیں، 1990 کے عشرے میں حزب اللہ نے محمد نصراللہ نامی ایک اسرائیل جاسوس کو گرفتار کیا اور اس کے پاس سے کئی اہم شواہد برآمد کئے؛ تاہم حکومت نے بغیر کسی سبب کے اسے 2000ء میں رہا کر دیا تھا اور اس کے بعد اب اسرائیل نے لبنان کے ہر علاقے اور ہر شعبے میں اپنے جاسوس بٹھا رکھے ہیں، جو پل پل کی خبریں صہیونی ریاست کو فراہم کر رہے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے کہا: اسرائیل لبنان اور فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں کو کچلنے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ 2005ء میں رفیق حریری کے قتل کے بعد ان کے قتل میں شام کو قصور وار ٹھہرایا گیا تھا جس کے بعد شام کو اپنی فوجیں لبنان سے واپس بلانا پڑی تھیں۔
سید حسن نصراللہ نے رفیق حریری کے قتل میں اسرائیل کو ملوث قرار دینے سے متعلق کئی مزید ویڈیو بھی دکھائیں، جن میں اسرائیلی حکام کو لبنان میں کارروائیوں کے لیے منصوبہ بندی کرتے اور نقل وحرکت کرتے دکھایا گیا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے مقتول وزیر اعظم کی گزرگاہوں کی اسرائیلی فوٹیج منظرعام پر لاتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل نے خفیہ آلات کی مدد سے بیروت میں اْن راستوں کی فوٹیج بنائی،جن سے مقتول لبنانی وزیر اعظم گزرا کرتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ 14  فروری 2005 کو بیروت کے علاقے سینٹ جارج میں جب رفیق الحریری کا قافلہ بم دھماکے کا نشانہ بنا تو اس وقت اس علاقے میں ایک ایسا شخص موجود تھا، جس پر اسرائیلی جاسوس ہونے کا شبہ ہے۔
سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ بیروت کے مختلف راستوں کی مختلف اوقات میں اسرائیلی نگرانی کی یہ فوٹیج محض اتفاق نہیں، بلکہ جب اسے ماہرین کے سامنے پیش کیا جائے گا، تو اس بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ فوٹیج بنانے والے اس عمل کے ذریعے آپریشن کی منصوبہ کر رہے تھے۔
حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ان شواہد کی مدد سے ملنے والے اشارے تحقیقات کو ایک نئی جہت دیں گے اور اس سے سچ جاننے میں مدد ملے گی۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ اسلام دشمن عناصر عالمی عدالت کے ذریعہ اسلامی مقاومت کے صاف و شفاف چہرے کو مخدوش بنانا چاہتے ہیں جبکہ رفیق حریری عدالت کی تشکیل میں امریکہ اور برطانیہ دونوں ملوث ہیں اور اس عدالت کے بعض تفتیشی اہلکاروں کا اسرائيلی موساد کے ساتھ قریبی رابطہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلامی مزاحمت تحریک کے چہرے کو مخدوش بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ رفیق حریری قتل کا تعلق صرف حریری خاندان سے ہی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قومی مسئلہ اور لبنانی عوام سے متعلق مسئلہ ہے اور اسی لئے ہم اس مسئلہ کے سلسلے میں عدل و انصاف کے خواہاں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل حریری قتل کے اصلی عامل اور مجرم ہیں اور وہ حریری قتل کا الزام اسلامی تحریک مزاحمت تحریک پر عائد کر کے اسلامی مزاحمت کو کمزور کرنے اور اس کے پاک و صاف چہرے کو مخدوش بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ،برطانیہ اور اسرائیل نے اس عدالت کو وجود بخشا اور اس عدالت اور اس کے تفتیش کاروں کا عنقریب پردہ چاک کر دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے تفتیش و تحقیق کا جو طریقہ کار اختیار کیا ہے، وہ بالکل غیر منصفانہ اور ظالمانہ ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ رفیق حریری کے قتل کیس میں جو لوگ ملوث ہیں،عدالت نے آج تک ان سے پوچھ گچھ اور تفتیش نہیں کی۔
انھوں نے کہا کہ ہم حریری قتل کیس میں ملوث مجرموں کی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن اگر مجرموں سے پوچھ گجھ ہی نہ کی جائے اور غیر متعلقہ افراد پر قتل کا الزام عائد کرکے مزاحمت تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کی جائے تو لبنانی عوام اس کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں آئندہ پریس کانفرنس میں ایسے شواہد پیش کروں گا جن کی بنا پر رفیق حریری کے قتل کیس میں پائے جانے والے ابہامات دور ہوجائیں گے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: اسرائیل لبنان میں خانا جنگی اور مذہبی و قومی فتنے برپا کرنےکے منصوبوں پر عمل کررہا ہے۔
انھوں نے ان جاسوسوں کے نام لئے جو لبنان میں رہ کر اسرائیل کے لئے کام کرتے تھے اور کہا کہ یہ جاسوس رفیق حریری کے سکیورٹی اداروں میں نفوذ پیدا کرکے انھیں غلط اطلاعات فراہم کرتے تھے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں محمد نصراللہ کے اعتراف پر مبنی ویڈيو بھی دکھائی انھوں نے کہا کہ اسرائیلی جاسوسوں کا رفیق حریری سکیورٹی اداروں میں اس قدر نفوذ تھا کہ وہ رفیق حریری کی گاڑی کو جس راستہ سے چاہتے تھے لے جاتے تھے اور انہیں کہا کرتے تھے کہ فلاں راستے سے مت جاؤ کیونکہ ادھر حزب اللہ سے خطرہ ہے اور ممکن ہے وہ آپ کی گاڑی کو بم سے اڑا دیں۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ 2005 میں جس دن رفیق حریری قتل ہوئے اسرائيل نے اسی دن حزب اللہ پر الزام عائد کرنا شروع کردیئے۔
سید حسن نصر اللہ نے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی الزامات کی ایک مختصر رپورٹ بھی پیش کی جس میں رفیق حریری قتل کا حزب اللہ پر الزام عائد کیا گیا ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جن افراد کو اسرائیل نے لبنان میں قتل کیا ہے  ان کی فہرست بڑی طویل ہے۔ انھوں نے کہا کہ رفیق حریری قتل میں اسرائیل کے مفادات تھے کیونکہ وہ اپنے اس اقدام کے ذریعے لبنان میں داخلی جنگ چھیڑنا چاہتا تھا اور دوسری طرف حزب اللہ کو اس میں ملوث ثابت کرکے حزب اللہ کی بیخ کنی کرنا چاہتا تھا۔
انھوں نے کہا: اسرائیل آج بھی لبنان میں جاسوسی کررہا ہے اور اس سلسلے میں حزب اللہ نےاسرائیل کے کئی جاسوسوں کو گرفتار بھی کیا ہے اور اسرائیل کے گرفتار شدہ جاسوسوں کی اطلاعات کی بنا پر رفیق حریری کو اسرائیل نے قتل کیا ہے اور اس قتل کا ایک مقصد لبنان سے شامی فوجوں کا انخلاء بھی  تھا اور دوسری طرف لبنان میں داخلی جنگ چھیڑ کر لبنان کو کمزور بنانا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں زمینی اور فضائی دونوں طریقہ سے جاسوسی کررہا ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: حماس کے رہنما محمود المبحوح کا دبئی میں قتل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل یورپی ممالک کے جعلی پاسپورٹ استعمال کرکے بھی قتل کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ لبنانی حکومت اسرائیلی جاسوسوں کے اعترافات کے سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دے جس میں اسرائيل سے لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ عالمی عدالت  کے کمیشن نے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ  میں رفیق حریری کے قتل میں پہلے شام پھر لبنان کے بعض افسروں اور پھر حزب اللہ کو ملوث کرنے کی کوشش کی اور اس کمیشن کے تمام افراد کو برطانیہ اور امریکہ نے منتخب کیا ہے اور جس کمیشن کے افراد کو امریکہ اور برطانیہ منتخب کریں وہ حزب اللہ پر الزام عائد نہیں کریں گے تو پھر کیا وہ اسرائیل پر الزام عائد کریں گے؟
انھوں نے کہا کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں اسرائيل ملوث ہے اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close