پاکستان

یس ہزار امریکی فوجی اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی


us

15.12.2009 افغانستان کے لئے 30 ہزار مزید فوجیوں کی روانگي سے متعلق امریکی صدر باراک اوباما کے فیصلے کی خود واشنگٹن کے اتحادیوں کی طرف سے خاصی مخالفت کی جارہی ہے چنانچہ پاکستان کے وزير اعظم یوسف رضا گیلانی نے اوباما کے فیصلے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے افغانستان کے لئے تازہ دم فوجیوں کی تعیناتی کو پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں اضافے کا پیش خیمہ قرار دیا ہے البتہ پاکستان کی جانب سے ان خدشات کا اظہار ایک فطری امر ہے تا ہم واشنگٹن کے ایک بڑے اتحادی کی حیثیت سے جرمنی نے بھی باراک اوباما کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے  کہ 30 ہزار مزيد فوجیوں کی افغانستان روانگي کے ذریعے بھی دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا ۔جرمنی کے وزیر دفاع گوٹنبرگ نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں ایک بار پھرجرمنی کے اس سرکاری موقف کو دہرایا ہے کہ مزید فوجیوں کی تعیناتی کے ذریعے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح حاصل نہیں کی جا سکتی۔جرمنی کے وزير دفاع کا بیان در اصل فرانس کے موقف کی تکرار ہے کہ جس نے امریکہ اور نیٹو کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کی فکرکرے اس لئے کہ مسئلہ فوجی طریقے سے حل ہونے والا نہیں ہے اور امریکہ کا ساتھ دینے کی بنا پر نیٹو کے افغانستان کی دلدل میں بری طرح سے دھنس جانے کا امکان ہے ۔اگرچہ مسٹراوباما ماضی کی پالیسیوں میں تبدیلی کے نعرے کے ساتھ کرسی صدارت پر براجمان ہوئے لیکن وہ کر وہی رہے ہیں جو صدر بش اور ان کے حامی یعنی نیوکانز کی مرضی ہے ۔ حقیقت امر یہ ہے کہ دہشت گردی کی شکل میں اس وقت جوکچھ پاکستان میں ہورہا ہے وہ امریکہ کی ہی دین ہے اور اب یہ بات اتنی کھل گئی ہے خود امریکی بھی اس کی تردید نہیں کررہے ہيں ۔البتہ پاکستان کے وزير اعظم کی جانب سے 30 ہزار مزید امریکی فوجیوں کی روانگي سے متعلق جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے وہ صرف خدشات ہی نہیں بلکہ حقیقت سے بہت قریب نظر آتے ہیں اس لئے کہ فرانس جرمنی اور نیٹو طرح امریکہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ افغانستان میں فوجی کامیابی کا حصول نہ تو واشنگٹن کے مدنظر ہے اور نہ ہی ان کے لئے ممکن ہے۔ اس لئے کہ امریکہ تو خود بحران اور دہشت گردی کا سب سے بڑا مروج تصور کیا جاتا ہے۔چنانچہ پچھلے دنوں پاکستان کے تعلق ہے کئی ایک خبریں منظر عام پر آئیں جن میں امریکی سفارتخانے سے وابستہ افراد کی گاڑیوں کی غیر قانونی حرکات سکنات کا نوٹس لیا گيا اور بعض اوقات تو مقامی پولیس نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کوگرفتاربھی کیا لیکن بقولے اوپر سے ملنے والے احکامات کے بعد، انہیں چھوڑگیا۔پچھلے دنوں پانچ امریکی شہریوں کی گرفتاری کی خبر کی کافی دھوم مچی جو ایک حساس فوجی علاقے میں گھسنے کی کوشش کررہے تھے ۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ حتی اپنی اتحادیوں کی پشت پر بھی خنجر کا وار کرنے سے نہیں چوکتا اور ایسے اقدامات کرتا نظر آرہا ہے جو پاکستانی کی سالمیت کے سراسر منافی شمار ہوتے ہیں ۔ امریکہ کے خفیہ اداروں کے اہلکارخصوصی آپریشن میں مصروف ہیں بتایا جاتاہے کہ گرفتار ہونے والے پانچوں امریکی اہلکار مقامی طالبان کے ساتھ روابطے کے ذریعے انہیں پاکستانی فوج کے خلاف کاروائي کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ ضروری وسائل سے بس کرنا چاہتے تھے ۔امریکہ کی اسی دورخی پالیسی کے پیش نظر پاکستانی فوج کے اعلی افسران اور حکام کو تشویش کہ امریکہ طالبان کے ذریعے پاکستان کی تعلقات تک رسائي حاصل کرنا چاہتا ہے تا کہ مناسب وقت ہو یہ دعوی کرسکے پاکستان اپنی ایٹمی تنصیبات حفاظت کرنے پرقادر نہیں ہے اور دہشت گردوں نے ایٹمی تنصیبات تک رسائي حاصل کرلی ہے حالانکہ یہ خود امریکہ ہے جو طالبان کی آڑ میں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات تک نفوذ کرنا چاہتا ہے۔پاکستانی فوجی کے اعلی حکام یہ سمجھتے ہیں امریکہ، سوات مالاکنڈ وزیرستان جنوبی اور دیگر قبائلی علاقوں میں طالبان کی تربیت اور انہیں فوجی وسائل سے لیس کرنے میں مشغول ہے اورسردیوں کے اس موسم میں جبکہ قبائلی عوام مختلف مقامات پر کیمپوں میں زندگي گزارے ہیں طالبان دہشت گرد نہایت آسانی کے ساتھ تخریبی کاروائیاں کرسکتے ہیں اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے سےیقینی طور پر طالبان کے پاکستان کی طرف کوچ کرجانے کی دل ہموار ہوگئی ہےاور یہ ایک ایسا مسئلہ ہےکہ جس نے پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے اس لئے کہ یہ بات واضح ہوگئي ہے کہ امریکہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات تک رسائي کے لئے، طالبان کا سہارا لے رہا ہے اور پاکستان کی تشویش کی بنیادی وجہ اس روایتی حریف ہندوستان ہے کہ جو اس موضوع میں خاص دلچسپی رکھتا ہے پاکستانی حکام کے بقول قبائلی علاقوں سے پکڑجانے والے طالبان دہشت گردوں سے جو ہتھیار ملے ہیں وہ ہندوستانی ساخت کے تھے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان اس علاقے میں امریکہ کے مفادات سے اپنے مفادات کو نتھی کربیٹھا ہے اور یہ سمجھ رہا ہے کہ مستقبل میں وہ اس خطے میں امریکی آنکھوں کا تارا بن جائے گاچنانچہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر اس وقت امریکہ مفادات کی تکمیل کرتا نظر آرہا ہے اور پاکستان کو یہی چیز بری طرح کھٹک رہی ہے ۔البتہ امریکہ باربار اس بات کی تردید کررہا ہے کہ وہ ہندوستان کو پاکستان پر ترجیح دیتا ہے لیکن جو کچھ نظر آرہا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے بہرحال امریکہ کا ماضی اور حال اس کے مستقبل کی تصور کتنی کررہا ہے ۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ کی چالوں کو سمجھا جائے اور اس زيادہ اسے اس بات اجازت نہ دی جائے کہ وہ خطے کی حکومتوں کو بیوقوف بنا کر اپنے کم مدت اور دراز مدت اہداف پورے کرسکے، چاہے اس مقصد کے حصول کے لئے قومیں اگر نابود ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close