پاکستان

چہلم امام حسین علیہ السلام۔۔کراچی میں دس لاکھ سے زائد کفن پوش عزاداران امام حسین علیہ السلام کی جلوس عزا میں شرکت۔خصوصی رپورٹ

shiite_report

دنیا بھر کی طرح ٥ فروری ٢٠١٠ کو پاکستان کے تما چھوٹے بڑے شہروں میں چہلم امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے تعزیتی و ماتمی جلوس عزاء نکالے گئے ،دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی چہلم امام حسین علیہ السلام کے سلسلہ میں نکالے گئے جلو س عزا میں دس لاکھ سے زائد عزاداران سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کفن پوش ہو کر بمع اہل و عیال شریک ہوئے۔شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کی مطابق کراچی میں نکالے گئے چہلم امام حسین علیہ السلام کے جلوس عزا میں گذشتہ ٣٥ برس سے اتنی بڑی تعداد میں عزاداروں کو جلوس نہیں نکالا گیا ،واضح رہے کہ یوم عاشور کو جلوس

 عاشورا کراچی میں ہونے والے بم دھماکے میں پچاس سے زائد عزاداروں کی شہادت اور سینکروں کے ذخمی ہونے کے بعد سے یزیدی فکر کے حامی اور یزیدی گروہ اس سازش میں مصروف عمل تھے کہ کسی نہ کسی طرح چہلم امام حسین علیہ السلام کے جلوس میں عزاداران امام مظلوم علیہ السلام کو شرکت سے روکا جائے اور شرکت کو کم سے کم کیا جائے ،لیکن سلام ہو ان عزاداران سید الشہدا امام حسین علیہ السلام پر کہ جو نہ صرف جلوس عزا میں شریک ہوئے بلکہ اپنے ننھے منے بچوں حتیٰ مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو بھی لے کر جلوس عزا میں شریک ہوئیں اور اس عزم کے ستاھ کفن پوش ہو کر شریک ہوئیں کہ ہمیں آج کار زینبی سلام اللہ علہیا انجام دینا ہے اور ہمارے بچوںکو سنت حضرت علی اصغر علیہ السلام کو نبھانا ہے اسی طرح نوجوانوں میں بھی یہی جذبہ کار فرما نظر آ رہا تھا کہ ہر جوان یہ کہتا تھا کہ اگر جلوس عزاء میں موت جیسی سعادت حاصل ہو جائے تو ہمیں بھی فخر ہو گا کہ سنت حضر ت علی اکبر علیہ السلام اور حضرت قاسم علیہ السلام ادا کر دی ،الغرض بچوں ،جوانوں ،اور خواتین کے علاوہ بزرگوں کے جذبات اور محبت اہلبیت(ع)کے یہی مناظر دیکھنے کو ملتے رہے کم سے کم پچاس سال اور زیادہ سے زیادہ پچاسی سال کے بوڑھے بھی جلوس عزا میں کفن پوش ہو کر اسی عزم کے ساتھ شریک تھے کہ سنت حبیب ابن مظاہر ادا کریں گے اور شہدائے عاشور کے لطف سے فیض یاب ہوں گے۔شیعت نیوز کے نمائندے نے ایک ستر سالہ مرتضیٰ عباس نامی عزادار سے گفتگو کی تو مرتضیٰ عباس کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے جلوس عزا میں ایسا جوش وخروش اور اتنی بڑی تعداد میں عزاداران سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔یہ تو تھا چہلم امام حسین علیہ السلام کے سلسلہ میں نکالے گئے جلوس عزا کا مختصر حال۔اب آئیے ذرا ایک نظر ان عظیم شہدائے چہلم پر بھی ڈالتے ہیں کہ جو جلوس عزا میں شریک ہونے کے لئے گھروں سے کفن پہن کر شہادت کا جذبہ لئے ہوئے رواں دواں تھے کہ ایک مرتبہ پھر عصر حاضر کے یزیدوں ک وگوارہ نہ ہوئے اور اپنی شکست خوردہ حرکت کے ذریعے عزاداران سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کی بس کو کراچی کی مین شاہراہ پر بم دھماکے کا نشانہ بنایاجس کے نتیجہ میں تیرہ عزادار شہید اور چالیس کے قریب ذخمی ہو گئے ،لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ دوسری سمت جلوس عزا میں کہیں ٹس سے مس نہیں ہوئی اور عزادار اسی جوش و خروش کے ساتھ جلو س عزا میں شریک رہے،وقت کے یزید یہ چاہتے تھے کہ دھماکے کے ذریعے جلوس میں شریک عزادارون کو ڈرا دیں گے اور واپسی پر مجبور کریں گے یا جلوس عزا کو پامال کر دیں گے،چشم فلک نے دیکھا کہ ایک بھی عزادار خواہ وہ بچہ ہو یا بوڑھا ،یا کہ جوان کوئی بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا اور جلوس عزا کو اسی شان و شوکر کے جس طرح وہ رواں دواں تھا جانب منزل رواں دواں ہی رکھا،اب جب دشمن ایک مرتبہ پھر ناکام ہوا تو پھر اپنی شکست خوردہ کاروائی کے ذریعے جناح اسپتال میں موجود رضاکاروں پر جو کہ امدادی سر گرمیوں میں مصروف عمل تھے ،دوسرے بم دھماکے کے نتیجہ میں دس سے زائد افراد شہید ہوئے اور پچاس سے زائد ذخمی ہوئے ،لیکن ایک مرتبہ پھر یزید وقت ناکام ہو گیا اور جلوس چہلم اپنی منزل کی سمت رواں دواں ہی نہیں رہا بلکہ انتہائی جوش اور جذبہ کو ساتھ علمداروں نے علم بلند کئے ،ماتمی جوانوں کے سینوں پر پرنے والے ہاتھ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دشمن کے منہ پر طمانچوں کی طرح برس رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آؤ اگر تم میںہمت ہے تو سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے ماننے والوں کو روک کر دکھاؤ ،اسی طرح جلوس عزا میں شریک ہر فرد دوسرے کو یہی کہتا ہوا پایا گیا کہ دھماکوں کی خبر کسی کو نہ دو بلکہ جلوس میں شریک رہو اور جلوس عزا کی شان و شوکت میںمزید اضافہ کرو،حتیٰ عزاداران امام مظلوم علیہ السلام کو کسی بھی چیز کی پرواہ نہ تھی کہ ان کے گھر والے کہاںہو ں گے؟یا ن کے بچے کہا ںہوں گے؟تمام کی نظر میں ایک ہی بات کی اہمیت تھی وہ تھی صرف اور صرف جلوس عزا۔بس اور کچھ نہیں۔چہلم امام حسین علیہ السلام میں شریک عزاداران سید الشہدا امام حسین علیہ السلام نے یہ ثابت کر دیا کہ عزاداری اسلام کی شہہ رگ حیات ہے اور ماتم امام حسین علیہ السلام تقاضا وفاداری ہے۔یعنی عزاداری پر جان و مال ہر چیز کو قربان کرنے سے دریغ نہ کرنے کا عملی نمونہ تھا چہلم امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے نکالا گیا شہر کراچی میںماتمی جلوس عزا۔ اسلام کی شہہ رگ ہے عزاداری شبیر (ع) ماتم ہے تقاضا ئے وفاداریئ شبیر (ع)

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close