پاکستان

سیاسی تنظیمیں منظم طریقے سے کالعدم تنظیمیوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہی ہیں ۔پاکستان کے عوام ١٢ ربیع الاول تا ١٧ ربیع الاول ہفتہ وحدت مسلمین منائیں۔

pic-6

سیاسی تنظیمیں منظم طریقے سے کالعدم تنظیمیوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہی۔پاکستان کے عوام ١٢ ربیع الاول تا ١٧ ربیع الاول ہفتہ وحدت مسلمین منائیں۔ حکمراں طبقہ اور بعض سیاسی تنظیمیں منظم طریقے سے کالعدم تنظیمیوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہی ہےں جس کی ایک مثال پنجاب میں ہونے والے ایک خالصتاً سیاسی جلسے میں کالعدم تنظیم کی واضح شرکت اور مذہبی منافرت پھیلانے اور مذہبی فرقہ واریت فروغ دینے والے نعروں کا لگانا ہے اور پنجاب حکومت کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی خاموشی اختیار کرنے کے بجائے دشمنان اسلام اور پاکستان کی نفی نہ کرنا اور کالعدم تنظیموں کے ساتھ رابطہ اور ان کے جلسے جلوسوں میں شرکت کرنا واضح کرتا ہے کہ کس کے کس سے تانے بانے ملتے ہےں ۔ مسلم لیگ (ن )اپنی پالیسیاں واضح کرے اور دشمنان اسلام اور پاکستان سے علیحدگی کا اعلان کرے ۔ اان خیالات کا اظہار جعفریہ الائنس پاکستان کے قائم مقام صدر مولاناحسین مسعودی،علامہ آفتاب جعفری،علامہ فرقان حیدر عابدی،علامہ جعفر رضا،علامہ باقر زیدی،سلمان مجتبیٰ،شبر رضا اور ضیاء الحسن نے کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔واضح رہے کہ اس موقع پر شہدائے عاشور او ر شہدائے اربعین کے لواحقین بھی ان کے ہمراہ تھے۔رہنماؤں کا کہناتھا کہ آخر ایسی کیا مجبوریاں تھیں کہ میاں نواز شریف سانحہ عاشور کے بعد کراچی تو آئے مگر سانحہ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اور اسپتالوں میں زیر علاج ذخمیوں کی عیادت اور ہمدردی کا اظہار کرنے نہ جا سکے بلکہ تاجروں کے ذخموں پر نمک رکھتے رہے اور دوسری جانب ملت جعفریہ سے اپنی دوغلی پالیسی کا نمونہ پیش کرتے رہے۔ قائم مقام صدر جعفریہ الائنس پاکستان مولاناحسین مسعودی نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس جعفریہ الائنس پاکستان ورثائے شہداء کے ساتھ اس لئے کررہی ہے کہ آج سانحہ عاشورہ کو گزرے ہوئے دو ماہ گزر گئے ہےں اور سانحہ اربعین کو 20دن گزر گئے ہےں لیکن حکومت اور پولیس انویسٹی گیشن کو حتمی رپورٹ شائع کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ ابھی تک دہشت گرد بے نقاب نہیں کیئے گئے ۔ نہ ہی ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لئے کوئی واضح لائحہ عمل پیش کیا گیا ۔ اور بلا وجہ تاخیر کی وجہ سے ایجنسیوں نے اپنا کھیل کھیلنا شروع کردیا ہے اور ایک منظم انداز سے ملت جعفریہ کے خلاف سازش شروع کردی،تاکہ اصل واقعہ کو چھپایا جائے، جس کے لئے میڈیا کو بھی استعمال کیا جارہا ہے اور حال ہی میں بعض مقامی ا خبارات کو استعمال کرکے اس میں نئی نئی اسٹوریاں بنائی جارہی ہےں ۔ لہٰذا ہم واضح کردینا چاہتے ہےں کہ میڈیا اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں پر نظر رکھے ۔ اور میڈیا میں موجود کالعدم تنظیموں کے افراد کو اپنے اندر سے باہر نکالے جو دہشت گردوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہےں اور انویسٹی گیشن کا رخ موڑنے کی کوشش نا کریں ۔اور صحافتی اقدارکو بدنام نہ کریں، ہماری نظر ہر بات پر ہے اور 13مارچ کو ہونے والے شہداء کے چہلم تک ہم حکومت کو وقت دیتے ہےں کہ وہ ورثائے شہداء کو اور زخمیوں کو معاوضہ دے اور انوسٹی گیشن کو حتمی رپورٹ پیش کرنے اور ملت جعفریہ کو مکمل اعتماد میں لیاجائے ۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ رحمت الالعالمین کے عید میلاد النبی کے موقع پر ہم ےہ سمجھتے ہےں کہ آج کے زمانے میں بالخصوص پاکستان میں مسلمانوں کے درمیان جتنی زیادہ پیار محبت اخوت بھائی چارگی کی ضرورت ہے شاید پہلے نہ تھی ۔ اسی لئے ہم قرآن کی روشنی میں مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق اور آپس میں رحمت دلی کی فضاء کو فروغ دینے کے لئے ١٢ربیع الاول سے ١٧ ربیع الاول کو پاکستان کی پوری قوم ”ہفتہ وحدت” کے طور پر منائے ۔ ہفتہ وحدت کے ذریعے سے دشمنان اسلام اور پاکستان کو وحدت مسلمہ کا پیغام دیں کہ استعمار اور استعمار کے آلہ کاروں کو یہ بات واضح کردی جائے کہ پاکستانی مسلمان باشعور ہےں ۔ مسلمانان پاکستان کو لڑانے کی ہر سازش کو اپنی یکجہتی اور اتحاد کے ذریعے ناکام بنا دیں گے جعفریہ الائنس پاکستان ملت اسلامیہ بالخصوص ملت جعفریہ سے اپیل کرتی ہے کہ عید میلاد النبی کو اس کے شایان شان طریقے سے منایا جائے ۔ اس کے اجتماعات میں بھرپور شرکت کریں اور ہفتے وحدت میں عملی وحدت کا ثبوت پیش کریں ۔ رسول اکرم کی روشنی سے پورے پاکستان کو منور کردیں ۔ ٭۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہےں کہ وہ سانحہ عاشور و سانحہ چہلم کے اصل دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کو عوامی سطح پر عیاں کریں کرکے سرعام پھانسی دیں ۔ ٭۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہےں کہ اب تک کی سانحہ عاشورہ و چہلم کی تمام انویسٹی گیشن روپورٹ سے ملت جعفریہ کواعتماد میں لے کر اپ ڈیٹ کریں ۔ ٭۔ہم مطالبہ کرتے ہےں کہ سانحہ میں شہید ہونے والے شہیدوں کے ورثاء کو اور زخمیوں کو معاوضہ جلد سے جلد ادا کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close