پاکستان

کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ قاری ظفرہلاک ہو گیا۔قاری ظفر ھلاکت کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔

shiite_news_qari_zafar_lej1

کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ قاری ظفرکی میران شاہ وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں میںھلاکت ۔ جو کہ کالعدم لشکر جھنگوی اور طالبان کے لیےایک دھچکا ہے،قاری ظفرپاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ شیعت نیوز کی مونیٹرنگ ڈیسک کے مطابق پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام اور اہم تنصیبات پر حملے کا مرکزی کردار اہم دہشت گرد قاری ظفر گذشتہ بدھ کو میران شاہ میں وزیرستان کے علاقے ڈنڈدریہ خیل میں دہشت گردوں کے ہمراہ امریکی میزائل حملے میں مارا گیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد قاری ظفر کراچی میں شیعہ مسلمانوں کے بیمانہ قتل عام میں ملوث تھا۔ قاری ظفر جوکہ پہلے کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ سے وابستہ تھا بعد ازاں لشکرجھنگوی میں بھی شامل ہو گیا اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے زریعہ درجنوں شیعہ افراد کے قتل میں ملوث رہا۔ بعدازاں اس نے پاکستان آرمی کے خلاف آپریشن سے چند ماہ قبل وزیرستان جاکر طالبان دہشت گردوں کے ساتھ شمولیت اختیار کرلی اور افواج پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث رہا۔ قاری ظفر کو حکیم اللہ محسود کے ساتھ اسکی پہلی ویڈیو کانفرنس میں بھی دیکھا گیاتھا جبکہ سفاک طالبانی رہنماء حکیم اللہ محسود نے طالبان کی قیادت سنبھالی تھی۔ سندھ پولیس نے اسکی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے سبب اسکو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا اور اسکی زندہ یا مردہ گرفتاری پر 5لاکھ کا انعام تھا ۔ سندھ پولیس کے مطابق قاری ظفر کا تعلق اورنگی ٹاؤن کراچی سے ہے اور میران شاہ وزیرستان جانے سے قبل آخری وقت تک کراچی کی بلال مسجدماڈل کالونی میں امامت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ امریکیو ں نے اسکے سر کی قیمت 50لاکھ ڈالر رکھی تھی ، جبکہ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق سابق صدر مشرف ، پنجاب پولیس ، امریکی قونصلیٹ ، مسجد حیدری کراچی ، نشترپارک بم دھماکہ اور علامہ حسن ترابی پر خود کش حملوں میں براہ راست ملوث تھا یا ان کا ماسٹر مائنڈ تھا ، طالبان دہشت گردوں کی جانب سے قاری ظفر کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے جو کہ ملک میں دہشت گردی کی کئی واردات میں ملوث تھا اور کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ اکرم لاہوری کی گرفتاری کے بعد سے لشکر جھنگوی کی سربراہی کررہا تھا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close