پاکستان

کالعدم لشکر جھنگوی کے تین اہم دہشت گرد کراچی سے گرفتار

shiite_terror_karachi_arrest2

کرائم انویسٹی گیشن پولیس سندھ(سی،آئی،ڈی) نے پیر کے روز شرافی گوٹھ بن قاسم ٹاؤن کراچی میں کامیاب آپریشن کے دوران کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے تین اہم دہشت گردوں کو گرفتار کر لیاہے۔

جبکہ پولیس اہلکاروں کے دعوں کے مطابق دہشت گردوں کے قبضہ سے پچاس سے ساٹھ کلو گرام پوٹیشم نائٹریٹ،ڈیٹونیٹرسمیت بھاری تعداد میں ہتھیار بر آمد ہوئے ہیں۔

 

شیعت نیوز کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کو رضوان مقدم ،منیر چانڈیو ، اور ضیاالدین محسود کے نام سے شناخت کیا جا چکا ہے جبکہ مجرموں کے نام انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی لسٹ ریڈ بک میں موجود ہیں ملزم ضیاالدین کے بارے میں زرائع کا کہنا ہے کہ وہ کالعدم لشکر جھنگوی کا کراچی میں آپریشنل کمانڈر ہے جو کہ قاری عابد گروپ سے منسلک ہے۔

مجرموں کو کراچی میں شیعوں کے قتل عام کا ٹاسک دیا گیا تھا ابتدائی تحقیقات کے مطابق دہشت گرد شیعہ رہنماؤں اور سپاہ محمد کے لیڈروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے

،ایس ایس پی عمر شاہد کا کہنا ہے کہ سی آئی ڈی پولیس نے کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد ضیاء الدین الیاس کو کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ سے گرفتارکر لیا ہے ،جبکہ دہشت گرد کے قبضے سے پچاس کلو دھماکہ خیز مواد اور ایک ٹی ٹی پستول بھی برآمد ہوئی ہے۔

شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے دہشت گردکا تعلق کالعدم دہشت گرد جماعت لشکر جھنگوی کے قاری عابد گروپ سے ہے ،واضح رہے کہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم سینٹرل جیل پر حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو فرار کرانے کی پلاننگ کررہا تھا۔ سی آئی ڈی پولیس کے انسداد انتہا پسندی سیل کے ایس ایس پی عمر شاہد کے مطابق گرفتار ملزم نشترپارک بم دھماکے علامہ حسن ترابی کے قتل اور ٹرانسپورٹر شوکت آفریدی کے قتل میں ملوث ہے جو قاری عابد کا دست راست بھی بتایا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضیاء الدین محسود سی آئی ڈی کی ریڈ بک کے چوتھے ایڈیشنل میں انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close