پاکستان

انقلاب اسلامی کی حقیقی اور صحیح تاریخ لکھنے پر خصوصی توجہ مبذول کی جائے : رہبر معظم انقلاب اسلامی

shiite_aytullah_khaminaiرہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےکل سہ پہر کو سازمان تبلیغات اسلامی کے ہنری شعبہ کے بعض اہلکاروں اور کتاب ” دا ” تحریر اور نشر کرنے والے افراد سے ملاقات میں کتاب کو ثقافت میں بےبدیل ،اہم ، ممتاز اور اصلی مسائل میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس عظیم ظرفیتوں اور تمام نہ ہونے والے خزانوں سے مالا مال ہیں معاشرے اور عالمی سطح پر انقلاب اسلامی و دینی اقدار اور ثقافت کو فروغ دینے کے سلسلے میں ان سے زيادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دفاع مقدس کی گرانقدرظرفیت کو ملک کی ادبیات کومؤثر و نتیجہ خیز بنانے نیز معاشرے میں انقلاب اسلامی اور دینی معرفت کے فروغ کے سلسلے میں اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: الحق والانصاف کتاب ” دا” بہت ہی عمدہ ، نفیس اور عالمی سطح پر پیش کرنے کے قابل ہے ، جو مسلط کردہ جنگ کے واقعات کے بالکل معمولی اوربہت ہی چھوٹے حصہ پر مشتمل ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آٹھ سالہ دفاع مقدس میں اسلامی اقدار و ثقافت کو معاشرے اور عالمی سطح پرمنتقل کرنے کے لئے ہزاروں کتابیں لکھنے اور تولید کرنے کی ظرفیت موجود ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایسی کتابوں کی تحریر اور اشاعت کے ذریعہ ثقافتی رشد وترقی اور عوام کے اندر واقعات وحالات کے بارے میں  تجزیہ و تحلیل پیدا کرنےکی قدرت ، فہم ، تجربہ اور علم میں ارتقا اور اضافہ کا باعث بنےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کے اسلامی انقلاب، انقلابی تحریک ، کامیابی اور اس کے بعد تیس سال میں بین الاقوامی سطح پر عظیم چیلنجوں کے مقابلے میں ایرانی عوام کی استقامت و سرافرازی کو دوسری قوموں کے لئے مشعل راہ اور بہت ہی اہم نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: افسوس کی بات ہے کہ ایسا عظیم موضوع بڑی غفلت کا شکار ہوگيا ہےاور انقلاب اسلامی کی تاریخ تحریر کرنے، کتاب لکھنے اور دیگر ثقافتی محصولات کے بارے میں کوئی خاص کام انجام نہیں پایا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب سے پہلے کےدور اور حتی انقلاب اسلامی کی کامیابی کےبعدجھوٹی اور منحرف تاریخ تحریر کرنےکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی حقیقی اور صحیح تاریخ لکھنے پر خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہیے اور گذشتہ غفلتوں کی تلافی ہونی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک کی ثقافت اور ادبیات کے شعبہ میں حالیہ برسوں میں بعض امید افزا اور نمایاں کام انجام دیئے گئےہیں اور ان کی پیداوار اور ان کے ساتھ تعاون وحمایت کرنےپر خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک کی ثقافتی فضا بالخصوص کتاب کی اشاعت و تحریر کے بارے میں خصوصی نظارت اور توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ بعض افراد جھوٹے اور غیر اخلاقی امور کو کتاب کے ذریعہ پیش کرنے کی کوشش میں ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ثقافتی میدان کو جہاد کا میدان قراردیتے ہوئے فرمایا: جولوگ ثقافتی جہاد کے میدان میں کام کررہے ہیں انھیں جہاد کا حق ادا کرنا چاہیے اور انقلاب اسلامی ،دفاع مقدس اور دینی اقدار کے فروغ کا جو حق ہے اسے مد نظر رکھنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ثقافتی مسائل حکم اور دستور سےآگے نہیں بڑھتے بلکہ اس میدان میں کامیابی کے لئے جوش و جذبہ، ایمان اور انقلاب اسلامی اور دینی اقدار پر اعتقاد رکھنے والے فعال افراد کا ہونا ضروری ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کتاب “دا” کی راوی محترمہ سیدہ زہرا حسینی اور نویسندہ محترمہ سیدہ اعظم حسینی کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس ملاقات کے آغاز میں سازمان تبلیغات اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام خاموشی نے دفاع مقدس اور اسلامی ثقافت کے فروغ کے سلسلے میں سازمان اور ہنری شعبہ کی فعالیت اور کارکردگی کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
سازمان تبلیغات اسلامی کے شعبہ ہنری کے سربراہ جناب مؤمنی نے بھی دفاع مقدس اور انقلاب اسلامی سے متعلق بعض کتابوں کی اشاعت سے متعلق اقدامات پر روشنی ڈالتےہوئے کہا: کتاب کی اشاعت کی کیفیت میں بہتری،جوان اور نوجوان نسل کے لئے منصوبہ بندی، کتابوں کی معرفی اور تقسیم کے لئے نئے طریقوں سے استفادہ اور دفاع مقدس اور انقلاب اسلامی پر مبنی کتابوں کا ترجمہ سازمان تبلیغات اسلامی کے ہنری شعبہ کے اقدامات میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ “دا” کتاب بعثی دشمن کے خرم شہر پرحملے اورمسلط کردہ جنگ کے پہلے ہفتوں کے بعض واقعات پر مشتمل ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close