پاکستان

قراقرم یونیورسٹی سے نکالے گئے طلباء کو فوری طور پر بحال کیا جائے، اطہر عمران

athar imran چند روز قبل قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں یوم حسین (ع) کے انعقاد پر یونیورسٹی انتظامیہ نے 16 شیعہ طلباء کو برطرف کر دیا اور ان میں سے 15 پر تین سال اور ایک طالب علم پر تاحیات پابندی لگا دی ہے۔ ایسی یونیورسٹی جہاں ہر قسم کے دوسرے پروگرامات کروائے جاتے ہیں، وہاں یومِ حسین (ع) کے انعقاد پر ایسا ردِعمل کیوں؟۔ گلگت میں صرف یہی واقعہ نہیں ہوا بلکہ ایک عظیم شیعہ عالم دین آغا ضیاءالدین رضوی کے قاتلوں کو حکومتی ایماء پر جیل سے فرار کروا دیا گیا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی انہی قاتلوں کی وجہ سے ہے، جن کو حکومت سزائے موت دینے کی بجائے فرار کرا دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں سرزمیں پاکستان میں آئے روز شیعہ مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے، جن میں بوڑھے، جوان، عورتیں حتّی کہ محضر زہرا جیسی معصوم بچیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ اس ملک اور اسلام کو کمزور کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ ان خیالات کا اظہار امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر اطہر عمران نے نائب صدر ابوذر مہدی، جنرل سیکرٹری جواد رضا اور ڈویژنل صدر ملتان کے ہمراہ ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
 
اطہر عمران نے مزید کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے یوم حسین (ع) کے متعلق کہے گئے الفاظ اس کی سوچ کی عکاس ہیں جو کہ فرقہ واریت پھیلانے کی ایک سازش ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان میں سے ہیں۔ آج گلگت میں جو حالات اور کشیدگی پچھلے چند روز سے ہے، اسکی سراسر ذمہ دار خود KIU انتظامیہ ہے، کیونکہ اس نے خود ان حالات کو پیدا کیا ہے۔ تشیع پاکستان اس ملک کا فطری دفاع ہے اور وطن عزیز کو کھوکھلا کرنے کے لئے اس فطری دفاع کو کمزور کرنے کی سوچی سمجھی سازش جاری ہے، لیکن ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے آباء و اجداد نے پاکستان کو بنایا تھا تو ہم اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔ ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

آئی ایس او کے رہنمائوں نے مزید کہا کہ ماہ محرم میں ملک میں ہونے والے بم بلاسٹ جس میں کئی عزداران شہید ہوئے۔ یہ عزاداری کو محدود کرنے کی سازش ہے یہ کبھی نہیں ہوسکتا، ہم جان تو دے سکتے ہیں، لیکن امام حسین (ع) کی یاد لے کر گھر نہیں بیٹھ سکتے، کیونکہ انہوں نے ہمیں ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیا ہے۔ ملت تشیع کے بے گناہ افراد کو جیلوں میں رکھا ہوا ہے۔ یہ ظلم آخر کب تک جاری رہے گا؟ بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ وطن عزیز کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے اور حکمران اپنی عیش پرستیوں اور سیاست کو چمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔ عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ ملکی سلامتی دائو پر لگی ہوئی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور پاکستان میں موجود شرپسند عناصر اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ ملک میں امریکی مداخلت اور قونصل خانوں کی بھر مار کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، لہذا اس کو کنٹرول کیا جائے۔ ادارون کا تصادم ملکی سالمیت کے لیے زہرَ قاتل ہے۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ایک ملک گیر تنظیم ہے جو کہ ملت جعفریہ کے جوانوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ 1972ء سے اب تک میدان میں موجود ہے۔ ہم اپنے جوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے مجرموں کو منطقی سزا دی جائے اور قراقرم یونیورسٹی سے Xpelled طلباء کو فوری طور پر بحال کیا جائے، ورنہ حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close