کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
پاکستان

امام خمینی (رہ)کی زندگی کربلا کا عملی نمونہ ہے۔

Imam-Khomeiniبانی انقلا ب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ)کی اکیسویں برسی کی مناسبت سے پاکستان کے شہر کراچی میں پیروان امام خمینی (رہ)نے امام امت امام خمینی (رہ)کی عظیم اسلامی خدمات اور انقلابی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہفتے کی شب مورخہ 5جون کو عظیم الشان اجتماع کا انعقاد بعنوان”افکار امام خمینی (رہ)” کیا ،اجتماع کا اہتمام شہر کی شیعہ تنظیموں ،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ،امامیہ آرگنائزیشن ،اصغریہ آرگنائزیشن ،دستہ استقبال امام زمانہ ،ھئیت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ اور دیگر کی جانب سے کیا گیا تھا۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ،کراچی میں آنے والے سمندری طوفان کے خطرے کے باوجود عاشقان امام خمینی (رہ)جن میں خواتین اور مردوں کے علاوہ بزرگوں اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور بانی انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام خمینی (رہ)کو خراج عقیدت پیش کیا،اجتماع میں مختلف مکاتب فکر کے علماء اور اسکالرز نے بھی شرکت کی اور خطاب کیا،اجتماع میں معروف ایرانی اسکالر ڈاکٹر علی عباس شملی نے خصوصی خطاب کیا جبکہ دیگر علماء اور اسکالرز میں مرکزی جماعت اہلسنت کے مرکزی رہنما علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی کے علاوہ شیعہ اسکالر مولانا مرتضیٰ زیدی،ھئیت آئمہ مساجد کے رہنما مولانا شیخ حسن صلاح الدین ،معروف عالم دین مولانا اصغر حسین شہیدی اور مولانا رجب علی بنگش کے علاوہ دیگر نے خطاب کیا۔
معروف ایرانی اسکالر ڈاکٹر علی عباس شملی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی (رہ)کی پوری زندگی کربلا کا عملی نمونہ ہے ،اور امام (رہ)نے اپنی زندگی کو درس کربلا سے استوار کیا اور فلسفہ کربلا کو لے کر انقلاب اسلامی کی بنیاد رکھی ،انہوں نے کہا کہ امام خمینی (رہ)اس بات پر یقین رکھتے تھے کربلا کا درس رکھنے والی ملت اپنے دشمن کو ہر موڑ پر زیر کر سکتی ہے ۔ان کاکہنا تھا کہ امام خمینی (رہ)اس بات پر اعتقاد رکھتے تھے کہ انقلاب اسلامی کسی بھی دہشت گردی،یا فوجی طاقت کے ذریعے برپا نہیں کیا جا سکتا بلکہ انقلاب اسلامی الہیٰ تقاضوں کا حامل ہے ،یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی آج بھی مسلم ممالک کے درمیان ایک آئیڈیل صورت حال کامتحمل ہے ،اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انقلاب اسلامی الہٰی افکار کا مجموعہ ہے ۔
ڈاکٹر علی عباس شملی نے اسلامی ممالک کی تنظیم OICکے کردارکا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی اور سستی کی مرتکب ہو رہی ہے لہذٰا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم OICکی از سر نو تنظیم سازی کی جائے،انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک کو چاہئیے کہ یورپی یونین کی طرز پر اپنی ایک مشترکہ کرنسی کا اجراء کریں اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں تا کہ مسلم امہ کے مشترکہ دشمن امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف بر سر پیکار رہا جا سکے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ قاضی احمد نورانی سدیقی،مولانا علی مرتضی زیدی،شیخ حسن صلاح الدین اور دیگر نے کہا کہ امام خمینی (رہ)کا فلسفہ ،افکار اور جد وجہد آج بھی دنیا کے کئی ممالک میں مختلف تحریکوں کی صورت میں موجود ہے جو اس بات کی عکاسی ہے کہ امام امت امام خمینی (رہ)دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں زندہ و جاوید ہیں،رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ امام خمینی (رہ)کی فرامین کی روشنی میں متحد ہو جائے اور غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی نابودی کے لئے مشترکہ جد وجہد شروع کر دے،انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک سرطان ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے،رہنماؤں نے گذشتہ دنوں غزہ کے محصورین کےلئے جانے والے امدادی قافلے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیل جارحیت کی شدید مذمت کی ۔
علمائے کرام نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی ارتقائی مراحل میں رواں دواں ہے اور اپنی منزلوں کو طے کرتا ہو ا آگے کی جانب گامزن ہے ،جبکہ دنیا کی دیگر اقوام کے اندر بھی تحرک کا باعث بن رہاہے ،ان کاکہنا تھا کہ یہ سب امام خمینی (رہ)کے بتائے ہوئے ان اصولوں کا نتیجہ ہے جو امام خمینی (رہ)نے کربلا سے مستعار لئے تھے۔اس موقع پر شرکائے اجتماع نے بانی انقلاب حضرت امام خمینی (رہ)کی عظیم الشان خدمات پر زبر دست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ،زندہ ہے خمینی (رہ)زندہ ہے ،امریکہ مردہ باد، اور اسرائیل نا منظور کے فلک شگاف نعرے بلند کئے اور امام خمینی (رہ)سے تجدید عہد کیا کہ جب تک ہمارے جسم میں جان باقی ہے انقلاب اسلامی کی حفاظت کریں گے اور اللہ تعالیٰ اور محمد (ص)و آل محمد (ص )کے پیغام کو پھیلانے میں کو ئی کسر نہیں رکھیں گے،آخر میں اجتماع کا اختتام دعائے فرج سے کیا گیا ۔

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close