پاکستان

شیعہ نسل کشی اور سعودی فنڈنگ – از حق گو

shia killingسعودیہ میں اربوں روپے پاکستان میں لگائے ھیں صرف مدارس کھولنے کے علاوہ کوئی سے بھی دو پروجیکٹ بتادیں جس سے پاکستان کو فائدہ ھوا ھو۔ دو بار مفت تیل دے دیا اور ساتھ میں ۳۲۰۰ مدرسے کھولدئے جہاں سے جہادی نکل کر تباہی پھیلا رھے ھیں ۔ ھزاروں ڈالر کا ملک کو نقصان ھو رھا ھے

یہ کہنا تھا ملک کے مشہور تجزیہ نگار اور ٹی وی اینکر محمد مالک کا ..انہوں نے یہ بات ایک نجی ٹیلی ویژن کے ایک ٹاک شو میں کہی -اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ افغان فساد میں سعودی عرب سے ڈالرز کے ساتھ ساتھ وہابی سلفی اسلام بھی امپورٹ کیا گیا جس کے پاکستان میں نچلی   سطح پر مضبوط  کرنے کے لئے گلی محلے میں دیوبندی مدراس تھوک کے حساب سے کھولے گیے جہاں لوگوں کو سلفی اور دیوبندی عقیدوں کے مطابق اسلامی مطالب کے منافی سعودی اسلام کی تعلیم دی گیی –

جس کی بنیاد ہی تشدد اور انتہا پسندی ہے ، پھر ان لوگوں کو افغان فساد میں اس مہارت سے استعمال کیا گیا کہ انھیں یہی لگا کہ وہ اسلام کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جب کہ دراصل وہ سرمایا دارانہ نظام کے بقا کی جنگ تھی
افغان فساد کے بعد طالبان کا نمودار ہونا بھی انہی دیوبندی مدرسوں کا کرشمہ تھا کہ آن کی آن میں ہزاروں لاکھوں مجاہدین تیار مل گیے اور انہوں نے پھر اپنے ساتھ مل کر روس کر خلاف لڑنےوالے مسلمانوں کو کافر بنا کر خوب قتل عام کیا اور ظاہری بات ہے یہ سب سعودی فنڈنگ اور نظریاتی سر پرستی کے بغیر ممکن نہ تھا اور جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوگیی تو پاکستانی جہادی اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے ، ان میں سی زیادہ تر نے کشمیر جہاد اور پاکستان میں بسنے والے شیعہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے کیوں کے سعودی اسلام کے مطابق ہر وہ شخص کافر ہے جو سعودی اسلام سے متفق نہیں ہے
اور اس سب میں ہی پاکستان میں سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی ، اور دوسری جہادی تنظیمیں قائم کی گیں باقاعدہ اسٹیبلشمنٹ کی چھتر چھایا میں ، جس میں سعودی اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور مدد بھی شامل تھی

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close