پاکستان

کراچی میں ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ میں امریکا اور اسرائیل ملوث ہیں۔ شیعت نیوز کی خصوصی رپورٹ

Allama_Raja_Nasir_Abbasمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس کی شیعت نیوز سے خصوصی گفتگو
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس نے شیعت نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اور بالخصوص کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں امریکی اور اسرائیل سمیت عالمی استعماری مغربی قوتیں ملوث ہیں۔
سوال:ملک بھر میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور خصوصاً کراچی میں تشیع کی ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں آپ کیا سمجھتے ہیں کون سی قوتیں ملوث ہیں؟
جواب:یقینا امریکا اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل سمیت تمام عالمی استعماری اور استکباری طاقتیں ملوث ہیں جو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں،اگر آپ غور فرمائیں تو غزہ کے محصورین کے لئے جانے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی بربریت کے بعد ایک ایسا وقت سامنے آ گیا تھا کہ مسلم امہ متحد ہو رہی تھی اور دنیا بھر میں اتحاد کی فضا قائم ہو رہی تھی ،لیکن عالمی استعماری اور استکباری قوتوں کو مسلم دنیا کا یہ اتحاد ہر گز گوارہ نہ تھا اور بالخصوص پاکستان میں مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والی اتحاد کی فضا یقینا امریکا اور اسرائیل کے لئے نقصان دہ تھی جس کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی دہشت گرد اسرائیل کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئیے پاکستان کی معاشی شہہ رگ کراچی میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے ملت جعفریہ کے عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ شروع کر دی گئی جس کا مقصد صرف اور صرف امت میں نفاق اور تفرقہ ڈالنا تھا جبکہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل سے پاکستانی عوام کی توجہ ہٹانا بھی ایک مقصد تھا،میں یہ سمجھتا ہوں کہ کراچی میںہونے والی ٹارگٹ کلنگ خواہ شیعہ افراد کی ہو یا سنی افراد کی صہیونزم کی کارفرمائی ہے۔
سوال :ملکی حالات کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟
جواب:ملک اس وقت عالمی قوتوں امریکا اور اسرائیل کی سازشوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ملک انتہائی نازک دور سے گذر رہا ہے ،جبکہ ملک میں فوج طاقتور ہے،سیاسی قیادتیں اندرونی طور پر طاقتور ہیں،اقتدار پرستوں کا ٹولہ ہے،دنیا پرست لوگ جمع ہو چکے ہیں،ملک اس وقت اقتدار پرستوں اور دنیا پرستوں کے ہاتھوںمیں یرغمال ہے اور انتہائی کمزور ہو چکا ہے،ملک میںمعاشی بد حالی ہے،معاشی عدم استحکام ہے،دہشت گردی کا مسئلہ سر چڑھ چکا ہےمایجنسیاؓں طاقتور ہو رہی ہیں جبکہ ملک کو کمزور کیا جا رہا ہے ،میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملک کی س بد حالی کا ذمہ دار صرف اور صرف امریکہ اور امریکی پالیسیوں پر عملدرآمد کے نتیجہ میں ہے۔
سوال:کوئٹہ میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے،آپ کیا سمجھتے ہیں کون سے عناصر ان کاروائیوں میں ملوث ہیں؟
جواب:کوئٹہ بد ترین دہشت گردی کا شکار ہے ،غیر نلوچ آباد کاروں اور شیعہ عمائدین کو چن چن کر دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہاہے ،اور یہ کاروائیاں کرنے والے غیر ملکی ایجنٹ ہیں ،صوبہ بلوچستان میں امریکا،افغانستان اور انڈیا سمیت بعض عرب ممالک اور پنجابی طالبان ملوث ہیں ،بلوچستان کی صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ سمیت بعض وزراء کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔آئے دن بے گناہ مسلمانوں کو قتل کیا جا رہاہے جبکہ مجرموں کو گرفتار نہ کرنا اور کیفر کردار تک نہ پہنچانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اور بعض ادارے اس قتل و غارت میں جو کہ کئی برس سے جاری ہے میں ملوث ہیں۔
بلوچستان کے مظلوم شیعہ اور پاکستانبھر میں ان مظلوموں کے حامی اس بربریت کے خلاف 4جولائی کو کوئٹہ میں دھرنا دیں گے اور اس اجتماع میں ملک بھر سے نمائندہ وفود کی شرکت ہو گی ،کوئٹہ میں ملت جعفریہ کی مسلسل نسل کشی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھراؤ کا فیصلہ کیا ہے اور 4جو لائی کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھراؤ کیا جائے گا،مرکزی حکومت بھی اس وقت خاموش تماشائی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور حالات کو بہتر بنانے کے لئے عوام کے جان و مال اور ناموس کی حفاظت میں ناکام نظر آتی ہے۔
میں تمام پاکستان دوست قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کے خلاف متحد ہو جائیں اور ان پنجابی طالبان دہشتگردوں سے کہ جو ملک بھر میں دہشت گردی کرتے پھر رہے ہیں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور وطن عزیز پاکستان کے عوام کی جان و مال اور ناموس کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔
سوال:مجلس وحدت مسلمین پاکستان کیا کردار اد اکر رہی ہے اور مستقبل میں کیا عزم رکھتی ہے؟
جواب:مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا پیغام وحدت ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ اہل تشیع میں وحدت ہو،ہم اہل سنت میں بھی وحدت کے خواہاں ہیں،جبکہ ہم ملک میں بسنے والی تمام اکائیوں میں وحدت کے خواہش مند ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی قوم وحدت کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے ،ہم تمام اقوام کے ساتھ وحدت چاہتے ہیں تا کہ ملک میں استقلال ہو ،آزادی ہو،امریکی کالونی نہ بنے،اور یہ سب اسی وقت ممکن ہے کہ جب ملک میں بسنے والی تمام اکائیوں میں وحدت و اخوت کی فضا قائم ہو گی ،اور مجلس وحدت مسلمین اسی سلسلہ میں سر گرم عمل ہے ۔
سوال:آپ اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر لگائی جانے والی پابندیاں ظالمانہ،غیر منصفانہ اقدام ہیں،ایران پر سلامتی کونسل کی پابندیاں عالمی استعمار امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس لئے لگائی گئی ہیں کہ غزہ کے محصورین کی امداد کے لئے جانے والے امدادی قافلے پر غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے جارحانہ فعل کے رخ کو موڑ دیا جائے ،لہذٰ ا ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے کم وقت میں اور فوری طور پر سلامتی کونسل جو کہ مسلم امہ کی دشمن ہے نے اسلامی جمہوریہ ایران پر پابندیاں عائد کر دیں۔
ایک اور بات جکو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جو پابندیاں عائد کی ہیں خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے بھی ان پابندیوں میں اپنا ووٹ نہیں دیا جو کہ امریکہ اور اسرائیل کے منہ پر طمانچہ ہے۔امریکا خود ایک جنگی مجرم ہے جس نے دنیامیں سب سے پہلے تباہی پھیلانے والے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے اثرات آج بھی دنیا بھگت رہی ہے،اور دوسری جانب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کو اپنی سر پرستی میں ایٹمی تیخنالوجی فراہم کی ،آخر امریکہ کو یہ حق کیسے پہنچتا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اور بالخصوص مسلم ممالک کو جو کہ اپنےانرجی وسائل کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں اور ترقی کرنا چاہتے ہیں ،انکو ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول سے روکے۔یہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے،اگر سلامتی کونسل مسلسل اسی طرح مسلم دنیا کے ساتھ غیر منصفانی رویہ رکھے گی تو مسلم دنیا سمیت اقوام عالم کو سوچنا چاہئیے اور سلامتی کونسل کے خلاف جد وجہد کرنی چاہئیے ،سلامتی کونسل کیوں نہیں مسئلہ فلسطین کا حل ڈھونڈھتی؟آخر کیوں نہیں مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جاتا؟ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مسلم دنیا کے لئے خطرہ ہے۔مسلم دنیا اور اقوام عالم کو سلامتی کونسل کے کرادر پر سوچ بچارکرنا ہو گی۔
سوال:مسئلہ فلسطین کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب:مسئلہ فلسطین گذشتہ ساٹھ برسوں سے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہاہے ،غاصب صہیونیوں نے برطانیہ ،امریکا اور یورپ کی ایماء پر کس طرح مظلوم فلسطینیوں کی سر زمین پر قبضہ کیا ،یہ باتیں دنیا بھر کے سامنے عیاں ہیں اور تاریخ کا بد ترین حصہ بن چکی ہیں،اسرائیل ایک ناسور کی شکل میں موجود ہے،فلسطینیوں کو ساٹھ سالوں سے ان کی سر زمینوں سے نکالا گیاہے،فلسطینی شدید مظالم کا شکار ہیں ،اقوام متحدہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں می واپس لوٹانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کر رہی،ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کبھی بھی مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ مسئلہ فلسطین کا حل صرف اور صرف جہاد اور استقامت میں ہی ہے ،اور حماس اور جہاد اسلامی کی مززاحمتی تحریکیں انشاء اللہ اس کامیابی سے ہمکنار ہوں گی،پاکستان کے عوام اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں ہمارے دل فلسطینی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہم کسی بھی صورت مسئلہ فلسطین سے دستبردار نہیںہو سکتے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close