پاکستان

حکومت بلوچستان نے مطالبات منظور کر لئے

mwm_2حکومت بلوچستان نے مجلس وحدت مسلمین کے مطالبات منظور کر لئے، وزیر اعلی ہاوس کے گھیراو کی کال واپس
بلوچستان حکومت نے آخرکار مجلس وحدت مسلمین کے مطالبات کو تسلیم کر لیا اور شیعہ عمائدین نے وزیر اعلیٰ ہاوس کے گھیراﺅ کی کال واپس لیتےہوئے اعلان کیا کہ 4 جولائی کو احتجاج بدستور جاری رہے گا۔
کوئٹہ سے مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے میڈیا سیل کے مطابق گذشتہ کئی دنوں سے مد و جزر میں رہنے والے مذاکرات آخرکار اپنے تیسرے مرحلے میں آج بروز منگل ۲۹جون کو اپنے منطقی انجام تک جا پہنچے اور حکومت بلوچستان نے تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ تمام تر مطالبات پر عمل کریگی اور آج شام کے ملکی میڈیا پر بھی پریس ریلیز یا پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کریگی۔ دوسری مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے چار جولائی کی احتجاجی تیاریاں بھی اپنے عروج پر ہیں، ملک کے اکثر شہروں اور دیہاتوں میں چلو چلو کوئٹہ چلو کے پوسٹرز کے علاوہ ایس ایم ایس اور وال چاکنگ کے توسط سے عوام کو کوئٹہ کی جانب روان دواں ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے جو یقینا مذاکرات میں شامل حکومتی وفد کے لئے ایک شدید دباﺅ کا مسئلہ ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ اور مجرم صفت دہشت گردوں کی آزاد نقل و حرکت کے خلاف مجلس وحدت مسلمین اور دیگر شیعہ تنظیموں نے ملکر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا کہ جس کا اعلان ۲۳جون کو مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شہدائے کوئٹہ کے چہلم سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔ اس خطاب میں علامہ جعفری نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لئے چار جولائی کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے بعد پرامن احتجاج سے وزیر اعلی اور گورنر ہاوس کا گھیراو کرنا تھا جس پر حکومت نے شیعہ وفد سے رابط کیا اور گھیراﺅ کی کال واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ یوں حکومتی اعلیٰ سطحی وفد اور شیعہ رہنماوں میں مذاکرات کے تین دور چلے جو آخرکار آج یعنی ۲۹جون کو نتیجہ خیز ثبات ہوئے۔ اس مذاکراتی وفد میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود ڈومکی کی سربراہی میں ایک وفد کے علاوہ شہداء آرگنائزینگ کمیٹی کوئٹہ کا وفد بھی شامل تھا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close