پاکستان

سانحہ داتا دربار! سامراجی اور کانگریسی ایجنٹ ملوث ہیں

Allama-Abbas-Kumaili_Mufti-muneebعلامہ عباس کمیلی اور مفتی منیب ملاقات
جعفریہ الائنس پاکستان کے وفد نے سربراہ جعفریہ الائنس پاکستان سینیٹر علامہ عباس کمیلی کی سربراہی میں داتا دربار خود کش حملے میں شہید اور ذخمی ہونے والے افراد کی تعزیت کے لئے سنی رہبر کونسل کے سربراہ مفتی منیب الرحمان سے اتوار  کے روز جامعہ نعیمیہ کراچی میں ملاقات کی ہے۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سانحہ داتا دربار کے حوالے سے جعفریہ الائنس پاکستان کے وفد نے سربراہ جعفریہ الائنس پاکستان سینیٹر علامہ عباس کمیلی کی سربراہی میں سنی رہبر کونسل کے سربراہ مفتی منیب الرحمان سے اتوار کے روز جامعہ نعیمیہ کراچی میں ملاقات کی ہے،وفد میں جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی کے علاوہ نائب صدر مولانا حسین مسعودی،علامہ نثار قلندری،علامہ باقر زیدی،ایڈیشنل جنرل سیکریٹری سید شبر رضا اور صابر کربلائی نے مفتی منیب الرحمان سے ملاقات کی اور سانحہ داتادربار میں شہید ہونےو الے اور ذخمی ہونے والے افراد پر تعزیت پیش کی،جبکہ شہدائے سانحہ داتا دربار کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ سانحہ داتا دربار اور کراچی میں جاری مسلسل فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں سامراجی اور کانگریسی ایجنٹ طالبان دہشت گرد ملوث ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنا اور مملکت خداد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان شیعہ اور سنی سب نے مل کر بنایا تھا اور یہ دہشت گرد کانگریسی ایجنٹ طالبان طبقہ کل بھی قیام پاکستان کے خلاف تھا اور آج بھی اپنے ناپاک اور مذموم ایجنڈے پر کار بند ہے ،ان کاکہنا تھا کہ ملک بھر میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دفاتر کھلم کھلا
منافرت اور دہشت گردی پھیلا رہے ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دہشت گردوںکی سرپرستی کر رہی ہے اور پنجاب حکومت کے وزراء دہشت گردوں سے روابط میں کیوں ہے ؟عوام کو ان تمام سوالوں کا جواب دیا جائے۔
ان کاکہنا تھا کہ آخر جہاد اور اسلام کے نام پر نہتے مسلمانوں کو مارنے والے کون سے اسلام کے پیرو کار ہیں یہ بات دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ چکی ہے اور واضح ہو گیا ہے کہ طالبان دہشت گردوں کے تانے بانے امریکہ ،اسرائیل اور بھارت سے ملتے ہیں جو کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے ہوئے ہیںاور معصوم لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی میں کوئی اختلاف نہیںہے اور بیرونی طاقتیں (امریکہ ،اسرائیل اور بھارت)پاکستان کے شیعہ سنی عوام میں تفرقہ ڈال کر ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں جس کو مسلمانان پاکستان کو مل کر ناکام بنانا ہو گا۔
اس موقع پر سنی رہبر کونسل کے سربراہ مفتی منیب الرحمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جعفریہ الائنس پاکستان کے عفد کے شکر گزار ہیں کہ تعزیت کے لئے ہمارے مدرسہ میں تشریف لائے ،ان کاکہنا تھا کہ حکومت دہشت گردوں کے خاتمے میں ناکام نظر آتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے نزدین صرف اپنے ذاتی مفادات زیادہ عزیز ہیں جبکہ عوام الناس کے مسائل اور دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے بے گناہ افراد کے مسائل حکومت کے لئے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردوںکے خلاف کاروائی میں سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی ،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں موجود وزراء یہ بات یاد رکھیں کہ ان کے حسب و نصب بھی انہی اولیا ء اللہ کے باعث ہیں اور انتہائی دکھ کی بات ہے کہ مخدوموں کی کومت ہوتے ہوئے مزارات پر حملے اور بے گناہوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close