پاکستان

کراچی:شیعہ اور سنی مل کر ملک بھر میں مزارات اولیا ء کا تحفظ کریں گے

J.A.P_and_J.U.Pعلامہ عباس کمیلی کی صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر سے ملاقات،سانحہ داتا دربار پر تعزیت
شیعہ اور سنی مل کر ملک بھر میں مزارات اولیا ء کا تحفظ کریں گے،دہشت گردوں کو ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،اولیاء اللہ کے مزارات پر حملے کرنے والے تکفیری ہیں،حکومت اپنی صفوں سے کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے روابط رکھنے والے وزاراء کو برطرف  کرے۔ان خیالات کا اظہار جعفریہ الائنس پاکستان کے سربرای سینیٹر علامہ عباس کمیلی نے مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر سے ملاقات میں کیا۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق جعفریہ الائنس پاکستان کے وفد نے پیر کے روز صاحبزادہ ابوالخیر محمد ذبیر سے علامہ عباس کمیلی کی سربراہی میں ملاقات کی اور سانحہ داتا دربار کے حوالے سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی،اس موقع پر جعفریہ الائنس پاکستان کے وفد میں سینیٹر علامہ عباس کمیلی،نائب صدر مولانا حسین مسعودی،علامہ باقر زیدی،علامہ جعفر رضا،علامہ نثار قلندری ،شبر رضا ،علی احمراور دیگر شریک تھے۔
ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ سانحہ داتا دربار میں ناصبی دہشت گرد گروہ ملوث ہے جو کہ براہ راست اور بالواسطہ امریکی اور اسرائیلی سامراج سمیت بھارتی کانگریسی ایجنڈے پر عمل درآمد میں مصروف عمل ہے ،اور یہ وہی تکفیری دہشت گرد گروہ ہے جو صرف اور صرف اپنے آپ کو مسلمان گردانتا ہے اور دیگر مسالک کے لوگ ان کے نزدیک صرف کافر اور مشرک ہی نہیں بلکہ واجب القتل بھی ہیں،ان کاکہنا تھا کہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اولیاء اللہ کے مزارات اور ان ناصبی دہشت گردوں سے بے گناہ اور نہتے پاکستانی عوام کو بچانے کے لئے عملی کردار ادا کریںاور ان کانگریسی ایجنٹوں طالبان دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار ہو جائیں۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ملک بھر میں کالعدم دہشت گرد جماعتوں کہ جو مذمہبی منافرت پھیلانے میں مصروف ہیں اور بے گناہ نہتے مسلمانوں کا لہو بہا رہے ہیں ان کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے اور ملک بھر سے ان کا قلع قمع کیا جائے بصورت دیگر پاکستان کے عوام دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور پھر تمام حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی،اس موقع پر علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے وزراء کا کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے رابطے میں رہنا پوری ملت کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے ؟آخر ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ حکومتی وزراء کالعدم دہشت گرد گروہوں سر پرستی کر رہے ہیں اور ملک میں بد امنی پھیلا رہے ہیں ،انہوں نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت میں موجود کالی بھیڑوں ،جو کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی سر پر ستی کر رہی ہیں سب سے پہلے ان کا ہی قلع قمع کیا جائے اور فوری طور پر دہشت گرد طالبان اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے مراکز جو کہ مدارس میں قائم کر رکھے ہیں کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے۔
اس موقع پر جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے جعفریہ الائنس پپاکستان کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اہل سنت برادران ہمیشہ اہل تشیع برادران کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں رہے ہیں لیکن کچھ نادیدہ قوتیں جو ملک دشمن عناصر ہیں وہ نہیں چاہتے کہ شیعہ اور سنی آپس میں باہم اتحاد و یگانگت سے کام کریں،انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک دشمن اور اسلام دشمن طاقتوں کے دانت کھٹے کر دئیے جائیں لہذٰا اس کے لئے ضروری ہے کہ شیعہ سنی مل کر دہشت گردوں اور بالخصوص تکفیری دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ جد جہد کریں اور نہ صرف جدو جہد بلکہ عملی جد وجہد کے ذریعہ ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کو پسپا کر دیں۔
اس موقع پر جمعیت علمائے پاکستان کے رہنماؤں میں علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی،شبیر ابو طالب اور دیگر بھی موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close