پاکستان

شیعہ علماء کی اہلسنت علماء کے ہمراہ داتا دربار حاضری

mwm_2مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کے تمام مطالبا کی حمایت کردی۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وفد نے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی کی سربراہی میں علمائے اہل سنت کے ہمراہ داتا دربار لاہور پر حاضری دی اور شہدائے سانحہ داتا دربار کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ پنجاب کے سیکرٹری مولانا عبدالخالق اسدی، مولانا حسنین عارف، صباحسن، مولانااظہرحسن کرڑ، سیدناصرعباس شیرازی اور دیگر بھی موجود تھے،قبل ازیں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان نے لاہور پریس کلب میں  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ داتادربار کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ، جن لوگوں نے یہ دہشت گردی کی ہے اسلام سے ان کاکوئی تعلق نہیں ،اسلام کے چہرے کوبدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،دہشت گردوں کے تانے بانے جہاں ملتے ہیں سب کومعلوم ہے جہاد کے نام پران لوگوں نے پہلے پہل اہل تشیع کونشانہ بنایااوراب برادران اہلسنت کوٹارگٹ کیاہے یہی لوگ کراچی اورکوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ میں مصروف ہیں اورپورے ملک میں خودکش دھماکے کررہے ہیں ظالموں نے داتادربار جیسی عظیم خانقاہ جہاں سے ہمیشہ امن کاپیغام نشرہواکوبھی اپنے سفاکانہ مقاصدکی تکمیل کی خاطرخون میں نہلادیا۔ہم نے روزاوّل کہاتھاکہ راناثناء اللہ چندووٹوں کی خاطرجن لوگوں کی سرپرستی کررہے ہیں اس کانتیجہ پاکستان میں دوبارہ خونریزی کی صورت میں نکلے گا،اس نازک موقع پروزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کے پشت پناہوں کوفوراًپنجاب کابینہ سے نکال دیں ۔مصیبت کی اس گڑی میں شیعیان حیدرکراربرادران اہلسنت کے ساتھ ہیں انہیں تنہانہیں چھوڑیں گے اوران کے ساتھ مل کردہشت گردوں کامقابلہ کریں گے ۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آئے روزسیکورٹی کوبہانہ بناکردرباربی بی پاک دامن کوبندکردیاجاتاہے،ہم پوچھتے ہیں کہ آج سیکورٹی کی وجہ سے درباروں کوبندکیاجارہاہے توکیاآئندہ سیکورٹی کی وجہ سے بازاروں اورسڑکوں کوبھی بندکردیاجائے گا،درباروں کوبندکرکے حکومت دہشت گردوں کے یجنڈے کی تکمیل کررہی ہے۔حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دوسرے مزارات کی طرح درباربی بی پاکدامن کوفی الفورکھولاجائے ،سیکورٹی فراہم کرناحکومت کی ذمہ داری ہے اس طرح کے اقدامات سے حکومت کی ناکامی ونااہلی ظاہرہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close