پاکستان

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام

Imam-Musa-Kazim-a.sنور ہدایت کا ساتواں آفتاب،امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بن امام جعفر صادق علیہ السلام محبان اہل بیت (ع)کے ساتویں امام ہیں ،آپ علیہ السلام ک وبارگاہ خدا وندی سے ”عبد صالح ”اور” باب الحوائج ”کے القابات عطا ہوئے ،
آپ کا اسم مبارک :    موسیٰ
آپ کی کنیت :    ابو ابراھیم
جائے پیدائش :    ابواہ(مکہ و مدینہ کے درمیان)سات صفر 128ہجری اتوار کے دن
والد محترم :        امام جعفر صادق علیہ السلام
والدہ ماجدہ:        حمیدہ خاتون
شہادت :        55سال کی عمر میں،بغداد ،25رجب 183ہجری ،جمعہ کے روز
وجہ شہادت:        عباسی خلیفہ ہارون الرشید(ملعون)نے زہر دیا
مدفن مقدس:        کاظمین،بغداد
آپ کے بچپن کے بعض واقعات
یہ مسلمات سے ہے کہ نبی اورامام تمام صلاحیتوں سے بھرپورمتولد ہوتے ہیں،جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی عمرتین سال کی تھی ،ایک شخص جس کانام صفوان جمال تھا حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکرمستفسرہوا کہ مولا،آپ کے بعد امامت کے فرائض کون ادا کرے گا، آپ نے ارشاد فرمایا ائے صفوان!تم اسی جگہ بیٹھواوردیکھتے جاؤجوایسا بچہ میرے گھرسے نکلے جس کی ہربات معرفت خداوندی سے پر ہو،اورعام بچوں کی طرح لہوولعب نہ کرتا ہو،سمجھ لینا کہ عنان امامت اسی کے لیے سزاوار ہے اتنے میں امام موسی کاظم علیہ السلام بکری کا ایک بچہ لیے ہوئے برآمد ہوئے اورباہرآ کراس سے کہنے لگے اسجدی ربک اپنے خدا کا سجدہ کر یہ دیکھ کر امام جعفرصادق نے اسے سینہ سے لگا لیا- (تذکرۃالمعصومین ص ) ۔
صفوان کہتا ہے کہ یہ دیکھ کرمیں نے امام موسی سے کہا،صاحبزادے !اس بچہ کوکہئے کہ مرجائے آپ نے ارشاد فرمایا :کہ وائے ہوتم پر،کیا موت وحیات میرے ہی اختیارمیں ہے (بحارالانوارجلد ص ) ۔
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے مسائل دینیہ دریافت کرنے کے لیے حسب دستورحاضرہوئے اتفاقا آپ آرام فرما رہے تھے موصوف اس انتظارمیں بیٹھ گئے کہ آپ بیدار ہوں توعرض مدعا کروں ،اتنے امام موسی کاظم جن کی عمراس وقت پانچ سال کی تھی برآمد ہوئے امام ابوحنیفہ نے انہیں سلام کرکے کہا: اے صاحبزادے یہ بتاؤکہ انسان فاعل مختار ہے یا ان کے فعل کا خدا فاعل ہے یہ سن کرآپ زمین پردو زانو بیٹھ گئے اور فرمانے لگے سنو! بندوں کے افعال تین حالتوں سے خالی نہیں ،یاان کے افعال کا فاعل صرف خدا ہے یاصرف بندہ ہے یا دونوں کی شرکت سے افعال واقع ہوتے ہیں اگرپہلی صورت ہے تو خدا کو بندہ پرعذاب کا حق نہیں ہے،اگرتیسری صورت ہے توبھی یہ انصاف کے خلاف ہے کہ بندہ کوسزا دے اوراپنے کوبچا لے کیونکہ ارتکاب دونوں کی شرکت سے ہوا ہے اب لامحالہ دوسری صورت ہوگی،وہ یہ کہ بندہ خودفاعل ہے اورارتکاب قبیح پرخدا اسے سزادے ۔بحارالانوارجلد ص ) ۔
امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ میں نے اس صاحبزادے کواس طرح نمازپڑھتے ہوئے دیکھ کران کے سامنے سے لوگ برابرگزر رہے تھے امام جعفرصادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ کے صاحبزادے موسی کاظم نمازپڑھ رہے تھے اورلوگ ان کے سامنے سے گزر رہے تھے، حضرت نے امام موسی کاظم کوآواز دی وہ حاضرہوئے، آپ نے فرمایا بیٹا! ابوحنیفہ کیا کہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ تم نمازپڑھ رہے تھے اورلوگ تمہارے سامنے سے گزر رہے تھے امام کاظم نے عرض کی باباجان لوگوں کے گزرنے سے نمازپرکیا اثرپڑتا ہے، وہ ہمارے اورخدا کے درمیان حائل تونہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ تواقرب من حبل الورید رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے ،یہ سن کرآپ نے انھیں گلے سے لگالیا اورفرمایااس بچہ کواسرارشریعت عطاہوچکے ہیں (مناقب جلد ص ) ۔
ایک دن عبداللہ ابن مسلم اور ابوحنیفہ دونوں وارد مدینہ ہوئے، عبداللہ نے کہا، چلو امام صادق علیہ السلام سے ملاقات کریں اوران سے کچھ استفادہ کریں، یہ دونوں حضرت کے در دولت پر حاضر ہوئے یہاں پہنچ کر دیکھا کہ حضرت کے ماننے والوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے ، اتنے امام صادق علیہ السلام کے بجائے امام موسی کاظم برآمد ہوئے لوگوں نے سر و قد تعظیم کی، اگرچہ آپ اس وقت بہت ہی کمسن تھے لیکن آپ نے علوم کے دریا بہانے شروع کیے عبداللہ و غیرہ نے جو قدرے آپ سے دور تھے آپ کے قریب جاتے ہوئے آپ کی عزت و منزلت کا آپس میں تذکرہ کیا، آخر میں امام ابوحنیفہ نے کہا کہ چلو میں انھیں ان کے شیعوں کے سامنے رسوا اور ذلیل کرتا ہوں، میں ان سے ایسے سوالات کروں گا کہ یہ جواب نہ دیے سکیں گے عبداللہ نے کہا، یہ تمہارا خیال خام ہے ، وہ فرزند رسول ہیں ،الغرض دونوں حاضر خدمت ہوئے، امام ابوحنیفہ نے امام موسی کاظم سے پوچھا صاحبزادے، یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے شہر میں کوئی مسافر آ جائے اوراسے قضا حاجت کرنی ہو تو کیا کرے اور اس کے لیے کونسی جگہ مناسب ہوگی حضرت نے برجستہ جواب فرمایا:
مسافرکوچاہئے کہ مکانوں کی دیواروں کے پیچھے چھپے، ہمسایوں کی نگاہوں سے بچے نہروں کے کناروں سے پرہیزکرے جن مقامات پردرختوں کے پھل گرتے ہوں ان سے حذرکرے۔
مکان کے صحن سے علیحدہ، شاہراہوں اورراستوں سے الگ مسجدوں کوچھوڑکر،نہ قبلہ کی طرف منہ کرے نہ پیٹھ ، پھر اپنے کپڑوں کو بچا کرجہاں چاہے رفع حاجت کرے یہ سن کر امام ابوحنیفہ حیران رہ گیے ، اور عبداللہ کہنے لگے کہ میں نہ کہتا تھا کہ یہ فرزند رسول ہیں انہیں بچپن ہی میں ہرقسم کاعلم ہواکرتاہے
(بحار،مناقب واحتجاج)۔
علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں
کہ ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام مکان میں تشریف فرماتھے اتنے میں آپکے نورنظرامام موسی کاظم علیہ السلام کہیں باہر سے واپس آئے امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا بیٹے! ذرا اس مصرعہ پرمصرعہ لگاؤتنح عن القبیح ولامزتودہ آپ نے فورامصرعہ لگایا ومن اولیتہ حسنا فزدہ بری باتوں سے دوررہو اوران کاارادہ بھی نہ کرو ۔ جس کے ساتھ بھلائی کرو،بھرپورکرو پھرفرمایا! اس پرمصرعہ لگاؤ ستلقی من عدوک کل کید آپ نے مصرعہ لگایا اذاکاوالعدوفلاتکدہ (ترجمہ) ۔ تمہارادشمن ہرقسم کامکروفریب کرے گا ۔ جب دشمن مکروفریب کرے تب بھی اسے برائی کے قریب نہیں جانا چاہئے (بحارالانوار جلد ص ) ۔
حضرت امام موسی کاظم (ع) ہارون رشید کی قید میں
جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نےفرائض امامت سنبھالے اس وقت عباسی خلیفہ منصوردوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمارسادات مظالم کانشانہ بن چکے تھے سادات زندہ دیواروں میں چنوائے گئے یاقید رکھے گئے تھے۔
تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ 148ھ میں امام جعفرصادق علیہ السلام کی وفات ہوئی، اس وقت سے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بذات خودفرائض امامت کے ذمہ دارہوئے اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پرمنصوردوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمارسادات مظالم کانشانہ بن چکے تھے تلوارکے گھاٹ اتارے گئے دیواروں میں چنوائے گئے یاقیدرکھے گئے ،خودامام جعفرصادق علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اورمختلف صورت سے تکلیفیں پہنچائی گئی تھی، یہاں تک کہ منصورہی کابھیجاہوازہرتھا جس سے آپ دنیاسے رخصت ہوئے تھے۔
ان حالات میں آپ کواپنے جانشین کے متعلق یہ قطعی اندیشہ تھا کہ حکومت وقت اسے زندہ نہ رہنے دے گی اس لیے آپ نے آخری وقت اخلاقی بوجھ حکومت کے کندھوں پررکھ دینے کے لیے یہ صورت اختیارفرمائی،کہ اپنی جائیداداورگھربارکے انتظامات کے لیے پانچ افراد کی ایک جماعت مقررفرمائی جس میں پہلاشخص خود خلیفہ وقت منصورعباسی تھا، اس کے علاوہ محمد بن سلیمان حاکم مدینہ، اور عبداللہ افطح جوامام موسی کاظم کے سن میں بڑے بھائی تھے ،اورحضرت امام موسی کاظم اوران کی والدہ معظمہ حمیدہ خاتون۔
حضرت امام جعفر صادق کا اندیشہ بالکل صحیح تھا،اورآپ کا تحفظ بھی کامیاب ثابت ہوا، چنانچہ جب حضرت کی وفات کی اطلاح منصورکو پہنچی تو اس نے پہلے تو سیاسی مصلحت سے اظہاررنج کیا،تین مرتبہ اناللہ واناالیہ راجعون کہا اورکہا کہ اب بھلا جعفرکامثل کون ہے؟ اس کے بعدحاکم مدینہ کولکھاکہ اگرجعفرصادق(ع) نے کسی شخص کواپنا وصی مقررکیاہوتواس کا سر فورا قلم کردو، حاکم مدینہ نے جواب میں لکھا کہ انہوں نے تو پانچ وصی مقرر کئے ہیں جن میں سے پہلے آپ خود ہیں، یہ جواب سن کر منصور دیر تک خاموش رہا اور سوچنے کے بعد کہنے لگا کہ اس صورت میں تو یہ لوگ قتل نہیں کئے جا سکتے اس کے بعد دس برس منصور زندہ رہا، لیکن امام موسی کاظم علیہ السلام سے کوئی تعرض نہ کیا، اور آپ مذہبی فرائض کی انجام دہی میں امن و سکون کے ساتھ مصروف رہے یہ بھی تھا کہ اس زمانہ میں منصور شہر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 157ھ یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پہلے اسے فراغت ہوئی، اس لیے وہ امام موسی کاظم (ع) کے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نہیں ہوا لیکن اس عہد سے قبل وہ سادات کشی میں کمال دکھا چکا تھا۔
علامہ مقریزی لکھتے ہیں کہ منصورکے زمانے میں بے انتہا سادات شہید کئے گئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ وطن چھوڑکر بھاگ گئے ہیں انہیں تارکین وطن میں ہاشم بن ابراہیم بن اسماعیل الدیباج بن ابراہیم عمربن الحسن المثنی ابن امام حسن بھی تھے جنہوں نے ملتان کو علاقوں میں سے مقامخان میں سکونت اختیارکرلی تھی (النزاع والتخاصم ص 47طبع مصر)
158ھ کے آخرمیں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا، اور اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پربیٹھا، شروع میں تواس نے بھی امام موسی کاظم علیہ السلام کی عزت و احترام کے خلاف کوئی تعرض نہیں کیا مگر چند سال بعد پھر وہی بنی فاطمہ (س) کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور 164ھ میں جب وہ حج کے نام سے حجازکی طرف گیا تو امام موسی کاظم علیہ السلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور قید کر دیا ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت کو مدینہ واپس بھجوا دیا۔
مہدی کے بعداس کابھائی ہادی 169ھ میں تخت سلطنت پربیٹھا اورصرف ایک سال ایک ماہ تک اس نے سلطنت کی ، اس کے بعدہارون الرشیدکازمانہ آیاجس میں امام موسی کاظم علیہ السلام کوآزادی کی سانس لینانصیب نہیں ہوئی (سوانح امام موسی کاظم ص 5) ۔
علامہ طبرسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ درجہ امامت پرفائزہوئے اس وقت آپ کی عمربیس سال کی تھی (اعلام الوری ص 171)۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا عہد
امام موسیٰ ابن جعفر (ع) کی زندگی کا جائزہ لینے سے پتہ چلتاہے کہ آپ (ع) کی زندگی غیر معمولی واقعات و حادثات سے پر ہے اور میری نظر میں ائمہ علیہم السلام کی سیاسی تحریک کا لفظ عروج آپ (ع) ہی کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ حضرت (ع) کی زندگی سے متعلق صحیح اور واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ کہیں کہیں حضرت (ع) کی زندگی سے متعلق پتہ چلتا ہے کہ آپ (ع) کچھ دنوں تک عمال حکومت کی نظروں سے چھپ کر پوشیدہ زندگی بسر کرتے ہیں اور ہارون کی پوری مشینری آپ (ع) کی تلاش میں رہتی ہے مگر آپ (ع) کا پتہ چلانے سے قاصر رہتی ہے۔ خلیفہ بعض افراد کو پکڑتا ہے اور انہیں اذیتیں دے کر آپ (ع) کا ٹھکانا معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور اس چیز کی گزشتہ ائمہ (ع) کی زندگی میں کوئی اور مثال نہیں ملتی ۔ ابن شہر آشوب مناقب میں درج ذیل روایت نقل کرتے ہیں جس سے اس قسم کا نتیجہ برآمد ہوتا ہے
دخل موسیٰ بن جعفر بعض قری الشام مستنکراً ھاربا موسیٰ ابن جعفر بدحالی اور فرار کی حالت میں شام کے بعض علاقوں میں آئے۔
اس طرح کی چیز کسی اور امام (ع) کے بارے میں نہیں ملتی۔ اس سے امام علیہ السلام کی زندگی میں پائے جانے والے تحرک کا اندازہ ہوتا ہے اور اسی کو دیکھنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آخر آپ (ع) کو کیوں دائمی قید کی صعوبت جھیلنی پڑی ہے۔ ورنہ آپ نے سنا ہوگا کہ شروع میں جب ہارون تخت خلافت پر بیٹھتا ہے اور مدینہ آتا ہے تو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے ساتھ نہایت ہی لطف و نوازش کا برتاو کرتا ہے اور انتہائی احترام سے پیش آتاہے۔ چنانچہ یہ داستان جو مامون سے نقل کی گئی ہے بہت مشہور ہے : وہ کہتا ہے کہ حضرت (ع) ایک سواری سے اتر جائیں لیکن ہارون نے آپ (ع) کو ایسا نہیں کرنے دیا اور قسم دی کہ آپ (ع) کو میری جائے نشست تک یونہی سوار ہوکر چلنا ہوگا۔ چنانچہ آپ (ع) اسی طرح سوار وہاں تک پہنچے۔ سب نے حضرت (ع) کا احترام کیا اور آپس میں گفتگو ہوئی۔ جب آنحضرت (ع) جانے لگے تو ہارون نے مجھ (مامون) سے اور امین سے کہا کہ ابوالحسن کی رکاب تھام لو۔۔
ایک دلچسپ بات جو اس روایت میں مامون بیان کرتا ہے وہ یہ ہے: میرے باپ ہارون نے تمام لوگوں کو پانچ پانچ ہزار اور دس دس ہزار دینار (یا درہم) عطیہ و بخشش کے طور پر دئیے اور موسیٰ ابن جعفر (ع) کو دو سو دینار دئیے حالانکہ جب ہارون نے حضرت (ع) سے احوال پرسی کی تھی تو حضرت (ع) نے اپنی سخت پریشانی اور مالی بدحالی کے ساتھ کثرت عیال کا تذکرہ بھی کیا تھا (یہ باتیں امام (ع) کی زبان سے نہایت ہی دلچسپ اور پر معنی معلوم ہوتی ہیں اور خود میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے شاہی دور میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران تقیہ کا تجربہ کیا ہے اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔ انہیں بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ امام علیہ السلام کا ہارون جیسے شخص کے سامنے اس طرح اپنی پریشان حالی کا ذکر کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ امام (ع) کیوں کہتے ہیں کہ میری حالت اچھی نہیں ہے گزر بسر مشکل سے ہوتی ہے؟ اس طرح کی باتیں ہرگز ذلت و حقارت کی نشاندہی نہیں کرتیں۔ ہم اور آپ جانتے ہیں کہ جابر و ظالم و طاغوتی دور میں جان بوجھ کر ہم لوگ اس طرح کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ انسان اس قسم کی سختیوں کے دور میں دشمن کو اپنی حالت اور کاموں سے غافل رکھنے کے لئے اس طرح کی باتیں کیا کرتا ہے۔)
بہر حال اصولی طور پر امام (ع) کی اس طرح کی باتوں کے بعد ہارون کو امام علیہ السلام کی خدمت میں کوئی بڑی رقم مثلاً پچاس ہزار دینار (یا درہم) پیش کرنی چاہئیے تھی لیکن وہ صرف دو سو دینار دیتا ہے۔
مامون کہتا ہے : میں نے اپنے باپ سے اس کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا : جو رقم مجھے ان کو دینی چاہئیے تھی اگر دے دوں تو مجھے خدشہ ہے کہ چند دنوں کے بعد وہ اپنے دوستوں اور شیعوں میں سے ایک لاکھ شمشیر زن میرے خلاف کھڑے کردیں گے۔
یہ ہارون کا تاثر اور خیال ہے اور میری نظر میں ہارون نے ٹھیک ہی سمجھا تھا۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہارون کا یہ تاثر امام (ع) کے متعلق چغل خوریوں کا نتیجہ ہے لیکن حقیقی قصہ یہی ہے۔ اس زمانہ میں کہ جب امام ( ع) ہارون کے خلاف جد و جہد میں مشغول تھے اگر واقعی اس وقت امام (ع) کے پاس دولت ہوتی تو ایسے بہت سے لوگ تھے جو آپ (ع) کی معیت میں تلواریں سوتنے پر آمادہ تھے اور اس کے نمونے ہمیں امام زادوں کی تحاریک میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں آئمہ علیہم السلام یقینا اپنے گرد زیادہ افراد اکھٹا کرسکتے تھے لہذا امام محمد باقر (ع) کا زمانہ اوج کا دور کہا جاسکتا ہے جو آپ (ع) کی قید پر منتہی ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close