پاکستان

لاہور:تحریک جعفریہ پر پابندی ،پنجاب حکومت کا متعصبانہ اقدام

Reportشیعت نیوز کی تجزیاتی رپورٹ
پنجاب حکومت نے پنجاب میں کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت 23دیگر تنظیموں پر پابندی عائد کی ہے جس کی وجہ پنجاب میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ ۔لشکر جھنگوی ،جیش محمد اور دیگر تنظیموں کی جانب سے گذشتہ کئی ماہ سے جاری دہشت گردی  کی کاروائیاں ہیں ،تاہم پنجاب حکومت نے کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے ظاہری ناموں پر پابندی عائد کرتے ہوئے دہشت گردوں کی کاروائیوں کی پردہ پوشی کرنے کے لئے ایک نیا ڈرامہ رچایا ہے۔
شیعت نیوز کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے شیعہ دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر شیعان حیدر کرار پاکستان کی ایک جماعت تحریک جعفریہ پر پابندی عائد کی ہے ،جو کہ صرف اور صرف پنجاب میں جاری دہشت گردی کے واقعات سے توجہ ہٹانے اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی پردہ پوشی کے لئے کیا گیا ہے ۔جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی اور جیش محمد سمیت دیگر ناصبی دہشت گرد تنظیموں دوسرے ناموں سے اپنی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں اور ملک بھر باالخصوص پنجاب میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں نہتے عوام اور شیعیان حیدر کرار کو شکار کر رہے ہیں۔
یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ ملت جعفریہ نے قیام پاکستان سے لے کر ہمیشہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لئے نہ صرف اپنے اموال کی قربانی دی بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ،قائد اعظم محمد علی جناح ؒ ،ہوں یا راجہ صاحب محمود آبادہوں یا پھر محمد علی حبیب ،اور دیگر شخصیات ہوں جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت اپنے سرمایہ سے مملکت پاکستان کی خدمت کی اور ملت جعفریہ اپنے آباؤ اجداد کی سیرت پر عمل پیرا رہتے ہوئے گذشتہ 6 دہائیوں سے مملکت خداد پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کرتی آئی ہے ۔جبکہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی کانگریسی ملاؤں (دیو بندی مولویوں )کی جانب سے تحریک پاکستان کے سر کردہ رہنماؤں بشمول قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کو کافر اعظم کہا گیا اور آج انہی ناصبیوں کی اولادیں خواہ وہ اعظم طارق (ملعون)ہو یا جھنگوی،ریاض بسرا اور لدھیانوی ہو،ان ملعونوں نے ہمیشہ پاکستان میں بانیان پاکستان کی اولادوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ان ملعون لوگوں نے اپنی تقریروں میں علی العلان شیعیان پاکستان کے قتل کو واجب قرار دیا ۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ یہ تمام کالعدم دہشت گرد تنظیمیں جن کا وجود ماضی میں ڈکٹیٹر حکومت کے سربراہ جنرل ضیاء الحق کی ایماء پر لایا گیا جس کا مقصد ہی صرف اور صرف ملک میں شیعہ سنی عوام کو باہم دست و گریباں کرنا تھا۔
دہشت گردی کی بنیاد پر بنائی جانے والے ان کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت دیگر نے گذشتہ کئی برس سے ملت جعفریہ کے عمائدین،علمائے کرام،ڈاکٹرز،انجینئرز اور شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں اہم افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہوئے شہیدکیا،اور قائد ملت جعفریہ علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ جیسیی عظیم شخصیت کو بھی انہی ناصبی دہشت گردوں نے شہید کیا کیونکہ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒ ملک میں اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لئے سر گرم عمل تھے جو کہ کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی رہنماؤں کو قابل قبول نہ تھا۔ جبکہ ملت جعفریہ نے اس کے بر عکس جنازے بھی اٹھائے اور اپنے عوام کو پر امن رہنے کے ساتھ ساتھ اتحاد کی تلقین کی،یہ تمام تر باتیں ملک کے حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹوں میں بھی درج ہیں۔
ملت جعفریہ ایک تنظیم تحریک جعفریہ(اسلامی تحریک پاکستان) نے ہمیشہ مملکت خداد پاکستان کی سر بلندی اور اسلام کی سر بلندی کے لئے خدمات انجام دی ہیں اور اب بھی اسی راستے پر گامزن ہے جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لاکھوں ایسے مقدمات قائم ہیں جن میں بے گناہ شیعہ اور سنی افراد اور ان کی قیادتوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہاہے اور حالیہ دنوں میں یہ سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں سانحہ عاشور کراچی،سانحہ اربعین کے بعد سے اب تک سینکڑوں عزداران امام حسین علیہ السلام شہید ہو چکے ہیں۔
شیعت نیوز کے تجزیہ نگار کاکہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی تحریک جعفریہ جیسی محب وطن مذہبی جماعت پر پابندی عائد کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پنجاب حکومت در اصل کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے خلاف گھیرا تنگ ہونے کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے تحریک جعفریہ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی ایک ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے کالعدم دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے باعث پابندی عائد کرتے ہوئے نہایت ناانصافی سے کام لیتے ہوئے ملت جعفریہ کی ایک عوامی جماعت سپاہ محمدؐ کے ساتھ بیلنس کرتے ہوئے پابندی عائد کی تھی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حساس اداروں کی رپورٹس جو کہ ریکارڈ پر موجود ہیں کے مطابق مل جعفریہ کی کوئی بھی تنظیم بشمول تحریک جعفریہ ،سپاہ محمد کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کاروائی میں ملوث نہیں تھی جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی،جیش محمد سمیت کئی ناصبی تنظیموں کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت ریکارڈ پر موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں۔
شیعت نیوز کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومتی حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق تحریک جعفریہ(اسلامی تحریک) پنجاب سمیت ملک بھر میں گذشتہ دس سالوں سے کسی بھی دہشتگردانہ کاروائی میں ملوث نہیں پائی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا دہشت گرد گرفتار ہوا جس کا تعلق تحریک جعفریہ سے ہو۔۔۔ لیکن انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے کالعدم دہشتگرد گروہ سپاہ صحابہ کی بجائے تحریک جعفریہ پر پابندی عائد کی گئی!!!
تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت نے کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ جو کہ نئے نام جماعت اہل سنت کے نام سے دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہی ہے اس پرپابندی عائد نہیں کی ہے بلکہ کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی پردہ پوشی کے لئے صرف سپاہ صحابہ کے نام پر پابندی عائد کی ہے جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ اس وقت بھی نئے نام جماعت اہلسنت سے دہشت گردی کی کاروائیوں کو انجام دے رہی ہے اور ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے میں ملوث ہے۔جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ گذشتہ دنوں کالعدم دہشت گرد تنظیم کے سربراہ احمد لدھیانوی نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دیو بندی اور سنی فسادات کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے شدید تباہی پھیل سکتی ہے ،احمد لدھیانوی کا یہ بیان ایک دھمکی آمیز بیان ہے جس میں واضح طور پر ملک میں سنی مسلمانوں کو دھمکی دی جا رہی ہے ،ہو نا تو یہ چاہئیے کہ علمائے دیو بند اپنی صفوں سے ان دہشت گرد عناصر کو الگ کریں جن کے سبب اسلام کا چہرہ مسخ ہو رہا ہے اور علمائے دیوبند ی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والی ایک جماعت تحریک جعفریہ پر پابندی عائد کرنا ایک غیر منصفانہ اور شیعہ دشمنی سمیت متعصبانہ اقدام ہے،یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جماعت الدعوۃ جو کہ ایک دہشت گرد جماعت ہے اس پر بھی پابندی عائد نہیں کی گئی ۔
شیعت نیوز کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر شخص جان چکا ہے کہ پنجاب حکومت کے تعلقا ت کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی،جیش محمد اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے ہے جس کی وجہ سے حکومت پنجاب ان دہشت گرد عناصر کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے اورپنجاب حکومت کے وزراء بشمول رانا ثنا ء اللہ و دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں سے روابط میں ہیں اور ملک میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث بھی ہیں۔واضح رہے کہ سانحہ داتا دربار کے بعد سے ایک ایسی فضاء قائم ہو رہی تھی کہ ان کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا گیا تو ایسی صورتحال میں تحریک جعفریہ پر پابندی عائد کرکے حالات وواقعات کے رخ کو موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بات نہایت اہم ہے کہ سنی حقوق کی علمبردار تنظیم کے سربرای ثروت اعجاز قادری نے دوروز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ سانحہ نشتر پارک اور بانی سنی تحریک پاکستان شہید سلیم قادری کے قاتل کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ سے تعلق رکھتے تھے جو کہ بعد میں نام بدل جانے کی وجہ سے جماعت اہلسنت میں داخل ہو گئے ،اسی طرح دوسری جانب سنی تحریک کے مرکزی رہنما شاہد غوری نے جعفریہ الائنس پاکستان کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ملک میں شیعہ اور سنی قیادتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے میں کالعدم دہشت گرد سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی ملوث ہیں جبکہ ان کا مقصد شیعہ اور سنی میں تفرقہ ڈال کر باہم دست و گریبان کرنا ہے ،انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے خلاف شواہد موجود ہیں کہ پنجاب حکومت پنجاب میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی سر پرستی کر رہی ہیں اور ملک میں شیعہ سنی فساد کروانی کی گھناؤنی سازش میں مصروف عمل ہے۔
حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ ملک میں بسنے والے عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ملک میں موجود ان کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی،جیش محمد اور دیگر دہشت گردتنظیموں پر جو کہ ملک میں ہزاروں شیعہ بے گناہوں کو شہید کر چکے ہیں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے صرف ان کے ناموں پر پابندی عائد نہ کرے بلکہ مذہبی منافرت پھیلانے والے ان ناصبی دہشت گردوں کے اصل سربراہوں اور افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائے ،جبکہ حکومت پنجاب کو چاہئیے کہ وطن عزیز کی محب وطن جماعتوں بشمول تحریک جعفریہ (اسلامی تحریک)جیسی جماعتوں کے خلاف غیر منصفانہ اقدام اور متعصباہ اقدامات کی بجائے اپنی صفوں میں موجود رانا ثناء اللہ جیسے دہشتگردوں کی سرپرستی کرنے والے عناصر کا صفایاکرے اور عوام کو امن و امان کی سہولت فراہم کرے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close