پاکستان

پنجاب:لشکر جھنگوی،حرکۃ الجہاد،تحریک طالبان اور دیگر گروہ دہشت گردی میں ملوث ہیں

terrortist-in-panjabپنجاب:لشکر جھنگوی،حرکۃ الجہاد،تحریک طالبان اور دیگر گروہ دہشت گردی میں ملوث ہیں. حساس اداروں کی خصوصی رپورٹ
پنجاب کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حساس اداروں نے اپنی ایک جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پنجاب میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں کالعدم لشکر جھنگوی،کالعدم حرکۃ الجہاد اور کالعدم تحریک طالبان ملوث ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کہا گیا ہے کہ  کالعدم لشکر جھنگوی،کالعدم حرکۃ الجہاد اور کالعدم تحریک طالبان ملک بھر سمیت خصوصاً پنجاب میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور اب تک پنجاب میں ہونے والی دہشتگردی کے 49واقعات میں ان دہشت گرد تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جوکہ گذشتہ 18ماہ میں اب تک ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حرکۃ الجہاد اور تحریک طالبان کو چلانے اور دہشت گردی کے منصوبوں کی تکمیل میں القاعدہ کے دہشت گرد ماسٹر مائنڈ الیاس کشمیری کے ملوث ہونے کے شواہد بھی مل چکے ہیں،اور واضح ہوا ہے کہ یہی تین دہشت گرد گروہ پنجاب میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں۔
پہلا گروپ جو کہ لشکر جھنگوی ہے افغانستان سے تربیت حاصل کر کے پاکستان میں اپنی سر گرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے ،رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ لشکر جھنگوی جو کہ ایک دہشت گرد گروپ ہے دہشت گردی کی کاروائیوں کے لئے اپنی رپورٹس کو الیاس کشمیری تک پہنچاتا ہے جبکہ بعد میں ان اطلاعات کو تحریک طالبان تک پہنچایا جاتا ہے اور اس کے بعد دوسرا گروہ خود کش بمبار کی فراہمی میں مدد فراہم کرتا ہے اور اسی طرح تیسرا دہشت گرد گھروہ جو کہ لوکل طالبان یعنی تحریک طالبان پاکستان کے نام سے اپنی سر گرمیاں انجام دے رہاہے دہشت گردی کے حملوں کو یقینی بناتا ہے اور تیسرا گروہ ان دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ کی فراہمی اور خود کش بمبار کی جیکٹ کی فراہمی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کہا گیا ہے کہ گذشہ ڈیڑھ برس کے عرصے میں ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی دہشت گردوں نے پنجاب میں 49حملے کئے جس میں 687بے گناہ جانوں کا نقصان ہوا جن میں 69پولیس افسران بھی شامل ہیں ،جبکہ 1834افراد ذخمی ہو ئے جن میں 268افراد پولیس اہلکار تھے ۔49میں سے 21ویں دہشت گردی کے حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کی کاروائی کے بعد 37دہشت گرد جن کا تعلق درج بالا دہشت گرد تنظیموں سے تھا گرفتار ہوئے ،جبکہ 24پولیس مقابلوں میں مارے گئے اور اسی طرح 27دہشت گرد کود کش بمبار تھے جو خود کش دھماکوں میں مارے گئے ۔
حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق سال؎ 2007میں دہشت گردی کے حوالے سے 23کیسز رجسٹرد کئے گئے جبکہ جن میں سے 14کیسوں کی سماعت کے لئے چالان انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں پیش کئے گئے ۔جن میں سے آٹھ مقدمات پر ملزمان نے اعتراض کیا تاہم بعد ازاں نو مقدمات سے سے بری کر دئیے گئے
سن 2008میں 15کیس جو کہ دہشت گردی سے متعلق تھے میں رجسٹرڈ کئے گئے جن میں سے 9کیسوں کی سماعت کے لئے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پانچ دہشتگردی کے مقدمات سے دہشت گرد ملزمان بری ہو گئے۔
سن 2009میں دہشتگردی میں ملوث افراد کے خلاف تیس مقدمات رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 10کا چالان سماعت کے لئے پیش کیا گی اتاہم 19مقدمات میں 13دہشت گرد رہا ہوئے ،رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشتگردوں کی مقدمات سے رہائی کا ریشو روکنے کے لئے موثئر اقدامات کرنے ہوں گے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close