پاکستان

پاراچنار سے آنے والے قافلہ پر حملہ سیکورٹی فورسز پر سوالیہ نشان ہے ۔

Molana_Ameen_Sahediمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹر ی جنر ل علامہ محمد امین شہیدی نے ہفتے کے روز پاراچنار سے پشاور آنے والے شیعہ مسافروں کے قاافے پر طالبان دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر خون خوار دہشت گرد طالبان کے ہاتھوں پاراچنار کے راستہ پر سفر کرنے والے 18 بے گناہ شہیدجبکہ متعدد زخمی ہوچکے ہیں ۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق علامہ امین شہید ی کا کہنا تھا کہ شہداء اور زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیںاور اس بھیانک جرم کے پیچھے واضح طور پر کمانڈنٹ ملیشاء کرنل توصیف کا ہاتھ ہے کیونکہ گذشتہ روز صحافیوں کو بلاکر اُسی نے بے بنیاد اور جھوٹی بریفنگ کے زریعے پاکستان کے 18کروڑ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ٹل پاراچنار روڈ کھل چکا ہے اور مسافروں کو اس روڈ پر کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے اور آج جب صبح یہ قافلہ پاراچنار سے پشاور آرہا تھا توانہیں راستے میں حفاظت کے لئے کسی طرح کی کوئی سہولت میئسر نہیں کی گئی جبکہ حادثے کی جگہ پر یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ اس کے بعد راستہ پر امن ہے اور آپ کو کسی سیکورٹی کی ضرورت نہیں ہے ، جب یہ قافلہ چارخیل کے مقام پر پہچا تودہشت گرد طالبان نے اُن نہتوں پر اندھا دندھ فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 18افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ مرکزی دفتر العارف ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میںعلامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمن ملک سے ہم یہ پوچھنے میں حق باجانب ہیں کہ کب تک بے گناہ اور نہتے بچوں ، خواتین اور بوڑھوں کا اس طرح خون ِ ناحق بہایا جائے گا۔؟ کیا وہ اس انتظار میں ہیں کہ ایسے حادثات میں متاثر ہونے والے خاندانوںکے چشم و چراغ جوان قلم اور کتاب چھوڑ کر بندوق ہاتھوں میں تھام لیں ؟؟ کیا انسانیت دشمن طالبان کو روکنا حکومت کے بس میں نہیں ہے ؟؟ کیا کرنل توصیف جیسے غدار افسروں کوان علاقوں پر مسلط کر کے بے گناہوں کے خون ناحق کا سہرا حکومت اپنے سر پر لینا چاہتی ہے؟؟ یہ عجیب ستم زریفی ہے کہ کرم کے محب و طن لوگ نہ افغانستان کے راستے پاکستان آسکتے ہیں اور نہ ہی ٹل کے راستے سے جبکہ وزیر داخلہ افغان حکومت سے کرم بارڈر سیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی اس وقت غزا کا منظر پیش کر رہی ہے اور طالبان فورسز صہیونی یہودیوں کا کردار ادا کررہے ہیں اور ہمارے حکمران امریکی انداز اختیار کرتے ہوئے صر ف مذمتی بیان پر اکتفاء کرتے ہیں اور دہشت گرد فورسز کو درپردہ مکمل سپورٹ دیتے ہیں ۔ پاکستان کی غیر ت مند قوم ایسی بربریت اور حکومت کی دوغلی پالیسوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ یکم اگست کو ملک بھر سے اسلام آباد پہنچنے والے قافلے کرم کے مظلوم محسورین کے حق میں طاقت ور آواز بلند کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ دوسر ا بڑا واقعہ ہے ان واقعات میں اب تک 30سے زائد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close