پاکستان

پارلیمنٹ، فوج، عدلیہ، میڈیا، علما ء اور سول سوسائٹی مل کر دہشت گردوں کے خلاف اعلان جنگ کریں

JAPجعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عبا س کمیلی نے سانحہ سرگودھا اور پاراچنار میںہونے والی دہشت گردی کے خلاف کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ، فوج ، عدلےہ ، مےڈےا ، علما ء اور سول سوسائٹی مل کر دہشت گردوں کے خلاف اعلان جنگ کرےں ،پوری قوم انکا ساتھ دے گی۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سربراہ جعفریہ الائنس نے کراچی میں مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا جبکہ ان کے ہمراہ مولانا حسین مسعودی،علامہ جعفر رضا،شبر رضا،اور صابر کربلائی کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ 7جولائی کو جعفرےہ الائنس کے زےر اہتمام اےک آل پارٹےز کانفرنس کا انعقاد کےا گےا تھا جس مےں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور سےاسی جماعتوںو سماجی شخصےات نے بھرپور شرکت کی اورجسے آپ کے تعاون سے کامےابی حاصل ہوئی اور عوام الناس مےں اےک مثبت پےغام گےا جس کے نتےجے مےں کراچی مےںنہ صرف اتحاد اور بھائی چارگی کی فضا قائم ہوئی بلکہ ٹارگٹ کلنگز مےں بھی کچھ کمی آئی اسی کانفرنس مےںاےک فورمSave Pakistan Movement کے نام سے تشکےل دےا گےاجس پر تمام شرکاء کانفرنس نے بھرپور اعتماد کا اظہار کےا اور الحمد اللہ اس پر باقاعدہ کام شروع کردےا گےا۔
ان کا کہناتھا کہ اےک مرتبہ پھر ملک عزےز پاکستان مےں دہشت گردی کے تسلسل سے اٹھنے والی نئی لہر کو روکنا ہے ۔ دو روز قبل فوج کی نگرانی مےں پارہ چنار سے پشاو ر سےکورٹی فورسز کی نگرانی مےں آنے والے کانوائے پر حملہ ہوا جس مےں بے گناہ 19افراد شہےد اور متعدد زخمی ہوگئے اس سے قبل بھی اےسا سانحہ پےش آچکا ہے پوری قوم جانتی ہے کہ پارہ چنا ر کا خطہ پورے ملک سے کئی سالوں سے مطلقاََ کٹا ہوا ہے اور فلسطےن کی طرح دہشت گردوں کے محاصرے مےں ہے پارہ چنار آمد ورفت ممکن نہےں علاوہ اس کے کے افغانستان کے راستے سے سفر کےا جائے گزشتہ کچھ عرصہ پہلے ہی راستہ کھلا تھا اور کانوائے کی صورت مےں پشاور سے آمدرفت ممکن ہوئی تھی کہ پھر ےہ سانحہ پےش آگےا ےہ کوئی پہلی بار نہےں ہوا سوال اٹھتا ہے کہ سےکورٹی فورسز جن کی نگرانی مےں ےہ قافلہ جار ہا تھا وہ کےا کررہی تھےں انہوں نے کےا کردار ادا کےا ےا وہ صرف خاموش تماشائی بنے رہے کےا ےہ سب ملی بھگت کے بغےر ممکن ہے پارہ چنارےوں پر آخر ےہ مصائب کب تک گزرتے رہےں گے اور اس محاصرے سے نہ جانے ان کی جان کب چھوٹے گی ۔
ان کاکہنا تھا کہ سرگودھا کے دارلعلوم محمدےہ کی مسجد مےںعےن نماز مغربےن کی اذان کے دوران خود کش حملہ ہوا اگرچہ مسجد سےکورٹی گارڈ اور والنٹےرز نے دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنادےا جس کی وجہ سے نقصان کم ہوا ورنہ تقرےباً 300 افراد اس کی زد مےں آتے حکومت صرف دھماکہ ہوجانے کے بعد مذمت اور ہائی الرٹ کا اعلان کردےتی ہے ۔ ہماری سمجھ مےں ےہ بات نہےں آتی کہ دہشت گردی ہوجانے کے بعد ہائی الرٹ کرنے کا کےا مطلب ہے صوبے پنجاب مےں آئے دن مسلسل بڑے پےمانے پر دہشت گردی ہورہی ہے آخر ہائی الرٹ ختم کےوں کردےا جاتا ہے ۔ اور آپکو دوبارہ ہائی الرٹ کرنے کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے کےا ہم اسے وقفہ دہشت گردی قرار دےں؟۔۔۔جب کہ مےڈےا پر آکر پولےس افسر اعلان کرتا ہے کہ ہم نے سےکورٹی کی او رکرےں گے ۔ مےڈےا کے نمائندے نے سوال کےا کہ اُس وقت کتنے پولےس والے اور کہاں ڈےوٹی پر مامور تھے تو اُسکا اسکے پاس کوئی جواب نہ تھا وزےر اعلیٰ پنجاب سرگودھا کے ذمہ داران کو فوراً معطل کر کے شامل تفتےش کرےں ۔
انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کے ساتھ مذاق کب تک کرتے رہےں گے اور کب تک دہشت گردوں ، ملک دشمنوں اور اسلام دشمنوں سے خفےہ معاشقہ اور دوستےاں جاری رکھےں گے اور دہشت گردوں سے اپنی حکمرانی اور جانوں کی بھی بھےک مانگ کر پاکستانی عوام کو دہشت گردوں کے حوالے کرتے رہےں گے آخر کب تک اپنے مفادات کے لیے ملکی اور اسلامی مفادات کے قتل کا بازار گرم رکھےں گے ان حکمرانوں کا جذبہ حب الوطنی اور حب اسلامی کب بےدار ہوگا۔ اب پانی سر سے گذر چکا ہے اب ہمارے پاس وقت بالکل نہےں ہے اب اگر پاکستان کو بچانا ہے تو پاکستان کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر ہر پاکستانی کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی بوڑھا ، بچہ، جوان، مرد،عورت ، مسلم، غےر مسلم ، سنی ، شےعہ، دےو بندی ، اہلحدےث ، شہری ، دےہاتی ، پارلیمنٹ ، عدالت، فوج، مےڈےااور سول سوسائٹی ہر ہر فرد خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب و ملت اور عقےدے سے ہو ہر اےک کو دہشت گردوں کے مقابلے مےں سےسہ پلائی دےوار بننا ہوگا اور اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا دہشت گردی ، دہشت گردوںان کے سر پرستوں ، انہےں پالنے والوں، انہےں بنادےنے والوں، انہےں تربےت دےنے والوں اور ان سے ہمدردی کرنے والوں، اعلانےہ و غےر اعلانےہ حماےت کرنے والوں سب سے نفرت کا اظہار اور قطع تعلق کا واضح اعلان کرنا ہو گا ۔
ان کا کہنا تھا کہ علماء اسلام اور سےاست دانِ پاکستان اگر ،مگر، اس لیے ، اُس لیے، اس وجہ سے ، اُس وجہ سے ، کےونکہ،چونکہ کی پالےسی کو ترک کرکے عوام کے سامنے اسلام کی صاف شفاف صورت اسلامی امن اور سلامتی کے نظرےے اور اسلامی محبت او ررواداری کی فضا کو قائم کرنے مےں اپنا بھرپور اور واضح کردار سامنے لائےں ۔    بالخصوص علماء دےو بنددہشت گردوں اور دہشت گردی سے اپنے آپ کو علےحدہ کرےں دہشت گردی اوردہشت گردوں کے خلاف واضح نظرےہ سامنے لائےں زبان سے کچھ اور دل مےں کچھ کی پالےسی ترک کرےں اب ہم سب کو زبان سے لا الا اللہ اور دل مےں رام رام چھوڑنا ہوگا اور قول و فعل کو اےک کرنا ہوگا ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close