کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
پاکستان

ِِِ کوئٹہ ۔ ہفتہ تحریک مستضعفین جہان اور مذمت غیر اسلامی ثقافت منایا جائےگا ۔

ISOآئی،ایس،او کے زیر اہتمام 23تا 31جولائی تک ہفتہ تحریک مستضعفین جہان اور مذمت غیر اسلامی ثقافت منانے کا اعلان
ہفتہ تحریک مستضعفین جہان سے تو واضح ہے کہ ہم فلسطین کی مظلوم و مستضعف قوم کی بات کر رہے ہیں ۔ نہ صرف بات کر رہے ہیں بلکہ ہم بھرپور انداز میں اُن مظلومین کی حمایت کرتے ہیں اور اُن کی صدائے مظلومی پر لبیک کہتے ہیں۔اسرائیل کے جارہانہ ، مجرمانہ، گستاخانہ اور دہشتگردانہ کاروائیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان؎ بلوچستان کے صوبائی صدر عامر عباس نے کوئٹہ میں ہونے والی پریس کانفرس سے خطاب میں کیاانہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے دہشتگرد امریکہ اور اس کی ناجائیز اولاد اسرائیل کے کھیل کو اب ختم ہو جانا چاہئے ۔ ہم اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر خاص طور پر بلوچستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کو بھی عالمی دہشتگردی کے اس سلسلے کی ایک کڑی سمجھتے ہیں ۔ خصوصاََ کوئٹہ کے اندر محبان اہلبیت ؑکی ٹارگٹ کلنگ اور مستونگ جو کہ وزیر اعلیٰ کا حلقہ ہے، کہ اندر شیعیان اہلبیت ؑکو چن چن کے لقمہ اجل بنا یا جا رہا ہے ا ور بغیر غسل و کفن کے دفنایا جاتا ہے لیکن اتنی بڑے دہشتناک حالات کے باوجود، کہ جن سے حکومت آگاہ ہے کو ئی خاطر خواہ اقدام نہیںلیے جاتے۔ نہ صرف بلوچستان بلکہ وطن عزیز کے چاروں صوبوں میں منظم انداز سے دہشتگردانہ کاروائیاں ہو رہی ہے۔چاہے وہ کراچی کی حالیہ صورتحال ہو یا پھر لاہور اور کرم ایجنسی پاراچنار کے حالات ہوں ۔ آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ پاراچنار گزشتہ 4سالوں سے مکمل محاصرے میں ہے۔پاکستان کا یہ علاقہ ،پاکستان سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے ۔ابھی تک سپریم کورٹ آف پاکستان نے بہت سارے ایشوز کے اُوپرسوموٹو ایکشن لیے ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کے پاراچنار اور اُس میں رہنے والے مظلوم پاکستانیوں پر سپریم کورٹ کی نگاہ نہیں پڑھتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ حالیہ پاراچنار سے پشاور کی طرف آنے والی حکومت کی زیرِ نگرانی کانوائے پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جس نتیجہ میں 13معصوم شیعہ افراد شہید ہوئے دہشتگردانہ کاروائی کی مزمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کے وہ ان دہشت گردوں کے خلاف عملی کاروائی کرے۔
اُنہوں نے کہا کے ہم ان تما م واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ہفتے کے اختتام پر یعنی یکم اگست کو اسلام آباد کے اندر شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینیؒ کی 22ویں برسی کے موقع پر وحدت ِملت کنونشن اور کنونشن کے فوراََ بعد استحکام پاکستان ریلی کے پروگرام سے آگاہ کیا ،انہوں نے لاہورداتا دربار میں خودکش حملے ،جنوبی پنجاب میں بااثر لوگوں کی طرف سے طالبان کی سر پرستی کی پُرزور مذمت کی ۔
حکومت سے مطالبہ کیا کے وہ لاہور داتا دربا میں حملے اور جنوبی پنجاب میں اُن بااثر افراد جن کے دہشت گردوں سے روابط ہیں کاروائی کرے۔
٭ حکومت گلگت بلتستان فقہِ جعفریہ کے نصابِ تعلیم پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ۔
٭ حکومت پاک سرزمین پر نیٹو اورامریکی مداخلت کو جلد سے جلد ختم کرائے ۔
٭ حکومت پشاور پارہ چنار قومی شاہراہ کے بندشکو ختم کرائے اور تاکہ شاہراہ کو فوری طور پر عام عوام کےلئے کھولا جائے ۔
٭ حکومت اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قرارداد مذمت پیش کرے ۔
شرکائے پریس کانفرنس میں قمر عباس( ڈویژ نل صدر آئی ایس او کوئٹہ ڈویژن، کامران حسین( نائب صدر) ذاکر حسین( جنرل سیکرٹری )یاور عباس، روح اللہ موجود تھے۔

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close