پاکستان

سرحد و بلوچستان کے بعد پنجاب میں دہشت گردی سوالیہ نشان ہے،عبدالجلیل نقوی


jalil 01.11.2009 اسلامی تحریک پنجاب کے صدر سید عبدالجلیل نقوی نے کہا ہے کہ اگرچہ ایم ایم اے ختم ہو چکی ہے،تاہم تمام مکاتب فکر کے درمیان اخوت،اتحاد اور بھائی چارے کی فضا ضروری ہے۔پاکستان کے عوام میں مسلکی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے سندھ اور پنجاب کے ڈویژنل صدر مقامات پر امن کانفرنسیں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء اور سیاسی و سماجی شخصیات شرکت کریں گی۔ وہ ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سید اظہار بخاری،علامہ جعفر سبحانی،شفاعت حسین پہلوانی،سید اظہر عباس زیدی،یعقوب شہباز اور مولانا علی محمد نقوی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان آپریشن کے منفی اثرات سے جنوبی پنجاب اور صوبہ سرحد کے جنوبی اضلا ع بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان کو بچایا جائے کیونکہ متاثرین کی شکل میں دہشت گردوں کے پناہ لینے کے خطرات موجود ہیں۔اگرچہ صوبہ سرحد اور بلوچستان کی نسبت پنجاب میں کافی حد تک امن و سکون قائم ہے لیکن گزشتہ عرصے میں فرقہ وار دہشت گردی اور سرکاری اداروں کے خلاف ہونے والے واقعات نے پنجاب کے امن و امان پر سوالیہ نشان قائم کر دیا ہے۔کیونکہ دہشت گردوں نے فرار ہو کر جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں پناہ حاصل کی ہے۔ استعمار کے مقابلے کیلئے مذہبی یگانگت ضروری ہے،تحریک اسلامی،جے یو آئی کراچی:تحریک اسلامی کے آٹھ رکنی وفد نے جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔جس میں کہا گیا کہ عالمی استعمار کے مقابلے کیلئے پاکستان میں مذہبی یگانگت ضروری ہے۔ متحدہ مجلس عمل ختم نہیں ہوئی بلکہ اس پلیٹ فارم کی ضرورت ماضی کے مقابلے میں مزید بڑھ گئی ہے۔ وفد کی قیادت شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ جلیل نقوی نے کی۔جس میں علامہ جعفر سبحانی،علامہ علی محمد نقوی،علامہ عباس ترابی،شفاعت حسین پہلوانی،اظہار بخاری،یاسر کاظمی اور یعقوب شہباز شامل تھے۔ وفد نے کہا کہ ڈی آئی خان میں مولانا فضل الرحمن کا قائم کردہ جرگہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ علامہ جلیل نقوی نے کہا مولانا فضل الرحمن کی امت کے اتحاد کیلئے کی گئی قربانیوں کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔شیعہ علماء کونسل مذہبی اتحاد کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر جے یو آئی کے رہنماؤں قاری شیر افضل،مولانا ڈاکٹر نصیرالدین سواتی،مولانا سلیم اللہ ترکی،مولانا لطیف اللہ چترالی،قاری غلام یٰسین،مولانا عطاء الحق اور دیگر نے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے رابطے بہت ضروری ہیں۔ مذہبی جماعتوں کی دوری سے امت مسلمہ کے دشمنوں کو ہی فائدہ ہو گا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close