پاکستان

صبر کا مطلب میدان کو چھوڑ کر بھاگنا نہیں بلکہ ثابت قدم رہنا ہے۔علامہ حسن ظفر نقوی

0_2 اسلام آباد(خصوصی نمائندہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید حسن ظفر نقوی نے مرکزی امام بارگاہ اثناءعشری اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا سانحہ عزاداری کےخلاف ایک گھناو¿نی سازش تھی جس کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینا اور ملک کو توڑنا مقصود تھا لیکن شیعہ اور سنی علماءنے  اس سازش کوناکام بنادیا۔انہوں نے ملک میں مکتب تشیعُ کے قتل عام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چودہ سو سالوں سے یزیدیوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح عزاداری کو ختم کیا جاسکے لیکن شیعیان علی  نے کبھی ہاتھ کٹا کر توکبھی اپنی قربانی دے کر عزاداری کو بچایا ہے۔ انہوں نے کراچی کے عزادارانِ امام حسین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا کہ عزداروں نے جناب حضرت عباس علمدار کی سنت پر عمل کرتے ہوئے نہ علم کو جھوکنے دیا اور نہ ہی جلوس چھوڑ کربھاگے بلکہ جلوس کو اپنی منزل مقصود پر پہنچایا۔ انھون نے کہا کہ امام علی  کا شیعہ مشکلات کے وقت ثابت قدم رہتا ہے اور ثابت قدمی ہی کامیابی اور کامرانی کاراستہ ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منبر و محراب سے کسی بھی مسلمان بھائی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے بلکہ وحدت کی فضاءکو پروان چڑھنا چاہیے۔ انہوں نے صبر کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صبر کا مطلب میدان کو چھوڑ کر بھاگنا نہیں بلکہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہی اصل صبر ہے۔انہوں نے کہاکہ کربلاءکا مطلب وقت کے یزید کے سامنے ڈٹ جانا ہے لہٰذا ہم سب ملکر وقت کے یزیدوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور عزاداری کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیںاور یہی ہمارا شرعی وظیفہ ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close