پاکستان

سپاہ صحابہ کے کرتوت بے نقاب، دوسرا جھنگ بنانیکی سازش ناکام

jhang5ساہیوال سرگودہا کی تحصیل اور جھنگ کے قریب واقع ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ جھنگ میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکتے ہی اسکے شعلوں کی لپیٹ آگیا تھا، لیکن ہر دفعہ علاقہ کے ذمہ دار افراد اس آگ کو بجھانے اور امن کی فضا برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ گذشتہ دنوں کالعدم سپاہ صحابہ نے ایک بار پھر، اہل سنت والجماعت کے کارکن، عمران عرف مانی کے قتل کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے پوری کوشش کی۔ زبردستی ہڑتال، ٹریفک بلاک اور کافر کافر کے نعرے لگائے گئے، لیکن کالعدم سپاہ صحابہ کی طرف سے اہل تشیع سے انتقال لینے کے نعروں کی گونج ابھی باقی تھی کہ سرگودہا پولیس نے عمران عرف مانی کے قتل میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا لیا۔ پولیس کے مطابق جس روز اہل سنت والجماعت کے کارکن کو قتل کیا گیا، اسی رات اسکے قتل میں ملوث طارق شاہ عرف ٹونی کو گرفتار کر لیا گیا تھا، لیکن چند روز تک اسکی گرفتاری صیغہ راز میں رکھی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد موجود تھے کہ قتل کی واردات سے چند روز پہلے مقتول عمران اور طارق شاہ عرف ٹونی کے درمیان تلخ کلامی اور سخت الفاظ میں دھمکیوں کا تبادلہ ہوا تھا، اس لیے پولیس نے طارق شاہ کو فی الفور گرفتار کر لیا، اس جھگڑے اور گرفتاری کی اطلاع اہلسنت والجماعت اور دیوبندی مسلک کے ذمہ داروں کو کر دی گئی تھی، جسکی وجہ سے انہوں نے مقتول کارکن کی نماز جنازہ کے بعد اعلان کیا کہ تمام لوگ خاموشی کیساتھ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں، جسکی تائید مفتی عبدالقدوس نے بھی کی، جو دیوبندی مسلک کے رہنما بھی ہیں اور پیر طریقت بھی۔

پولیس نے تفتیش کے بعد بتایا ہے کہ عمران مانی کے قتل میں گرفتار ملزم طارق شاہ کا تعلق ساہیوال کے نواحی علاقے سے ہے۔ طارق شاہ عرف ٹونی کا بیٹا جس سکول میں پڑھتا تھا، اسی سکول کی ایک ٹیچر کے پاس اس نے اپنے بیٹے کو ٹیوشن کے لیے بھیجا اور اس دوران خاتون ٹیچر اور طارق شاہ کے درمیان مراسم قائم ہوگئے۔ یاد رہے کہ اہل سنت والجماعت کا مقتول کارکن، خاتون ٹیچر اور قتل کے الزام میں گرفتار طارق عرف ٹونی شاہ ایک ہی مسلک اور نظریئے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹونی شاہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ میں نے لاکھوں روپے اس ٹیچر پر لوٹائے ہیں، لیکن کالعدم سپاہ صحابہ کے سرور جھنگوی، نصراللہ بلوچ اور مقتول عمران مانی کچھ عرصہ اس کے گاوں آئے اور مذکورہ خاتوں ٹیچر کے متعلق کہا کہ اسکے ہاں آنا جانا چھوڑ دو، ورنہ تمہیں مار دیں گے۔

طارق شاہ کا کہنا ہے کہ میں خود اہلسنت سے تعلق رکھتا ہوں، لیکن جب مجھے سپاہ صحابہ کے افراد نے دھمکیاں دیں تو میں نے سپاہ صحابہ سے ہی تعلق رکھنے والے اشرف بلوچ کو چھ لاکھ روپے میں خرید لیا، ساہیوال ہی کے نواحی گاوں صاحبہ بلوچاں سے تعلق رکھنے والے اشرف بلوچ نے چار لاکھ روپے لیکر عمران مانی اور بعد میں سرور جھنگوی اور نصر اللہ بلوچ کو سبق سیکھانے کی حامی بھرلی۔ صاحبہ بلوچاں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے رہنماوں کی سکونت اور پناہ گاہ ہونے کے حوالے سے مشہور ہے، لیکن وہاں کبھی پولیس کارروائی نہیں ہوئی، کیونکہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر رانا اقبال کیطرف سے انہیں ہمیشہ سرپرستی حاصل رہی ہے، جسکی وجہ سے پولیس ان پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ طارق شاہ اور اسکے چند ساتھی عمران عرف مانی کے قتل کی سازش کے الزام میں زیر حراست ہیں اور قتل میں مطلوب اشرف بلوچ مفرور ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے طارق شاہ نے اشرف بلوچ نامی جس شخص کے ذریعے اہل سنت والجماعت کے کارکن کو قتل کروایا ہے وہ مقتول کے مقدمہ قتل کی پیروی کرنے والے کالعدم سپاہ کے مقامی رہنما نصراللہ بلوچ کا چچا ہے۔ عمران عرف مانی کی تعزیت کے لیے آنے والے کالعدم سپاہ صحابہ کے عالم طارق کے متعلق یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اشرف بلوچ کے گاوں صاحبہ بلوچاں میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ دباو میں ہونے کے باوجود، پولیس اشرف بلوچ کو تاحال گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ مقتول عمران عرف مانی پہلے فوج میں ملازم تھا، جو لال مسجد آپریشن کے موقع پر ساتھی فوجیوں کو اس بات پر اکساتا رہا کہ ہمیں خواتین کیخلاف فوج کشی میں شامل نہیں ہونا چاہیے، یہ زیادتی ہے، اسکے بعد اس نے فوج چھوڑ دی، جسکی وجہ سے اسے کورٹ مارشل کے نتیجے میں سزا بھی ہوئی۔ سزا پوری ہونے کے بعد مقتول کچھ عرصہ گھر میں رہا اور پھر کئی سال تک اہل سنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کے پاس رہا۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما احمد لدھیانوی نے مقتول کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جھنگ سے اسلام آباد کی طرف آتے جاتے، اکثر اسکے گھر جاتے تھے۔ لیکن عمران عرف مانی کے قتل کی خبر معلوم ہونے کے باوجود وہ اسکے جنازے میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی احتجاج کی کال دی بلکہ صرف یہ مطالبہ دہرایا کہ قتل کی شفاف تفتیش کی جائے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مقتول عمران، سرگودہا کی تحصیل ساہی وال میں پان سگریٹ کا کھوکھا چلاتا تھا اور اہل سنت والجماعت کا فعال کارکن تھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق محرم الحرام کے علاوہ متعدد بار مقتول مخالف مسلک کے افراد کیخلاف گالم گلوچ اور بدزبانی کرتا تھا، مسلح رہتا تھا اور موقع ملنے پر مخالفین کو زدوکوب بھی کرتا تھا۔ اسی طرح اہل سنت والجماعت کے کارکن کے قتل سے چند روز قبل بھی سرور جھنگوی، نصراللہ بلوچ سمیت کالعدم سپاہ صحابہ کے مقامی افرادنے مسلم لیگ نون کے ایم این اے سردار شفقت حیات بلوچ کے بھتیجے کو گن پوائنٹ پر دھمکیاں دی تھیں اور زد وکوب کیا تھا، اس لیے سپاہ صحابہ کی طرف سے یہ جواز بنایا گیا کہ اس واقعہ کا بدلہ لینے کے لیے ہمارے کارکن کو قتل کروایا گیا ہے۔ اسکے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جھنگ میں جس دن شیخ اکرم کے حق میں اور احمد لدھیانوی کے خلاف عدالت نے نوٹیفیکشن جاری کیا، اسکے بعد تھانہ ساہی وال کے قریب واقع زین پیٹرولیم پر شیخ اکرم کی موجودگی کی اطلاع سننے کے بعد کالعدم سپاہ صحابہ کا مقتول کارکن عمران عرف مانی دیگر ساتھیوں کے ساتھ وہاں آیا اور شیخ اکرم کے سامنے انہیں گالیاں دیں، جس پر شیخ اکرم کے گارڈز نے اسے مارنے کی کوشش کی تو شیخ اکرم نے روک دیا اور کہا کہ میں خود اسے دیکھ لوں گا۔ ان دو وجوہات کو بہانہ بنا کر کالعدم سپاہ صحابہ نے عمران مانی کے قتل کو فرقہ وارانہ اور سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، لیکن سپاہ صحابہ کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکنوں سرور جھنگوی، نصراللہ بلوچ، نصیر معاویہ، ذیشان معاویہ اور مقتول عمران عرف مانی ہر وقت مسلح رہنے کے ساتھ ساتھ، لاری اڈا پر بھتہ وصولی کا کام بھی کرتے تھے۔ اس دوران جب بھی انکی لڑائی ہوتی وہ اسے فرقہ وارانہ رنگ دیتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مقامی تھانیدار کا کردار ہمیشہ غیر ذمہ دارانہ رہا ہے، مقامی تھانے دار افضال وڑائچ نے کالعدم سپاہ صحابہ کے نصراللہ بلوچ کو اپنا ٹاوٹ بنا رکھا ہے، جو اسے مختلف حیلوں بہانوں سے روزانہ کی بنیاد پر پیسے اکٹھے کرکے دیتا ہے اور پولیس اہل سنت والجماعت کے مذکورہ گروپ کے تمام جرائم سے چشم پوشی کرتی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ مسلم لیگ کے ایم این اے کے بھائی بھی مقامی تھانیدار سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں، اور ساتھ ہی وہ اہل تشیع کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے امن کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ جب بھی کالعدم سپاہ صحابہ کی طرف سے کسی واقعہ کو بنیاد بنا کر پولیس کو کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو پولیس حرکت میں آجاتی ہے اور اہل تشیع کے نوجوانوں کو گرفتار کر لیتی ہے، اگر وہ نو جوان مقامی ایم این اے کے بھائی کو راضی کر لیں تو انہیں رہائی ملتی ہے ورنہ تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ اسی طرح اہل تشیع اگر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر پولیس رپورٹ کروانا چاہیں تو اسکا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملتا، روایتی ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ حالیہ واقعہ کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔ جس رات کالعدم سپاہ صحابہ کا کارکن عمران عرف مانی ہلاک ہوا، اس سے اگلے دن علاقے میں زبردستی ہڑتال کروائی گئی اور اہل تشیع دکانوں کی توڑ بھوڑ بھی کی گئی، لیکن اسکی رپورٹ پولیس نے درج نہیں کی۔

اہل تشیع کی مقامی آبادی انجانے خوف میں مبتلا ہے، کیونکہ اہل سنت والجماعت کے کارکن کے قتل کی کہانی واشگاف ہونے کے باوجود ،سپاہ صحابہ کو رانا ثناءاللہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں اہل سنت والجماعت کے افراد معمول کے طور ہتھیار اٹھا کر گھومتے ہیں اور مخالف مسلک کے لوگوں کو ہراساں کرنے کا موقع نہیں جانے دیتے، جسکی وجہ سے اہل تشیع سورج ڈوبنے کے بعد گھروں سے نکلنے میں احتیاط کرتے ہیں۔ اہل تشیع کا کہنا ہے کہ نہ تو انتظامیہ اسکا نوٹس لینے کو تیار ہے اور نہ ہی شیعہ قوم کا نمائندہ ہونے کی دعویدار جماعتیں انکی پرسان حال ہیں، لیکن وہ امام حسینؑ کے نام اور کربلا کی راہ شہادت قبول کرنے کو تیار ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کی جانب سے مقامی صحافیوں کو حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرنے کی پاداش میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ لاہور میں شمس الرحمان معاویہ کے قتل میں لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہے کہ جہاں ثابت ہوچکا ہے کہ اہل سنت والجماعت کی صفوں میں اختیارات اور وسائل کی جنگ اپنا کام دکھا رہی ہے، یہ اختلاف اور جنگ نہ صرف وزیرستان میں نظر آ رہا ہے بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے دہشت گرد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوچکے ہیں۔ افسوسناک امر یہ کہ اس کا الزام اہل تشیع پر ڈالنے کی سازش کی جاتی ہے۔ اگر صوبائی حکومت سیاسی مصلحت چھوڑ دے تو کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی متشدد قوتوں کو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close