پاکستان

نا اہل حکمران ذاتی مفادات کی خاطر دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگاچکی ہے، علامہ باقر زیدی

pc mwm karachiکراچی (شیعت نیوز ) کراچی سمیت پاکستان بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین نے اس کے خلاف جمہ 23مئی کو یوم احتجاج و یوم مذمت منانے کا اعلان کردیا۔ ایم ڈبلیوایم کی قیادت نے نااہل وفاقی و صوبائی حکومتوں اوران ریاستی عناصرکو شیعہ نسل کشی سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا ذمے دار بھی قرار دیا جو ان کے مطابق کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔پاک محرم ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے رہنما حجت الاسلام علامہ باقر زیدی نے کہا کہ یوم احتجاج و یوم مذمت کی مناسبت سے جمعہ کے روز نماز جمعہ کے خطبات میں ، مساجد اور امام بارگاہوں کے اندر اور باہراجتماعات اور ملک بھر میں مختلف عوامی مقامات پر ریلیاں ، مظاہرے اور علامتی دھرنے ہوں گے۔ مجلس وحدت مسلمین کے قائد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اعلان کے مطابق شیعہ نسل کشی کے خلاف عوام ان میں بھرپور شرکت کریں گے اور قائدین ان اجتماعات سے خطاب فرمائیں گے۔علامہ مبشر حسن علی حسین نقوی اور مولانا علی انور جعفری کی موجودگی میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کراچی میں بیٹھ کر ایک رسمی اعلان کے ذریعے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو اس آپریشن کا کیپٹن بنایا لیکن ٹارگٹڈ آپریشن کے آٹھ مہینوں میں بھی کراچی میں نا امنی کا راج رہا، دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز، جرائم پیشہ افراد اور خاص طور پر کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولے بے جرم و خطا پاکستانی شہریوں کا قتل عام کرتے رہے۔آپریشن تو ان کو ٹارگٹ کرنے میں مکمل ناکام رہا لیکن وہ چن چن کر شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتے رہے اور تا حال کررہے ہیں۔ان 8مہینوں میں آج تک 120سے زائد شیعہ مسلمان ہدف بنا کر شہید کئے جاچکے ہیں۔ان شہدا ء میں شیعہ علماء و ذاکرین، ڈاکٹرز ، انجینیئرز، وکلاء، سرکاری افسران، معلمین اور تاجر سبھی شامل ہیں۔ خاص طور سے کاروباری حضرات اب کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں کا نیا ہدف ہیں۔یہ رجحان پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ کراچی کے کئی خاندانوں کی اقتصادی نسل کشی کے بھی مترادف ہے۔ ایک جانب شیعہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا خاص طور سے ہدف بنانے والے دہشت گرد ہیں۔اور دوسری جانب ایک نااہل و ناکام حکومت ہے جس کی بنیادی آئینی ذمے داری میں شہریوں کے جان و مال کی حفاظت بھی ایک اہم فریضے کے طو ر پر شامل ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں امن و امان پرایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا لیکن افسوس صد افسوس کہ اس اجلاس میں شیعہ مسلمانوں کی نمائندہ کسی جماعت کو یا رہنما کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ دہشت گردی کے شکار شیعہ مسلمانوں کو اس اجلاس میں نہ بلا کر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سعودی نمک خوار ہونے کا ثبوت دیا۔معلوم ہوا کہ ڈیڑھ ارب ڈالر سعودی تحفے کے بدلے میں انہیں مزید کون کون سی پاکستان دشمن خدمات انجام دینا ہوں گی۔شیعہ مسلمانوں کو امن و امان کے اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دے کر نواز لیگی حکومت نے قوم کو واضح پیغام دیا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں نہ کہ دہشت گردی کے شکار پاکستانیوں کے ساتھ۔یہ پیغام وہ شروع دن سے دیتے آرہے تھے کیونکہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بجائے ان سے مذاکرات کرکے ان کی شرائط مان کر انہیں دوبارہ پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا ایک اور موقع دینا چاہتے تھے۔امن کے نام پر وہ دہشت گردوں کو دہشت گردی کا ایک اور چانس دینا چاہتے ہیں۔لیکن نوازلیگی وفاقی اور صوبائی حکومتیں، خیبر پختونخواہ کی تحریک انصاف حکومت اورسندھ کی پی پی پی حکومت کو ہم تاریخ کا یہ سبق پڑھ کر سنادیتے ہیں اور یہی پیغام ریاستی اداروں کے لئے بھی ہے کہ ان دہشت گردوں سے چشم پوشی کرنا یا ان کی سرپرستی کرنا جو پاکستان کے باوفا اور غیرت مند شہریوں کے دامن میں آگ لگارہے ہیں، وہ یہ یاد رکھیں کہ یہ آگ ان کے گھروں تک بھی پہنچے گی۔ماضی قریب میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے والے بہت کم لوگ ہیں۔بے نظیر بھٹو بھی انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں، مفتی حسن جان دیوبندی کو بھی ان دہشت گردوں نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر قتل کیا۔انہوں نے بشیر بلور کو بھی نہیں بخشا۔مجلس وحدت مسلمین کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ذاتی مفادات کی خاطر ملک دشمنوں اور انسانیت دشمنوں کی سرپرستی کرنے کی جو مذموم پالیسی حکمرانوں نے اختیار کر رکھی ہے، اس سے ملکی سالمیت اور سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔سندھ حکومت کا سربراہ ایک نااہل شخص ہے اور بدقسمتی سے وہی نااہل شخص ہی وزیر داخلہ بھی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اس روش کو ترک کریں جس کے تحت دہشت گروں کو قوت اور طاقت مل رہی ہے۔ وہ کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کریں اور انہیں کسی بھی بہانے سے اجتماع کرنے کی اجازت نہ دیں۔ ذرائع ابلاغ ان کا بائیکاٹ کریں۔نااہل حکمران تبدیل کرکے اہل افراد کی تقرری عمل میں لائی جائے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی غیر جمہوری طریقے سے نااہل حکمرانوں کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ یا تو یہ حکمران آئینی ذمے داری نبھاتے ہوئے دہشت گردوں کو کچل کر رکھ دیں تاکہ ان کی اہلیت ثابت ہو ورنہ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ مطلوبہ آئینی اہلیت کے حامل افراد یہ ذمے داریاں سنبھالیں۔ ملک بھر اور خاص طور پر کراچی میں جاری شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی نے ہمارے قلوب کو رنجیدہ و غمزدہ کردیا ہے۔شہداء کے ورثاء ہماری جانب امید افزا نظروں سے دیکھتے ہیں۔ شہدائے اسلام ناب محمدی کے مقدس لہو سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ان کے قاتل کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں اور ان کے سرپرست نااہل حکمرانوں کی مذمت کی جائے اور ان کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close